صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت جناب نڈا نے ٹی بی مکت  بھارت کے لئے کی جا رہی کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے ممبران  پارلیمنٹ سے بات چیت کی


ارکان پارلیمان نے ٹی بی کے خاتمے کے لیے بیداری مہم تیز کرنے، نگرانی مضبوط بنانے اور لوگوں کو متحرک کرنے کے عزم کا اظہار کیا

جناب نڈا نے ٹی بی کے خاتمے کی رفتار تیز کرنے کے لیے پارلیمانی سطح پر مسلسل شمولیت اور ضلع سطح پر مؤثر نگرانی پر زور دیا

جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے ارکان پارلیمان نے ٹی بی کی خدمات کو آخری سطح تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے متحد ہو کر کام کرنے کا عزم کیا

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 8:15PM by PIB Delhi

صحت و خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا نے آج پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے موقع پر جھارکھنڈ اور اڈیشہ کےممبران پارلیمنٹ سے بات چیت کی۔ یہ بات چیت ٹی بی مکت بھارت کے لئے کی جا رہی  کوششوں کو مزید تیز کرنے حکومت کی جانب سے ارکانِ پارلیمان کے ساتھ مسلسل رابطے کے تحت کی گئی۔مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکلز و کھاد محترمہ انوپریا پٹیل اور مرکزی وزیر مملکت برائے دفاع جناب سنجے سیٹھ نے بھی اس بات چیت میں شرکت کی۔

 

اس بات چیت کا انعقاد ‘‘ٹی بی مکت بھارت کی سمت میں ارکانِ پارلیمنٹ کا عزم’’کے موضوع کے تحت کیا گیا، جس میں دونوں ریاستوں سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی لائن سے بالاتر ہو کر شرکت کی۔یہ میٹنگ سیاسی قیادت، عوامی شمولیت اور ٹی بی سے متعلق خدمات کو آخری سطح تک پہنچانے کے ذریعے تپِ دق کے خلاف جدوجہد کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاس رہی۔

اس موقع پر حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی ‘‘100 روزہ ٹی بی مکت بھارت  ابھیان’’ کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ ٹی بی کے خاتمے کی کوششوں میں تیزی لانے کے لیے یہ مہم دو مرحلوں میں نافذ کی گئی تھی۔ اس کا دوسرا مرحلہ 24 مارچ 2026 کو شروع کیا گیا، جس کے تحت ملک بھر کے تقریباً 1.58 لاکھ زیادہ خطرے والے گاؤں  اور شہری وارڈوں کو شامل کیا گیا اور یہ مہم جولائی 2026 میں اختتام پذیر ہوئی۔

مہم کے دوران 2.2 کروڑ سے زائد حساس  اور زیادہ خطرے سے دوچار افراد کی جانچ کی گئی، 7 لاکھ سے زیادہ تپ دق کے نئے مریضوں کی نشاندہی ہوئی اور ٹی بی کے 1.97 لاکھ ایسے معاملوں  کا پتہ چلا جن میں کوئی ظاہری علامت موجود نہیں تھی،ورنہ ممکن تھا کہ  ایسے معاملےطبی جانچ سے محروم رہ جاتے۔ مریضوں کی فعال اور وسیع پیمانے پر پہچان کرنے کے اس طریقۂ کار نے خاص طور پر حساس  اور زیادہ خطرے سے دوچار آبادی میں بروقت اور پیشگی جانچ کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔

 

عالمی ادارۂ صحت کی عالمی ٹی بی رپورٹ 2025 کے مطابق، بھارت نےتپ دق کے خاتمے کی سمت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ 2015 سے 2024 کے درمیان تپ دق کے واقعات میں 21 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو عالمی سطح پر ہونے والی کمی کی رفتار سے تقریباً دوگنی ہے۔ اس کے ساتھ ہی علاج کی کامیابی کی شرح 92 فیصد رہی۔ تپ دق  کی جلد تشخیص، بروقت علاج اور مریضوں کو ضروری معاونت فراہم کرنے پر خصوصی توجہ اس پیش رفت کو برقرار رکھنے میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔

جھارکھنڈ اور اڈیشہ میں ٹی بی کے خطرے کے کئی عوامل موجود ہونے کے باعث یہ دونوں ریاستیں بدستور خصوصی توجہ کا مرکز ہیں۔ ان عوامل میں کان کنی اور صنعتی علاقے، کام کے دوران دھول سے متاثر ہونا، مہاجر اور قبائلی آبادی، نقص تغذیہ، شہری جھگی  بستیاں، دیگر بیماریوں کا ساتھ ہونا، تمباکو اور شراب کا استعمال، نیز غیر رسمی مزدور بستیاں اور محنت کشوں کی رہائش گاہیں شامل ہیں۔

100 روزہ مہم کے دوران جھارکھنڈ میں تپ دق کے 16,754 مریض سامنے آئے، جن میں 4,574 ایسے مریض بھی شامل تھے جن میں تپ دق کی کوئی ظاہری علامت نہیں تھی، جبکہ اڈیشہ میں 15,268 مریضوں کی شناخت کی گئی، جن میں 3,514 ایسے مریض شامل تھے جن میں  تپ دق  کی کوئی ظاہری علامت نہیں تھی۔

 

 

ریاستوں نے تپ دق کے لحاظ سے حساس اور زیادہ خطرے سے دوچار آبادی تک اسکریننگ اور علاج کی سہولیات پہنچانے کے لیے ہدف شدہ حکمت عملیاں اختیار کیں۔ اس مقصد کے لیے شہری کچی بستیوں، تعمیراتی مقامات، مہاجر مزدوروں کی بستیوں اور کان کنی کے علاقوں میں آیوشمان آروگیہ شیوروں کے ذریعے جانچ اور نگہداشت کی سہولیات لوگوں کے قریب پہنچائی گئیں۔

بھارت کے تپ دق کے خاتمے کے پروگرام میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ان کوششوں کو مزید مؤثر بنایا ہے۔ ایک دہائی قبل چند سو مشینوں کے مقابلے میں مالیکیولر  جانچ کی سہولت اب بڑھ کر 9,000 سے زیادہ مشینوں تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تقریباً 3,000 مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے آراستہ ہینڈ ہیلڈ ایکس رے یونٹ اب فیلڈ میں تپ دق  کے فعال طور پر نئے مریضوں کی تلاش میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

جناب نڈا نے ٹی بی مکت بھارت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے مسلسل سیاسی اور انتظامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تپ دق کے نئے مریضوں کی نشاندہی کے لیے اختراعی طریقوں، بروقت تشخیص، مریض پر مرکوز نگہداشت اور عوامی شمولیت کو بھارت کی تیز رفتارتپ دق کے خاتمے کی حکمتِ عملی کے اہم ستون قرار دیا۔

 

انہوں نے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے پارلیمانی حلقوں میں فعال کردار ادا کریں، ضلع کلکٹروں اور صحت مراکز کے ساتھ رابطہ رکھتے ہوئے تپ دق  سے متعلق خدمات کی دستیابی اور معیار کا جائزہ لیں اور ٹی بی کی بروقت تشخیص اور علاج کی کوششوں میں تعاون کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام سے مسلسل رابطہ اور سماجی سطح پر لوگوں کو متحرک کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں، تاکہ تپ دق  کا خاتمہ ایک مستقل جن آندولن یعنی عوامی تحریک بن سکے۔

میٹنگ میں شریک جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے ارکان پارلیمان نے تپ دق  کے بارے میں بیداری بڑھانے اور اس سے وابستہ سماجی بدنامی کو کم کرنے کی مہمات کو مزید مؤثر بنانے، بالخصوص تپ دق سے لحاظ سے حساس اور زیادہ خطرے سے دوچار آبادی میں تپ دق کی جلد تشخیص کے لیے نی-کشے شیوروں کو فروغ دینے اور ضلع و بلاک کی سطح پر ٹی بی سے متعلق خدمات کی مؤثر نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ارکان پارلیمنٹ نے تپ دق  سے متاثرہ افراد کو غذائی، نفسیاتی اور روزگار سے متعلق معاونت فراہم کرنے کے لیے عوام اور مختلف تنظیموں کو متحرک کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا، جس سے ٹی بی کے علاج اور نگہداشت میں مریض پر مرکوز طریقۂ کار کو مزید تقویت ملے گی۔

یہ بات چیت ان مشاورتی اجلاسوں کے سلسلے کا حصہ ہے جو مرکزی وزیر صحت مختلف ریاستوں کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ منعقد کر رہے ہیں، تاکہ اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو مضبوط بنایا جا سکے اور ٹی بی مکت  بھارت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے حکومت کے تمام شعبوں کو ایک ساتھ مؤثر انداز میں کام کرنے کے طریقۂ کار کو فروغ دیا جا سکے۔

 

جناب نڈا نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ارکان پارلیمنٹ، ریاستی اور ضلعی انتظامیہ، صحت کارکنوں اور عوام کی مسلسل شمولیت سے تپ دق کے خاتمے کی جانب پیش رفت مزید تیز ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 100 روزہ مہم کا اختتام  زمینی سطح پر مزید مؤثر اور مسلسل اقدامات کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

وزیر صحت محترمہ پنیہ سلیلا سریواستوا نے جھارکھنڈ اور اڈیشہ میں تپ دق کے لحاظ سے حساس  اور ترجیحی آبادیوں میں تپ دق  سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی خصوصی کوششوں کو اجاگر کیا۔ ان میں کان کنی اور صنعتی علاقوں میں رہنے والی آبادی، مہاجر اور قبائلی برادریاں، شہری بستیاں اور نقص تغذیہ و دیگر بیماریوں جیسے عوامل کے باعث اضافی مدد کی ضرورت رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ انہوں نے دونوں ریاستوں میں تپ دق کے خاتمے کی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہدف شدہ جانچ، بروقت تشخیص اور مریضوں کی ضرورتوں کے مطابق قابل رسائی نگہداشت کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے بتایا کہ 100 روزہ مہم کے دوران جھارکھنڈ میں تپ دق کے 16,754 مریض سامنے آئے، جن میں 4,574 ایسے مریض شامل تھے جن میں تپ دق کی کوئی ظاہری علامت نہیں تھی، جبکہ اڈیشہ میں 15,268 مریضوں کی  پہچان کی گئی، جن میں 3,514 ایسے مریض شامل تھے جن میں کوئی ظاہری علامت موجود نہیں تھی۔ انہوں نے تپ دق کے خاتمے کی جانب جاری پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے حساس اور زیادہ خطرے سے دوچار آبادی میں مسلسل وسیع پیمانے پر جانچ اور ہدف شدہ  اقدامات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

 

وزارت صحت و خاندانی بہبود کی ایڈیشنل سکریٹری محترمہ ارادھنا پٹنائک نے بھارت میں تپ دق کے مریضوں کی فعال طور پر پہچان کرنے  کی کوششوں کو تقویت دینے والی جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دہائی قبل چند سو مشینوں کے مقابلے میں بھارت میں مالیکیولر جانچ کی صلاحیت اب بڑھ کر 9,000 سے زیادہ مشینوں تک پہنچ گئی ہے، جبکہ فیلڈ میں تعینات تقریباً 3,000 مصنوعی ذہانت سے  آراستہ  ہینڈ ہیلڈ  ایکس رے یونٹ بھی اس عمل میں معاونت کر رہے ہیں۔

انہوں نے تپ دق  سے متعلق اہم اشاریوں، جن میں پت دق کے مریضوں کی پہچان، علاج کی کامیابی، احتیاطی تدابیر  کی کوریج اور تپ دق  کے خاتمے کے قومی سطح پر مقررہ اہداف کے حصول میں پیش رفت شامل ہے، کے حوالے سے جھارکھنڈ اور اڈیشہ کی کارکردگی کا جائزہ بھی پیش کیا۔

محترمہ پٹنائک نے بتایا کہ 100 روزہ مہم کے دوران دونوں ریاستوں نے حساس  اور زیادہ خطرے سے دوچار آبادی تک جانچ اور نگہداشت کی سہولیات پہنچانے کے لیے ہدف شدہ حکمت عملیاں اختیار کیں، جن میں شہری جھگی  بستیوں، تعمیراتی مقامات، مہاجر مزدوروں کی بستیوں اور کان کنی کے علاقوں میں آیوشمان آروگیہ شیوروں کا انعقاد بھی شامل تھا۔ ان اقدامات سے تپ دق کے مریضوں کی فعال طور پر تلاش کو مزید مضبوط بنانے اور ان برادریوں تک تپ دق  کی تشخیص اور علاج کی سہولیات پہنچانے میں مدد ملی، جنہیں بصورت دیگر تشخیص اور علاج تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ارکان پارلیمنٹ، ریاستی اور ضلع انتظامیہ، صحت کارکنوں اور عوام کے اجتماعی عزم سے ملک میں ٹی بی مکت بھارت کے ہدف کے حصول کے لیے قومی عزم کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔

 

******************

ش ح۔ م ش۔ ج ا

 (U: 1998)

                


(रिलीज़ आईडी: 2298768) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Punjabi , Odia