ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: پیشگی انتباہی نظام کی صورتِ حال

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 12:37PM by PIB Delhi

بھارتی محکمہ ٔ موسمیات نے مشن موسم کے تحت ملک بھر میں  50 ڈوپلر موسمی ریڈار، 1,008 خودکار موسمی اسٹیشن اور  6,885  رین گیج اسٹیشن قائم کرکے اپنے مشاہداتی نظام کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران  ، موسم کے شدید حالات کی پیش گوئی کی درستگی میں 40 سے 50 فی صد تک بہتری آئی ہے، جب کہ سمندری طوفانوں کے راستے، ساحل  کو عبور کرنے کے مقام اور شدت سے متعلق پیش گوئی کی غلطیوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ سیلاب کی نگرانی کے لیے 25 سیلابی موسمی دفاتر   ، دریاؤں سے متصل  220 ذیلی  طاس کے علاقوں کے لیے روزانہ سات دن کے دوران بارش کی مقدار  سے متعق پیش گوئیاں جاری کرتے ہیں، جس سے مرکزی آبی کمیشن کو  کافی مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ  ، چنئی اور ممبئی میں سیلاب سے متعلق مربوط  انتباہی نظام بھی فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔

مزید برآں، بھارتی قومی سمندری اطلاعاتی خدمات مرکز  ( آئی این سی او آئی ایس )  بحرِ ہند خطے کے  28 ممالک کے لیے  ، نامزد سونامی خدمات فراہم کرنے والے ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ مرکز  بر وقت سمندری مشاہدات اور ’ سَچیت ‘  اور  ’ سمُدر ‘  ایپ جیسے متعدد ذرائع سے انتباہات  جاری کرنے کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے  ، سونامی سے متعلق الرٹ جاری کرتا ہے۔ یونیسکو-بین حکومتی بحری کمیشن کے  سونامی آنے کا پہلے سے پتہ لگانے سے متعلق  پروگرام  کے تحت  ، اڈیشہ کے 26  ساحلی  گاؤوں کو مقامی سطح پر سونامی سے نمٹنے کی تیاری کے لیے پہلے ہی تسلیم کیا جا چکا ہے۔

بہت زیادہ خطرے  کی پیشگی  وارننگ سے متعلق فیصلہ  سازی  تعاون نظام ( ایم ایچ ای ڈبلیو – ڈی ایس ایس ) ایک جدید ڈیجیٹل پیش گوئی کا پلیٹ فارم ہے، جسے ارضیاتی  سائنسز کی وزارت کے تحت  ، بھارت کے محکمہ موسمیات نے اوپن سورس ٹیکنالوجی اور اندرونِ ملک ماہرین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تیار کیا ہے۔ مشن موسم کے تحت ڈیجیٹل تبدیلی کی ایک اہم پہل کے طور پر متعارف کرایا گیا یہ نظام  ، بھارت میں  بر وقت موسم کی نگرانی اور پیشگی انتباہ کی صلاحیتوں کو مزید  مستحکم کرتا ہے۔ بہت زیادہ خطرے  کی پیشگی  وارننگ سے متعلق فیصلہ  سازی  تعاون نظام ( ایم ایچ ای ڈبلیو – ڈی ایس ایس ) ،  حکومت ہند کے  ’’  ہر طرح کے موسم کے لیے تیار اور آب و ہوا  میں تبدیلی کے لحاظ سے باشعور  ملک ‘‘  کے ویژن کی عکاسی کرتا ہے اور ’’ ہر ہر موسم، ہر گھر موسم‘‘ کے تصور کو عملی شکل دیتا ہے، تاکہ موسم   سے متعلق قابلِ عمل معلومات  بر وقت ہر گھر، شعبے اور خطے تک پہنچائی جا سکیں۔

ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تحقیق کا مرکز باہم مربوط اور یکے بعد دیگرے رونما ہونے والی قدرتی آفات، برفانی علوم اور آبی حرکیات کا مطالعہ ہے۔ نیشنل سینٹر فار ارتھ سائنس اسٹڈیز  ( این سی ای ایس ایس )  گڑھوال ہمالیہ میں قدرتی آفات سے متعلق مطالعات کے لیے سیلاب اور آبی  ماڈلنگ کی قیادت کر رہا ہے، جب کہ نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشین ریسرچ  ( این سی پی او آر  )  ، ہماچل پردیش اور اروناچل پردیش میں واقع آٹھ منتخب برفانی تودوں کی طویل مدتی نگرانی اپنے 4,080 میٹر کی بلندی پر قائم ’ ہمانش ‘  تحقیقی مرکز سے کر رہا ہے۔ ساحلی علاقوں میں، گہرے سمندر کے مشن کے تحت آئی این سی او آئی ایس  کی تحقیق کے مطابق  ، زیادہ اخراج والے منظرنامے میں 2100 تک بھارتی ساحلی پٹی کے ساتھ سطحِ سمندر میں  اوسط 0.62 میٹر سے 0.87 میٹر تک اضافہ متوقع ہے۔ اسی دوران، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشین ٹیکنالوجی  ( این آئی او ٹی )  سمندر کی نگرانی کے ایک وسیع نیٹ ورک کو برقرار رکھتا ہے، جس میں  او ایم این آئی  لنگر انداز بوائز، ساحلی ہائی فریکوئنسی ریڈار اور سونامی بوائز شامل ہیں۔ ان عملی کوششوں کے ساتھ ارضیاتی سائنسز کی وزارت کی پالیسی  اشاعتیں اور بھارت کے موسم سے متعلق  خطرات اور حساسیت کا نقشہ بھی شامل ہے، جسے بھارت کے محکمہ موسمیات نے جغرافیائی معلوماتی نظام ( جی آئی ایس )  پر مبنی ویب پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا ہے۔

پونے میں واقع انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی  ( آئی آئی ٹی ایم )  اپنے  موجودہ پروجیکٹ’’ میٹرو پولیٹن ایئر کوالٹی اینڈ ویدر فورکاسٹنگ سروسز ( ایم اے کیو ڈبلیو ایف ایس ) ‘‘  کے تحت  ، گنگوتری–گومکھ اور ستوپنتھ کے برفانی تودوں کے علاقے میں ماحول اور برفانی خطے سے متعلق ایک مربوط مشاہداتی تجربہ کر رہا ہے۔ برفانی مہم کے تحت ارضیاتی  سائنسز کی وزارت کے ماتحت  آئی آئی ٹی ایم  نے گنگوتری–گومکھ–تاپوون راستے پر ماحول کے موبائل مشاہدات کیے ہیں اور بھوج باسا میں مسلسل نگرانی کا ایک مرکز قائم کیا ہے، جو سطحِ سمندر سے تقریباً 3,500 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ ان مشاہدات کا مقصد  ، ہمالیائی خطے میں ماحولیاتی عمل اور برفانی خطے کے ساتھ ان کے باہمی تعامل کو بہتر طور پر سمجھنا ہے۔

ارضیاتی  سائنسز کی وزارت کے تحت  ، نیشنل سینٹر فار سیسمو لوجی نے قومی زلزلہ پیما نیٹ ورک کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے۔ 2014  ء میں 86 رصدگاہوں کے مقابلے میں  ، اب ملک بھر میں  174 فعال رصد گاہیں کام کر رہی ہیں۔ زیادہ خطرے والے علاقوں کو ترجیح دیتے ہوئے  ، ان میں سے 89 رصد گاہیں زلزلے کے زیادہ خطرے والے زون IV اور V میں حکمتِ عملی کے تحت قائم کی گئی ہیں۔  بر وقت مسلسل نگرانی کی اس صلاحیت کے نتیجے میں  ، ملک بھر میں زلزلوں کا پتہ لگانے کی کم از کم حد شدت  3.0  تک کم ہو گئی ہے،  جب کہ دلّی-این سی آر اور شمال مشرقی خطوں کے لیے یہ حد مزید بہتر ہو کر شدت 2.5 تک پہنچ گئی ہے۔

موجودہ مالی سال  27-2026 ء   کے لیے پولر سائنس اور کرایو سفیئر  ریسرچ  ( پی اے سی ای آر )  اسکیم کے تحت  ، نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشین ریسرچ کے لیے مجوزہ بجٹ  کی مختص رقم 270.00 کروڑ روپے ہے۔

یہ  جانکاری ارضیاتی سائنسز  کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں  فراہم کی۔

 

..................................................... ...................................................

) ش ح – م ع-  ع ا )

U.No. 1913


(रिलीज़ आईडी: 2298358) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil