وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
چھتیس گڑھ میں پی ایم ایم ایس وائی کانفاذ
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 1:35PM by PIB Delhi
ماہی پروری، مویشی و ڈیری کی وزارت کے محکمۂ ماہی پروری کی جانب سے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کو21- 2020سے 27-2026 (ستمبر 2026) تک 20,750 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت کے ساتھ چھتیس گڑھ سمیت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ماہی پروری اور آبی کاشتکاری کی پائیدار ترقی کے لیے نافذ کیا جا رہا ہے۔ پی ایم ایم ایس وائی اسکیم نے بنیادی ڈھانچے، پیداوار، آبی زراعت کے فروغ، ٹیکنالوجی کے استعمال، فلاحی سرگرمیوں کے لیے معاونت، بازاروں کی توسیع اور فلاحی اقدامات کے ذریعے ماہی گیروں اور ماہی پرور کاشتکاروں کے مالی، سماجی اور معاشی تحفظ کو مضبوط بنا کر چھتیس گڑھ میں ماہی پروری کے شعبے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
حکومت ہند کے محکمۂ ماہی پروری نے گزشتہ چھ برسوں (21-2020سے 26-2025) کے دوران پی ایم ایم ایس وائی کے تحت چھتیس گڑھ حکومت کے لیے 956.86 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کو منظوری دی، جس میں مرکزکاحصہ 321.01 کروڑ روپے تھا۔ منظور شدہ مرکزکے حصے میں سے گزشتہ چھ برسوں (21-2020سے 26-2025) کے دوران چھتیس گڑھ حکومت کو 274.16 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
ماہی پروروں کے مالی، سماجی اور معاشی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے ریاست میں پی ایم ایم ایس وائی کے تحت منظور کیے گئے اہم منصوبوں میں مچھلی کے بیج کی 28 ہیچریاں، 3,200 ہیکٹر رقبے میں نئے مچھلی تالاب، پانی کی دوبارہ بحالی کے نظام کی 287 اکائیاں، بایوفلاک کی 820 اکائیاں، مختلف گنجائش کی مچھلی خوراک کی 14 فیکٹریاں، مچھلیوں کےنقل و حمل کے لیے 511 چھوٹی گاڑیاں، آبی ذخائر میں 8,500 کیج اور ایک مربوط آبی پارک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی تحفظ کے اقدامات کے تحت ہر سال 5.52 لاکھ ماہی گیروں کو حادثاتی بیمہ کوریج، 9,667 ماہی گیروں کو روزگار اور غذائی معاونت اور کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) کے ذریعے 4,189 ماہی گیروں کو ادارہ جاتی قرض تک بہتر رسائی فراہم کی گئی ہے۔
مجموعی طور پر ان اقدامات کے نتیجے میں مچھلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے،( جو15-2014میں 3.14 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 25-2024 میں 8.73 لاکھ میٹرک ٹن ہوگئی ہے)۔ اس کے ساتھ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ، کاروباری سرگرمیوں کا فروغ، دیہی روزگار کے مواقع پیدا ہونا، فصل کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی اور چھتیس گڑھ میں ماہی پروری کے شعبے کی مجموعی سماجی و معاشی ترقی میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
یہ معلومات ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے ایک سوال کے جواب میں راجیہ سبھا میں دی۔
*****
ش ح۔ م ش۔ ص ج
U.No. 1902
(रिलीज़ आईडी: 2298440)
आगंतुक पटल : 7