خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: خلائی ٹیکنالوجی کے ایپلی کیشنز

प्रविष्टि तिथि: 13 AUG 2026 2:03PM by PIB Delhi

وزیراعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امورکے وزیر مملکت   ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران لانچ کیے گئے اہم مشنز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • چندریان-3، 14 جولائی 2023 کو لانچ کیا گیا۔ اس نے 23 اگست 2023 کو چاند کے قطب  جنوبی خطے کے قریب پہلی مرتبہ کامیاب سافٹ لینڈنگ کی اور محفوظ لینڈنگ، روور کی نقل و حرکت، گندھک کی موجودگی کا پتہ لگانے اور چاند کی سطح کی مٹی کے درجہ حرارت کی پیمائش کا مظاہرہ کیا۔
  • آدتیہ-ایل1، 2 ستمبر 2023 کو لانچ کیا گیا۔ یہ ہندوستان کی پہلی خلائی شمسی سیٹلائٹ ہے، جسے جنوری 2024 میں سورج اور زمین کے ایل1 مقام کے گرد ہالو مدار میں قائم کیا گیا۔ اس کا مقصد شمسی کورونا، فوٹو اسفیئر اور کروموسفیئر کا مطالعہ کرنا ہے۔
  • ایکس پوسَیٹ، یکم جنوری 2024 کو لانچ کیا گیا۔ یہ ہندوستان کا پہلا مخصوص ایکس رے پولاریمیٹری مشن ہے، جس کا مقصد انتہائی حالات میں روشن فلکیاتی ایکس رے ذرائع، بشمول پلسارز اور بلیک ہولز، کا مطالعہ کرنا ہے۔
  • اسپَیڈیکس  (اسپیس ڈاکنگ اکا تجربہ )، 30 دسمبر 2024 کو لانچ کیا گیا۔ اس نے خودکار ڈاکنگ اور اَن ڈاکنگ، بجلی کی منتقلی اور گردش کی حرکت کا کامیاب مظاہرہ کیا، جس کے ساتھ ہندوستان مستقبل کے قمری اور انسانی خلائی مشنز کے لیے خلائی ڈاکنگ ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔
  • نِسار ، 30 جولائی 2025 کو لانچ کیا گیا۔ یہ دنیا کا پہلا دوہری فریکوئنسی (ایل اور ایس بینڈ) ریڈار ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ہے، جسے ناسا اور اسرو نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ یہ مکمل پولرائمیٹرک اور انٹرفیرومیٹرک ڈیٹا کے ذریعے عالمی سطح پر مائیکرو ویو امیجنگ انجام دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
  • جی سیٹ-7 آر (سی ایم ایس-03) ہندوستان کا جدید ترین دیسی طور پر تیار کردہ فوجی مواصلاتی سیٹلائٹ ہے، جسے ہندوستانی بحریہ کی اسٹریٹجک مواصلاتی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران اسرو/محکمہ خلائی امور کی جانب سے خلائی ٹیکنالوجی کے اہم ایپلی کیشنزدرج ذیل ہیں:

  • زراعت: سیٹلائٹ پر مبنی فصلوں کے رقبے اور پیداوار کے تخمینے، فصلوں کی نگرانی اور مٹی میں نمی سے متعلق معلومات نے بڑی فصلوں اور مختلف ریاستوں میں قومی پروگراموں اور پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا(پی ایم ایف بی وائی) میں تعاون فراہم کیا۔ جیو کریسٹ، آلو کی فصل کی نگرانی کا نظام اورموسم پر مبنی جغرافیائی پیداوار کے تخمینے کو عملی شکل دی گئی۔
  • قدرتی آفات کا انتظام: سیلاب، مٹی کےتودے کھسکنے، طوفان، جنگلات میں آتش زدگی، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (جی ایل او ایف )اور خشک سالی کی تقریباً بروقت  سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی نے آفات سے نمٹنے کی کارروائیوں میں مدد کی۔ وزارت داخلہ ، قدرتی آفات سےنمٹنے والی قومی اتھارٹی ، ریاستوں، بھوون اور این ڈی ای ایم کے ذریعے سیلاب سے متعلق 890 سے زائد معلوماتی  پروڈکٹس اور مٹی کےتودے کھسکنے کے11 سے   زیادہ بڑے واقعات کے لیے الرٹس جاری کیے گئے۔

ہندوستان کا مٹی کےتودے کھسکنے  کے انتباہ کا نظام تیار کیا گیا ہے اور مٹی کےتودے کھسکنے کے خطرے، انسار پر مبنی ڈھلوان کی نقل و حرکت اور بارش کی حد کے پیمانوں کو استعمال کرتے ہوئے مٹی کےتودے کھسکنے کے الرٹس تیار کرنے کی تکنیکیں وضع کی جارہی ہیں۔ سیلاب کی ابتدائی وارننگ اور جنگلات میں آتش زدگی کے الرٹ کی خدمات بھی فعال ہیں، جن میں روزانہ آٹھ مشاہدات شامل ہیں اور ان کی تکمیل کا وقت 30 منٹ سے بھی کم ہے۔

 

  • حکمرانی:

جغرافیائی معلوماتی ٹیکنالوجیز نے یکت دھارا ، بھون پنچایت  اور این ڈی ای ایم کے ذریعے منریگا، وی ڈی سی- پی ایم کے ایس وائی ، پنچایت کے اثاثوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی اور آفات کے انتظام میں مدد فراہم کی۔ تقریباً 6.93 کروڑ منریگا اور 6.89 لاکھ واٹرشیڈ سرگرمیوں کی جیو ٹیگنگ کی جاچکی ہے۔

 ہنگامی حالات کے بندوبست سے متعلق قومی ڈیٹا بیس (این ڈی ای ایم 5.0 )جون 2024 میں جاری کیا گیا۔ یہ ایک میٹر سے بھی کم ریزولوشن والی سیٹلائٹ معلومات، کثیر لسانی ڈیٹا لیبلز اور تقریباً بر وقت آفات کے الرٹس فراہم کرتا ہے اور ایمرجنسی رسپانس کے لیے مربوط کنٹرول روم  کے بنیادی جغرافیائی معلوماتی حل کے طور پر کام کرتا ہے۔

خلائی ٹیکنالوجی نے اربن فریم سروے، قومی شاہراہوں کے لیے گرین کور انڈیکس، یو آئی ڈی اے آئی نیویگیشن، پراپرٹی ٹیکس میپنگ، شہروں میں پانی کے انتظام، امرت 2.0، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ٹیلی کام خدمات اور ڈیجیٹل پوسٹل ایڈریس  جیسے اقدامات میں معاونت فراہم کی ہے۔

  • سیٹلائٹ مواصلات: خلائی ٹیکنالوجی نے دیہی علاقوں تک رابطے کی سہولت پہنچا کر بھارت نیٹ اور ڈیجیٹل انڈیا کو تعاون فراہم کیا ہے۔ اس کے ذریعے براڈ بینڈ، محفوظ سرکاری اور اسٹریٹجک مواصلات، ڈی ٹی ایچ، وی سیٹ، دورانِ پرواز اور سمندری رابطے، ٹیلی ایجوکیشن، ٹیلی میڈیسن اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ جیسی خدمات کو ممکن بنایا جارہا ہے۔

مزید برآں، اِن اسپیس  اپنی مختلف پہل قدمیوں اور اسکیموں کے ذریعے غیر سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے زراعت، آفات کے انتظام اور حکمرانی جیسے اہم شعبوں میں خلائی ٹیکنالوجی کے جدید ایپلی کیشنز کو فروغ دے رہا ہے۔ جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی حل تیار کرنے کے لیے غیر سرکاری اداروں کی جانب سے نافذ کیے جانے والے درج ذیل زیادہ اثر رکھنے والے ایپلی کیشنز کی نشاندہی کی گئی ہے:

  1. ہندوستان بھر میں اہم فصلوں کے لیے کیڑوں اور بیماریوں کی پیش گوئی اور ابتدائی شناخت کے نظام۔
  2. مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ  پر مبنی فصلوں کے رقبے کے تخمینے، پیداوار کے جائزے اور پیداوار کی پیش گوئی کے نظام۔
  3. فصل بیمہ میں معاونت اور موسم سے متعلق مشاورتی نظام کی تیاری۔
  4. آبپاشی کی منصوبہ بندی اور انتظام کے لیے نِسار  کے ڈیٹا سے استفادہ کرتے ہوئے ایس اے آر پر مبنی زرعی ایپلی کیشنز۔
  5. ڈیموں کی ناکامی کے خطرات اور اس سے متعلقہ آفات کو کم کرنے کے لیے آبی ذخائر کے اطراف کی ڈھلوانوں کے استحکام کی نگرانی۔
  6. گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب  کی نگرانی اور ابتدائی وارننگ کے نظام۔
  7. میری ٹائم ڈومین اویئرنیس  کے حل کی تیاری۔
  8. بجلی کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے کی نگرانی اور رائٹ آف وے  کے انتظام کے لیے فیصلہ سازی میں معاونت کے نظام ۔
  9. شہری بنیادی ڈھانچے کے معلوماتی نظام اور اسمارٹ گورننس کے حل۔

 

اسرو کے آئندہ اہم مشنز میں گگن یان، وینس آربیٹر مشن، چندریان-4 مشن اور لونر پولر ایکسپلوریشن مشن/چندریان-5 شامل ہیں۔

گگن یان: ہندوستان کا پہلا انسانی خلائی پرواز پروگرام ہے، جس کا مقصد ہندوستانی خلابازوں کو زمین کے نچلے مدار  میں لے جاکر اور انہیں بحفاظت زمین پر واپس لاکر انسانی خلائی پرواز کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے۔

وینس آربیٹر مشن: وینس کی فضا، سطح اور ارضیاتی ماحول کا مطالعہ کرنے کے لیے ہندوستان کا پہلا مخصوص مشن ہے۔

چندریان-4 مشن: یہ چاند پر لینڈنگ اور قمری نمونے زمین پر واپس لانے کا مشن ہے۔ چندریان-4 مشن کا اہم مقصد چاند کی سطح پر کامیابی سے اترنا، روبوٹک بازو کے ذریعے چاند کی سطح سے نمونہ حاصل کرنا، چاند کی سطح سے دوبارہ پرواز کرنا اور جمع کیے گئے قمری ریگولتھ کو زمین پر واپس لانا ہے۔

لونر پولر ایکسپلوریشن (لوپیکس) /چندریان-5 مشن: چندریان-5 اسرو اور جاپان کی ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی کا مشترکہ مشن ہے۔ اس مشن کے تحت ایک لینڈر اور روور چاند کی سطح اور زیرِ سطح موجود وسائل کا موقع پر ہی مطالعہ کریں گے، جس سے مستقبل میں مسلسل قمری تحقیق میں مدد ملے گی۔

******

ش ح ۔ م ع۔ ج

UNO- 2006


(रिलीज़ आईडी: 2298932) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Tamil