راجیہ سبھا سکریٹیریٹ
نقل و حمل، سیاحت اور ثقافت سے متعلق محکمہ جاتی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی 393ویں رپورٹ کے تعلق سے پریس ریلیز
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 10:04PM by PIB Delhi
راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ جناب سنجے کمار جھا کی صدارت میں نقل و حمل، سیاحت اور ثقافت سے متعلق محکمہ جاتی پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے ’مخطوطے سے مشن تک: مصنوعی ذہانت کے دور میں ہندوستان کے ثقافتی ورثے کا تحفظ، نقشہ سازی اور پائیدار فروغ‘کے موضوع پر اپنی 393ویں رپورٹ 12 اگست 2026 ، بروزبدھ کو پیش کی۔
2.کمیٹی نے 11 اگست 2026 کو اس رپورٹ کو منظور کیا۔ اس رپورٹ میں کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ اہم سفارشات اور مشاہدات منسلک ہیں۔
مکمل رپورٹ راجیہ سبھا کی ویب سائٹ https://sansad.in/rs پر → کمیٹیاں → محکمہ سے متعلق راجیہ سبھا → نقل و حمل، سیاحت اور ثقافت سے متعلق کمیٹی → رپورٹ کے تحت دستیاب ہے۔
نقل و حمل، سیاحت اور ثقافت سے متعلق محکمہ جاتی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تین 393ویں رپورٹ
سفارشات کا خلاصہ
- مخطوطات کے ماہرین، سائنس دانوں اور مخطوطات کے محافظین سے مشاورت کے ذریعے ڈیجیٹلائزیشن کے معیار کو ایک مکمل دستاویزی ریکارڈ کے معیار کے طور پر وسعت دی جائے اور معاہدوں کے مکمل طور پر نافذ ہونے سے پہلے اسے عملی جامہ پہنایا جائے۔ اس میں خراب اور دوبارہ تحریر کیے گئے صفحات کے لیے کثیر طیفی بحالی کا مرحلہ، تاڑ کے پتوں پر تحریر شدہ مخطوطات کے لیے سطحی ابھار کی عکس بندی کو معیار بنانا، اہم مخطوطات کے لیے مواد کا ریکارڈ، اور ہندوستانی ایکسیلیریٹر لیبارٹریوں میں مستند تاریخ گزاری کا طریقۂ کار شامل ہو، جس میں تاریخ کے تعین میں ممکنہ فرق کی حدود کو ریکارڈ کے اصل متن میں واضح کیا جائے۔ (پیراگراف 5.1.2)
- قومی سائنسی محکموں کے ساتھ مل کر ایسے مخطوطات کو پڑھنے کے لیے تحقیق اور چیلنج پروگرام شروع کیا جائے، جنہیں کھولا نہیں جا سکتا۔ اس کا آغاز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور آتش زدگی سے متاثرہ مخطوطات کے ذخیرے کی فہرست سازی سے کیا جائے۔ (پیراگراف 5.2.2)
- مخطوطات پڑھنے کے لیے ملک گیر افرادی قوت تیار کی جائے: ’ اکشر متر‘شہری پلیٹ فارم قائم کیا جائے، جس میں ہر صفحے کی دو آزادانہ جانچ اور معاونین کے مستقل طور پر درج کیے جانے والے نام کی سہولت ہو؛ یونیورسٹیوں کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جائے جس کے تحت غیر مدون مخطوطات کو مقالہ جاتی نسخوں کی شکل دی جائے اور انہیں اعلیٰ ترین درجے کی تحقیقی کاوش کے طور پر تسلیم کیا جائے؛ اور ترجیحی فہرستیں شائع کی جائیں تاکہ کوششیں زیادہ اہم متون کی جانب مرکوز ہوں۔ (پیراگراف 5.3.2)
- سرکاری مالی اعانت سے تیار کردہ ہر صفحے اور تصدیق شدہ نقلِ متن کو تربیتی صفحات کی ایک کھلی قومی لائبریری کے طور پر جاری کیا جائے، جس کے لیے سالانہ عوامی معیار مقرر کیا جائے، اور وفاقی نوعیت کی مشین لرننگ کا استعمال کیا جائے تاکہ محدود رسائی والے مجموعے بھی اس میں اپنا حصہ ڈال سکیں اور ان کے مخطوطات کی تصاویر محفوظ تحویل سے باہر نہ جائیں۔ (پیراگراف 5.4.2)
- مخطوطات میں شامل افراد، مقامات اور تصانیف کا کھلا اشاریہ، اس کی بنیاد پر ہندوستانی علم کا زمانی نقشہ اور کاتبوں کے خطِ تحریر کا رجسٹر شائع کرنا۔۔ (پیراگراف 5.5.2)
- قومی سائنسی اداروں کے تعاون سے مخطوطات کے ذخیرے میں موجود فلکیاتی اور موسمی مشاہدات کو ہندوستانی سائنس کے لیے کھلے قومی ڈیٹا سیٹس کی شکل میں مرتب کیا جائے۔ (پیراگراف 5.6.2)
- بکھرے ہوئے مخطوطاتی ذخیرے کو دوبارہ یکجا کرنے کے لیے مستقل پروگرام تشکیل دیا جائے: کئی مقاما ت پر موجود اور بیرونِ ملک موجود ذخیروں کی مشترکہ فہرست تیار کی جائے؛ تصاویر کا تبادلہ کیا جائے؛ صفحات اور کاتبوں کے خطِ تحریر کو کمپیوٹر کے ذریعے ملاتے ہوئے مخطوطات کو ورچوئل طور پر دوبارہ یکجا کیا جائے؛ بیرون ملک موجود ہندوستانی مخطوطات کی شناخت کی جائے، ان کی ڈیجیٹل نقول حاصل کی جائیں اور جہاں اصل مخطوطات کی واپسی ممکن ہو، انہیں واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ دوبارہ یکجا کیے گئے قیمتی ذخیرے کو ’ میموری آف دی ورلڈ‘رجسٹر میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی جائے۔ (پیراگراف 5.7.2)
- آیوش کی وزارت کے ساتھ مل کر ایسا تطبیقی نظام تیار کیا جائے جو مخطوطات میں درج فارمولوں کو قومی اصطلاحات اور قانونی دواسازی کے سرکاری مجموعے سے مربوط کرے۔ (پیراگراف 5.8.2)
- مخطوطات کے ذخیرے کے اعتماد پر مبنی نظام کا ڈھانچہ تیار کیا جائے: بین الاقوامی تصویری باہمی مطابقت کے فریم ورک کو رسائی کا معیار بنایا جائے؛ کمیونٹی رسائی کے ایسے ضوابط وضع کیے جائیں ،جن کے تحت ہر نگہبان ہر مخطوطے کے بارے میں الگ الگ فیصلہ کر سکے کہ کیا دکھایا جائے؛ اور مشینی طور پر تیار کی گئی ہر نقل میں ایک مستقل شناختی سند شامل کی جائے، جبکہ وزارت بڑی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کمپنیوں کے ساتھ اس سند کے تحفظ کی وکالت کرے۔ (پیراگراف 5.9.2)
- متحرک ورثے کا تحفظ: کافی کم تعداد میں باقی رہ جانے والے زبانی روایت کے حاملین سے آغاز کرتے ہوئےہندوستانی زبانوں میں آواز کی شناخت کے ذریعے زبانی ورثے کو ریکارڈ کیا جائے؛ ہر ڈیجیٹل طور پر درج رسم الخط کے لیے فونٹس، کی بورڈز اور آوازیں تیار کی جائیں، جنہیں مفت ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے اور بڑے آپریٹنگ سسٹمز کے لیے فراہم کیا جائے؛ اور آخری ماہرینِ فن کی تکنیک کو سہ جہتی شکل میں ریکارڈ کیا جائے، جس کے ساتھ ان کی ذاتی شناخت، تاحیات وظیفہ اور جانشینوں کی ذمہ داریاں بھی درج ہوں۔ (پیراگراف 5.10.2)
- نقشے کو عملی استعمال میں لانا: پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان اور ضلعی منصوبہ بندی میں ثقافتی اور مخطوطاتی معلومات کی تہوں کو شامل کرنا؛ ان کی بنیاد پر علمی سیاحتی سرکٹس تیار کرنا؛ اور نقشے سے منسلک صداقت کی اسناد کے ساتھ اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس کے ذریعے نقشہ شدہ دستکاروں کو تجارت سے جوڑنا۔ (پیراگراف 5.11.2)
12. نگہداشت کا جامع نظام قائم کیا جائے: خطرے سے دوچار مخطوطات کا مشینی طور پر درجہ بند رجسٹر تیار کیا جائے، جس کے ساتھ محافظین کے لیے تحفظاتی کٹس اور منسلک ریکارڈنگ آلات فراہم کیے جائیں؛ ضلعی سطح کے بچاؤ مراکز کو ثقافتی ورثے کی ہنگامی ابتدائی امداد کی تربیت کے ساتھ قومی انتباہی بنیادی ڈھانچے سے منسلک کیا جائے؛ اور تقسیم شدہ نقول اور صدیوں تک محفوظ رہنے والے ذرائع پر مشتمل گہرے محفوظ ذخیرے کے لیے ایک باقاعدہ تحفظاتی ڈھانچہ شائع کیا جائے۔ (پیراگراف 5.12.2)
****
ش ح۔م ع ن۔ ع د
U. No .1993
(रिलीज़ आईडी: 2298741)
आगंतुक पटल : 7