ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
صنعت کے لیے ضروری ہنرمندی تربیت
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 3:35PM by PIB Delhi
حکومت ہند نے اگست 2016 میں ملک بھر میں اپرنٹس شپ ٹریننگ کو فروغ دینے اور اپرنٹسز کی شمولیت کو بڑھانے کے مقصد سے نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم کا آغاز کیا تھا۔ سال 24-2023 سے یہ اسکیم نیپس-2 کے طور پر جاری ہے۔
اپرنٹس شپ ٹریننگ اصل کام کے ماحول میں دی جاتی ہے، جس کے لیے شریک اداروں بشمول ٹیکنالوجی کمپنیوں میں دستیاب تربیتی سہولیات کا استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ عملی سیکھنے اور صنعتی تجربے کو ممکن بنایا جا سکے۔
صنعتوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی کمپنیوں کے ساتھ باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے، اپرنٹس شپ ٹریننگ اپرنٹسز ایکٹ، 1961 کی دفعات کے تحت شریک اداروں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔ یہ اسکیم نیشنل اپرنٹس شپ پورٹل (www.apprenticeshipindia.gov.in)، ریجنل ڈائریکٹوریٹ آف اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ (آر ڈی ایس ڈی ایز)، اسٹیٹ اپرنٹس شپ ایڈوائزرز (ایس اے اے) اور پینل میں شامل تھرڈ پارٹی ایگریگیٹرز (ٹی پی اے) کے تعاون سے صنعتوں کی زیر نگرانی عملی تربیت کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
ملک بھر میں صنعت کے تقاضوں کے مطابق ہنر مندی کی تربیت فراہم کرنے کے لیے صنعتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کی خاطر، ایم ایس ڈی ای کی جانب سے درج ذیل ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں:
i۔ نیشنل کونسل فار ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ : این سی وی ای ٹی کو ایک جامع ریگولیٹر کے طور پر قائم کیا گیا ہے جو ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (ٹی وی ای ٹی) کے شعبے میں معیار کو یقینی بنانے کے لیے قوانین اور ضوابط مرتب کرتا ہے۔
ii۔ قابلیت کی تیاری اور صنعتی توثیق: این سی وی ای ٹی سے منظور شدہ 'ایوارڈنگ باڈیز' سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ صنعت کی مانگ کے مطابق کورسز اور تعلیمی قابلیتیں تیار کریں، انہیں "نیشنل کلاسیفیکیشن آف آکیوپیشنز، 2015" کے تحت طے شدہ پیشوں کے مطابق ترتیب دیں اور صنعتوں سے ان کی توثیق حاصل کریں۔
iii۔ 36 سیکٹر اسکل کونسلز : متعلقہ شعبوں کے صنعتی رہنماؤں کی زیر نگرانی 36 سیکٹر اسکل کونسلز قائم کی گئی ہیں، جو اپنے اپنے شعبوں میں ہنر مندی کے فروغ کی ضروریات کی نشاندہی کرتی ہیں اور ساتھ ہی مہارت کی اہلیت کے معیارات کا تعین کرتی ہیں۔
iv۔ فلیکسی ایم او یو اور ڈیول سسٹم آف ٹریننگ : ایم ایس ڈی ای کے زیرِ سایہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ "فلیکسی ایم او یو اسکیم" اور "ڈیول سسٹم آف ٹریننگ" پر عمل درآمد کر رہا ہے، جن کا مقصد آئی ٹی آئی کے طلبہ کو ان کی ضروریات کے مطابق صنعتی ماحول میں تربیت فراہم کرنا ہے۔
v۔ پی ایم کے وی وائی کے تحت فیوچر اسکلز: پی ایم کے وی وائی کے تحت، نئی نسل/مستقبل کے ہنر کے جاب رولز کو خاص طور پر انڈسٹری 4.0 کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا گیا ہے، جس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس/مشین لرننگ، روبوٹکس، میکاٹرونکس، اور ڈرون ٹیکنالوجی جیسے شعبے شامل ہیں تاکہ مستقبل کی مارکیٹ کی مانگ اور صنعتی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
vi۔ سی ٹی ایس کے تحت جدید کورسز کا آغاز: ڈی جی ٹی نے کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم کے تحت نئی نسل/مستقبل کے ہنر کے کورسز متعارف کروائے ہیں تاکہ ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے کہ 5جی نیٹ ورک ٹیکنیشن، آرٹیفیشل انٹیلیجنس پروگرامنگ اسسٹنٹ، سائبر سیکیورٹی اسسٹنٹ، اور ڈرون ٹیکنیشن وغیرہ میں تربیت فراہم کی جا سکے۔
vii۔ آئی ٹی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتیں : ڈی جی ٹی نے آئی بی ایم، سسکو، مائیکروسافٹ، اور اے ڈبلیو ایس جیسی آئی ٹی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں تاکہ ریاستی اور علاقائی سطح پر اداروں کے لیے صنعتی روابط کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ شراکت داریاں جدید ٹیکنالوجیز میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت کی فراہمی میں سہولت فراہم کرتی ہیں۔
viii۔ تعلیمی و ووکیشنل انضمام اور اپرنٹس شپ ایمبیڈڈ ڈگری پروگرام : نیشنل ایجوکیشن پالیسی (این ای پی)، 2020 ووکیشنل تعلیم کو مرکزی دھارے کی تعلیم کے ساتھ بڑے پیمانے پر جوڑنے کا تصور پیش کرتی ہے اور تعلیمی و پیشہ ورانہ راستوں کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے منتقلی کو فروغ دیتی ہے۔ اسی وژن کے مطابق، یو جی سی اور اے آئی سی ٹی ای کے اشتراک سے تیار کردہ "اپرنٹس شپ ایمبیڈڈ ڈگری پروگرام" (اے ای ڈی پی) ڈگری اور ڈپلوما پروگراموں میں زیر تعلیم طلبہ کو اپنے نصاب کے لازمی حصے کے طور پر اپرنٹس شپ ٹریننگ حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ پروگرام روزگار کے مواقع بڑھاتا ہے، نتائج پر مبنی سیکھنے کو فروغ دیتا ہے، صنعت اور اکیڈمی کے روابط کو مضبوط کرتا ہے، اور صنعت کے لیے موزوں مہارتوں کے حصول میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
ix۔ کوشل میلے اور اپرنٹس شپ میلے: سند یافتہ امیدواروں کے لیے ملازمتوں کی فراہمی اور اپرنٹس شپ کے مواقع آسان بنانے کے لیے "کوشل میلے" اور "پردھان منتری نیشنل اپرنٹس شپ میلے" (پی ایم این اے ایم) منعقد کیے جاتے ہیں۔
این اے پی ایس کے تحت اپرنٹس شپ ٹریننگ کو فروغ دینے کے لیے، حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
1۔ ملک بھر میں این اے پی ایس-2 کا نفاذ: اہل اپرنٹسز کے لیے جزوی وظیفے کی مالی امداد کے ساتھ ملک بھر میں اس اسکیم پر عمل درآمد۔
2۔ ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کا آغاز: حکومتی وظیفے کی امدادی رقم براہِ راست اپرنٹسز کے بینک کھاتوں میں منتقل کرنے کے لیے ڈی بی ٹی کا آغاز۔
3۔ اپرنٹس شپ کے عمل کو آسان اور ڈیجیٹل بنانا: نیشنل اپرنٹس شپ پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن اور دیگر تمام مراحل کو سہل اور ڈیجیٹل شکل دینا۔
4۔ تھرڈ پارٹی ایگریگیٹرز کے ذریعے سہولت کاری: تھرڈ پارٹی ایگریگیٹرز کے ذریعے کمپنیوں اور نوجوانوں کو اپرنٹس شپ سے جوڑنے کے عمل کو آسان بنانا۔
5۔ پردھان منتری نیشنل اپرنٹس شپ میلوں (پی ایم این اے ایم) کا انعقاد: نوجوانوں کو متحرک کرنے اور صنعتوں کی شرکت کو بڑھانے کے لیے باقاعدگی سے اپرنٹس شپ میلوں کا انعقاد۔
6۔ نامزد اور اختیاری تجارت کا دائرہ کار بڑھانا: ' مخصوص اور اختیاری شعبوں میں اپرنٹس شپ کے مواقعوں کو مزید وسعت دینا۔
7۔ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مستقل رابطہ: ملک میں اپرنٹس شپ کے رجحان کو مضبوط کرنے کے لیے صنعتوں، ایم ایس ایم ایز اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل باہمی رابطہ برقرار رکھنا۔
این اے پی ایس-2 کے تحت، حکومتِ ہند ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے طریقہ کار کے ذریعے اہل اپرنٹسز کو وظیفے کی مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ حکومت کا حصہ ادارے کی طرف سے دیے جانے والے وظیفے کے 25 فیصد تک محدود ہے، جو کہ اپرنٹس شپ ٹریننگ کی مدت کے دوران فی اپرنٹس زیادہ سے زیادہ 1,500 روپے ماہانہ کے تابع ہے۔ وظیفے کی یہ امدادی رقم نیشنل اپرنٹس شپ پورٹل کے ذریعے براہِ راست اپرنٹسز کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے، جس سے شفافیت، کارکردگی اور بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
ملک بھر میں این اے پی ایس-2 کے تحت ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے ذریعے جاری کی گئی حکومتی وظیفے کی رقم کی تفصیلات ضمیمہ کے ٹیبل- I میں فراہم کی گئی ہیں۔
اپرنٹس شپ ٹریننگ میں خواتین کی شرکت بڑھانے اور مختلف شعبوں میں اپرنٹس شپ کے مواقع کو وسعت دینے کے لیے، نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم متنوع شعبوں جیسے کہ مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ، لاجسٹکس، زراعت اور متعلقہ سرگرمیاں، فوڈ پروسیسنگ، ریٹیل، ہیلتھ کیئر، سیاحت اور مہمان نوازی، آئی ٹی اور آئی ٹی اینیبلڈ سروسز، الیکٹرانکس اور دیگر خدماتی شعبوں میں خواتین سمیت تمام اپرنٹسز کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
حکومت ملک بھر میں باقاعدگی سے "پردھان منتری نیشنل اپرنٹس شپ میلوں" (پی ایم این اے ایم) کا انعقاد کرتی ہے، جو ہر مہینے ہر ریاست کے ایک تہائی اضلاع میں لگائے جاتے ہیں، اور ان کا خاص مقصد خواتین امیدواروں سمیت نوجوانوں کو متحرک کرنا ہے۔ مزید برآں، ریاستوں، ریجنل ڈائریکٹوریٹ آف اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ (آر ڈی ایس ڈی ایز)، اسٹیٹ اپرنٹس شپ ایڈوائزرز (ایس اے اے)، صنعتوں اور تھرڈ پارٹی ایگریگیٹرز (ٹی پی اے) کے ساتھ اسٹیک ہولڈرز کے اجلاسوں کے دوران، مختلف شعبوں میں خواتین اپرنٹسز (تربیت کاروں) کی شرکت بڑھانے پر خصوصی زور دیا جاتا ہے۔
اپرنٹس شپ کے مواقع کی دستیابی کو بڑھانے کے لیے، اپرنٹس ایکٹ، 1961 میں سال 2014 میں ترمیم کی گئی تھی تاکہ 'آپشنل ٹریڈز' کو متعارف کرایا جا سکے، جس سے صنعتیں اپنی مخصوص مہارت کی ضروریات کے مطابق اپرنٹس شپ پروگرام خود ڈیزائن کرنے کے قابل ہو گئی ہیں۔
یہ اسکیم خواتین سمیت تمام اپرنٹسز کے لیے محفوظ، جامع اور سازگار تربیتی ماحول کو بھی فروغ دیتی ہے۔ اپرنٹس ایکٹ، 1961 کی دفعہ 14 کے تحت، اپرنٹسز کو فیکٹریز ایکٹ، 1948 اور مائنز ایکٹ، 1952 (جیسا کہ لاگو ہو) کے تحت مزدوروں پر لاگو ہونے والے متعلقہ تحفظ، صحت اور بہبود کے قوانین کا تحفظ حاصل ہے۔ نتیجتاً، اپرنٹسز باقاعدہ ملازمین کی طرح کام کی جگہ پر حفاظتی اقدامات، بہبود کی سہولیات اور حفاظتی قوانین کے حقدار ہیں۔ اس کے علاوہ، اپرنٹسز کو کام کی جگہ پر خواتین کی جنسی ہراسانی (روک تھام، ممانعت اور تدارک) ایکٹ، 2013 (پوش ایکٹ - POSH Act) کے تحت بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ مزید برآں، اپرنٹس ایکٹ، 1961 کی دفعہ 15 کام کے اوقات اور چھٹیوں کے ضوابط کو کنٹرول کرتی ہے۔ 18 سال اور اس سے زیادہ عمر کے اپرنٹسز کو ادارے کے معمول کے کاروباری اوقات کے دوران تربیت دی جاتی ہے، جبکہ 18 سال سے کم عمر کے اپرنٹسز کے کام کے اوقات عام طور پر صبح 8:00 بجے سے شام 6:00 بجے کے درمیان محدود ہوتے ہیں، سوائے ان حالات کے جہاں متعلقہ اپرنٹس شپ ایڈوائزر کی طرف سے خصوصی اجازت دی گئی ہو۔
پچھلے کچھ برسوں کے دوران اپرنٹس شپ ٹریننگ میں خواتین کی شرکت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کل اپرنٹس شپ شمولیت میں خواتین اپرنٹسز کا حصہ مالی سال 17-2016 میں 7.74 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 26-2025 میں 24.95 فیصد ہو گیا ہے، جو کہ این اے پی ایس کے تحت پالیسی اقدامات کے مثبت اثرات اور سروس سیکٹر کے پیشوں میں اپرنٹس شپ کے مواقع کی توسیع کی عکاسی کرتا ہے۔
ضمیمہ
ٹیبل- I
ملک بھر میں این اے پی ایس-2 کے تحت ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے ذریعے جاری کی گئی حکومتی وظیفے (اسٹائپینڈ) کی رقم کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔ (رقم کروڑ روپے میں)
|
نمبر شمار
|
ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقہ
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
2026-27
|
کُل
|
|
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
0.03
|
0.05
|
0.03
|
0.01
|
0.12
|
|
|
آندھرا پردیش
|
11.35
|
18.32
|
21.97
|
7.57
|
59.21
|
|
|
اروناچل پردیش
|
0.14
|
0.24
|
0.37
|
0.07
|
0.82
|
|
|
آسام
|
4.81
|
5.05
|
10.31
|
2.28
|
22.45
|
|
|
بہار
|
15.59
|
24.48
|
26.74
|
9.03
|
75.84
|
|
|
چنڈی گڑھ
|
0.24
|
0.33
|
0.41
|
0.16
|
1.14
|
|
|
چھتیس گڑھ
|
2.8
|
3.87
|
4.45
|
1.49
|
12.61
|
|
|
دہلی
|
4.47
|
9.14
|
12.19
|
3.91
|
29.71
|
|
|
گوا
|
0.78
|
1.28
|
1.51
|
0.44
|
4.01
|
|
|
گجرات
|
14.34
|
27.31
|
29.24
|
9.6
|
80.49
|
|
|
ہریانہ
|
6.98
|
10.62
|
10.64
|
3.55
|
31.79
|
|
|
ہماچل پردیش
|
3.43
|
4.61
|
4.65
|
1.67
|
14.36
|
|
|
جموں و کشمیر
|
0.4
|
0.8
|
1.02
|
0.28
|
2.5
|
|
|
جھارکھنڈ
|
8.13
|
13.58
|
14.17
|
4.47
|
40.35
|
|
|
کرناٹک
|
20.11
|
32.9
|
35.08
|
10.69
|
98.78
|
|
|
کیرالہ
|
5.93
|
10.77
|
10.64
|
3.19
|
30.53
|
|
|
لداخ
|
0
|
0
|
0.01
|
0
|
0.01
|
|
|
لکشدیپ
|
0
|
0.01
|
0.01
|
0
|
0.02
|
|
|
مدھیہ پردیش
|
11.99
|
21.49
|
23.98
|
7.28
|
64.74
|
|
|
مہاراشٹر
|
85.32
|
117.35
|
121.5
|
37.07
|
361.24
|
|
|
منی پور
|
0.28
|
0.61
|
1.56
|
0.29
|
2.74
|
|
|
میگھالیہ
|
0.19
|
0.28
|
1
|
0.22
|
1.69
|
|
|
میزورم
|
0.13
|
0.19
|
0.67
|
0.13
|
1.12
|
|
|
ناگالینڈ
|
0.12
|
0.29
|
0.58
|
0.11
|
1.1
|
|
|
اوڈیشہ
|
10.73
|
13.45
|
15.94
|
4.75
|
44.87
|
|
|
پڈوچیری
|
0.55
|
1.13
|
1.4
|
0.41
|
3.49
|
|
|
پنجاب
|
2.69
|
4.05
|
5.33
|
2.05
|
14.12
|
|
|
راجستھان
|
5.99
|
9.78
|
13.22
|
4.63
|
33.62
|
|
|
سکم
|
0.09
|
0.2
|
0.43
|
0.11
|
0.83
|
|
|
تمل ناڈو
|
38.05
|
59.49
|
64.47
|
19.43
|
181.44
|
|
|
تلنگانہ
|
5.77
|
8.77
|
10.21
|
3.67
|
28.42
|
|
|
دادر اور نگر حویلی اور دمن اور دیو
|
0.27
|
0.56
|
0.72
|
0.24
|
1.79
|
|
|
تری پورہ
|
0.34
|
0.5
|
0.96
|
0.22
|
2.02
|
|
|
اترپردیش
|
43.3
|
70.22
|
86.59
|
27.64
|
227.75
|
|
|
اتراکھنڈ
|
6.2
|
9.01
|
10.51
|
3.71
|
29.43
|
|
|
مغربی بنگال
|
15.63
|
19.42
|
24.76
|
8.5
|
68.31
|
|
|
کُل
|
327.17
|
500.15
|
567.27
|
178.87
|
1573.46
|
نوٹ: این اے پی ایس -2 کے تحت ڈی بی ٹی پر مبنی وظیفے کی مالی امداد کا آغاز جولائی 2023 سے ہوا تھا۔
یہ جانکاری ہنرمندی ترقیات اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) میں وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب جینت چودھری کے ذریعہ آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی گئی۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:1960
(रिलीज़ आईडी: 2298644)
आगंतुक पटल : 3