وزارت آیوش
روایتی ادویات کے معیار اور ساکھ کو مستحکم بنانے کے لیے ‘‘ایک جڑی بوٹی، ایک معیار’’: مرکزی وزیر جناب پرتاپ راؤ جادھو
پی سی آئی ایم اینڈ ایچ اور آئی پی سی نے ‘‘ایک جڑی بوٹی، ایک معیار’’ اقدام کو آگے بڑھانے کے لیے مفاہمت نامہ کی تجدید کی
ادویاتی پودوں کے لیے یکساں سائنسی معیارات کو مضبوط بنانے کے لیے بین الوزارتی شراکت داری
تین سالہ تجدید شدہ لائحۂ عمل، پہلے مرحلے میں تیار کردہ 50 معیارات کی بنیاد پر مزید پیش رفت کرے گا
یہ مفاہمت نامہ، ادویاتی پودوں کے معیاری تعین کے لیے زیادہ مضبوط اور مربوط نظام قائم کرے گا: جناب پرتاپ راؤ جادھو
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 4:13PM by PIB Delhi
فارماکوپیا کمیشن برائے ہندوستانی طب و ہومیوپیتھی (پی سی آئی ایم اینڈ ایچ)، وزارتِ آیوش، اور انڈین فارماکوپیا کمیشن (آئی پی سی)، وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے آج ’’ایک جڑی بوٹی، ایک معیار‘‘ اقدام کے نفاذ کے لیے ایک مفاہمت نامہ کی تجدید کی۔
مفاہمت نامہ کا تبادلہ ڈاکٹر کوستھوبا اپادھیائے، ڈائریکٹر انچارج، پی سی آئی ایم اینڈ ایچ، اور ڈاکٹر وی۔ کالی سیلوان، سکریٹری و سائنسی ڈائریکٹر، آئی پی سی نے نئی دہلی کے کرتویہ بھون میں وزارتِ آیوش کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے وزیر مملکت، جناب پرتاپ راؤ گنپت راؤ جادھو، اور وزارتِ آیوش کے سکریٹری، ویدیا راجیش کوٹیکا کی معزز موجودگی میں کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب پرتاپ راؤ جادھو نے کہا کہ ہندوستان کے روایتی نظامِ طب—آیوروید، سدھا، سووا رگپا، یونانی اور ہومیوپیتھی—ملک کی قدیم علمی روایات اور ادویاتی پودوں کے بھرپور ورثے کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سائنسی بنیادوں پر وضع کردہ معیارات کے ذریعے ادویات اور ادویاتی پودوں کے معیار، خالص پن اور معیاری تعین کو یقینی بنانا روایتی ادویات کے معیار اور ساکھ کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
جناب پرتاپ راؤ جادھو نے‘‘ ایک جڑی بوٹی، ایک معیار’’ کے تصور کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد مختلف نظامہائے طب میں استعمال ہونے والے ایک ہی ادویاتی پودے کے لیے مشترکہ، واضح، سائنسی اور قابلِ اعتماد معیار وضع کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آہنگ معیارات سے متعلقہ فریقوں کے درمیان ممکنہ الجھن کو دور کرنے میں مدد ملے گی اور ادویاتی پودوں کے معیاری تعین کے لیے زیادہ مضبوط اور مربوط نظام قائم ہوگا۔
جناب جادھو نے مزید کہا کہ اس تعاون کے تحت تیار کیے جانے والے معیارات میں ہندوستانی معیارات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معیار کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے مطابق ہندوستانی معیارات کو مزید مضبوط بنانے سے ہندوستانی ادویاتی پودوں اور مصنوعات کے معیار اور قابلِ اعتماد ہونے میں اضافہ ہوگا اور انہیں بین الاقوامی سطح پر وسیع تر قبولیت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی اجاگر کیا کہ مشترکہ اور واضح معیارات سے کاروبار کرنے میں آسانی پیدا ہوگی، کیونکہ اس سے صنعت کاروں، برآمد کنندگان، جانچ لیبارٹریوں، ضابطہ کار اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے طریقۂ کار مزید آسان، شفاف اور مؤثر بنیں گے۔
مرکزی وزیر جناب جادھو نے پی سی آئی ایم اینڈ ایچ اور آئی پی سی کی قیادت، سائنس دانوں اور افسران کو اس اقدام کے لیے مسلسل کوششوں پر مبارک باد دی اور اعتماد ظاہر کیا کہ تین سالہ تجدید شدہ مفاہمت نامہ ادویاتی پودوں کے معیاری تعین کے عمل کو نئی رفتار فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بین وزارتی تعاون اس بات کی عمدہ مثال ہے کہ وزارتوں اور اداروں کی مربوط کوششیں ادویاتی پودوں اور روایتی ادویات کے معیاری تعین کو کس طرح مضبوط بنا سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام ہندوستان کے بھرپور حیاتیاتی تنوع اور روایتی طبی ورثے کے تحفظ میں معاون ثابت ہوگا اور ادویاتی پودوں، روایتی ادویات اور ان کے معیار کے حوالے سے ایک قابلِ اعتماد عالمی معیار متعین کرنے والے ملک کے طور پر ہندوستان کی حیثیت کو مزید مستحکم کرے گا۔
تجدید شدہ م اس فاہمت نامہ کے تحت بین وزارتی تعاون مزید تین سال تک جاری رہے گا، جس کا مقصد آیوروید، سدھا، سووا ۔رگپا، یونانی اور ہومیوپیتھی نظامِ طب میں استعمال ہونے والی نباتاتی ماخذ کی واحد ادویات کے لیے یکساں، قابلِ اعتماد اور سائنسی طور پر مضبوط معیارِ حفظانِ صحت وضع کرنا ہے۔ تجدید شدہ شراکت داری کے تحت تیار کیے جانے والے معیارات میں ہندوستانی معیارات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معیار کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اس سے عالمی معیارات کے مطابق ہندوستانی معیارات کو مزید مضبوط بنانے، نیز بین الاقوامی منڈیوں میں ہندوستانی ادویاتی پودوں اور مصنوعات کے معیار اور ساکھ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
یہ تعاون 2022 میں شروع کئے گئے مفاہمت نامہ کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس کا مقصد ‘‘ایک جڑی بوٹی، ایک معیار’’ کے تصور کو فروغ دینا اور اسے عملی جامہ پہنانا تھا۔ اس کے تحت پہلے مرحلے میں ادویاتی پودوں کے 50 معیارات کامیابی سے تیار کیے گئے۔ تجدید شدہ شراکت داری کے ذریعے اس نظام کو مزید وسعت دی جائے گی اور مختلف روایتی نظامہائے طب میں استعمال ہونے والے ایک ہی ادویاتی پودے کے لیے معیارات کو ہم آہنگ کیا جائے گا۔ اس سے متعلقہ فریقوں کے درمیان ابہام کم ہوگا اور معیاری تعین کا زیادہ مضبوط اور مربوط نظام قائم ہوگا۔ پی سی آئی ایم اینڈ ایچ اور آئی پی سی کی سائنسی اور معیارات وضع کرنے کی مہارت کو یکجا کرنے سے یہ اقدام معیار کی یقین دہانی کو مضبوط بنانے، کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے اور ہندوستان کے بھرپور حیاتیاتی تنوع اور روایتی طبی ورثے کے تحفظ میں معاون ثابت ہوگا، جبکہ عالمی سطح پر ادویاتی معیارات وضع کرنے کے شعبے میں ہندوستان کی پوزیشن بھی مزید مستحکم ہوگی۔
مفاہمت نامہ کی تجدید سے دونوں اداروں کے اس عزم کی تجدید ہوتی ہے کہ نباتاتی معیارات کے لیے ہم آہنگ طریقۂ کار اختیار کرتے ہوئے ہندوستان کے روایتی نظامہائے طب میں سائنسی معیار، اعلیٰ معیار، قابلِ اعتماد ہونے اور عالمی قبولیت کو فروغ دیا جائے۔ توقع ہے کہ یہ شراکت داری ادویاتی پودوں، روایتی ادویات اور ان کے معیار کے حوالے سے ایک قابلِ اعتماد عالمی معیار متعین کرنے والے ملک کے طور پر ہندوستان کی حیثیت کو مزید مستحکم کرے گی۔




********
ش ح۔ ش ب ۔رض
U-1990
(रिलीज़ आईडी: 2298771)
आगंतुक पटल : 9