خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
خواتین و اطفال کی بہبود کی وزارت نے کریچزقائم کرنے کے لیے 2024 میں کم از کم قومی معیارات اور رہنما اصول جاری کیے ہیں
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 4:07PM by PIB Delhi
خواتین و اطفال کی بہبود کی وزارت نے یکم اپریل 2022 سے آنگن واڑی کے ساتھ کریچز (پالنا) اسکیم متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد تمام ماؤں کے بچوں، خواہ ان کی ملازمت کی حیثیت کچھ بھی ہو، کو محفوظ اور پُرسکون ماحول میں دن کے وقت بچوں کی نگہداشتِ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ سہولت 6 ماہ سے 6 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ بچوں کو غذائی معاونت، صحت اور ذہنی نشوونما سے متعلق خدمات، جسمانی نشوونما کی نگرانی، ٹیکہ کاری، تعلیم وغیرہ کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ آنگن واڑی مراکز دنیا کے سب سے بڑے بچوں کی نگہداشت کے ادارے ہیں، جو بچوں کو ضروری نگہداشت اور مدد فراہم کرنے کے لیے وقف ہیں اور آخری فرد تک نگہداشت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔
پالنا ایک مرکزی طور پر معاونت یافتہ اسکیم ہے، جسے مرکز اور ریاستی حکومتوں اورلیجسلیچر کےساتھ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کے درمیان 60:40 کے مالی تناسب سے نافذ کیا جاتا ہے، جبکہ شمال مشرقی اور خصوصی زمرے کی ریاستوں میں یہ تناسب 90:10 ہے۔لیجسلیچر کے علاوہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے 100 فیصد مالی امداد مرکزی حکومت فراہم کرتی ہے۔ آنگن واڑی اور کریچز مراکز (اے ڈبلیو سی سی) کی ضرورت کا جائزہ متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے لیا جاتا ہے اور متعلقہ ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کے بعد پروگرام منظوری بورڈ (پی اے بی) تجاویز کو منظوری دیتا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں مجموعی طور پر 4,172 آنگن واڑی کم کریچ مراکز فعال ہیں۔
خواتین و اطفال کی بہبود کی وزارت نے 2024 میں کریچز قائم کرنے کے لیے کم از کم قومی معیارات اور رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ بچوں کی نگہداشت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ اور سلامتی سے متعلق حکومتی قواعد، قوانین اور ضوابط کی پابندی کریں۔
محنت اور روزگار کی وزارت نے مطلع کیا ہے کہ زچگی فوائد ایکٹ، 1961 کی دفعات کو سماجی تحفظ ضابطہ، 2020 میں شامل کر دیا گیا ہے، جو 21 نومبر 2025 سے نافذ العمل ہے۔ سماجی تحفظ ضابطہ، 2020 کی دفعہ 67 کے تحت 50 یا اس سے زیادہ ملازمین والے اداروں میں کریچز کی سہولت فراہم کرنے کی گنجائش ہے۔ اس ضابطے کے تحت ریاستی شعبے کے اداروں کے سلسلے میں قوانین کے نفاذ کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں کی ہے۔ مرکزی شعبے کے تحت آنے والے اداروں میں زچگی فوائد سے متعلق دفعات کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے محنت اور روزگار کی وزارت کے تحت چیف لیبر کمشنر (مرکزی) کا ادارہ نامزد نفاذکی اتھارٹی ہے۔
یہ معلومات خواتین و اطفال کی بہبود کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔
******
(ش ح۔ع ح۔م ذ)
U.R .1935
(रिलीज़ आईडी: 2298491)
आगंतुक पटल : 8