ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: سمندری حیوانات اور نباتات کے لیے جدید بحری تحقیقی مرکز
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 12:38PM by PIB Delhi
حکومت ہند کی ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے تحت کوچی میں قائم سینٹر فار میرین لیوِنگ ریسورس اینڈ ایکو لوجی ( سی ایم ایل آر ای ) کے ذریعے ادارے کے دائرۂ کار کے مطابق ، بھارت کے خصوصی اقتصادی زون ( ای ای زیڈ ) میں سمندری حیاتیاتی وسائل ( ایم ایل آر ) کے جائزے اور نگرانی کے لیے ایک جامع پروگرام نافذ کر رہی ہے۔
گزشتہ تین برسوں ( 2023 ء تا 2026 ء ) کے دوران ، سینٹر فار میرین لیوِنگ ریسورس اینڈ ایکو لوجی ( سی ایم ایل آر ای ) نے بھارتی خصوصی اقتصادی زون میں ماہی گیری کے وسائل اور سمندری حیاتیاتی تنوع کے جائزے کے لیے تقریباً 19 سروے کیے ہیں۔
سینٹر فار میرین لیوِنگ ریسورس اینڈ ایکو لوجی ( سی ایم ایل آر ای ) کے ذریعے تیار کردہ سائنسی اعداد و شمار کو سمندری حیاتیاتی وسائل کے پائیدار انتظام، سمندری تحفظ اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے اہم ایپلی کیشنز میں بھارتی خصوصی اقتصادی زون میں ماہی گیری کی ممکنہ پیداوار کا تخمینہ لگانا (جو ہر آٹھ سال بعد کیا جاتا ہے) ، ماحولیاتی و حیاتیاتی لحاظ سے اہم علاقوں ( ای ایس بی ایز ) کی نشاندہی، حیاتیاتی تنوع کی فہرست سازی اور جینیاتی حوالہ جاتی ذخیرے تیار کرنا، مچھلیوں کے افزائشِ نسل کے مقامات اور موسموں کی نشاندہی، قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں، بشمول حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن اور پائیدار ترقیاتی اہداف-14 ، کے لیے اعداد و شمار فراہم کرنا اور بھارتی خصوصی اقتصادی زون میں گہرے سمندر اور دور دراز سمندر میں ماہی گیری کے وسائل سے متعلق سائنسی رپورٹس کی اشاعت شامل ہیں۔
بھارت کی سمندری حدود میں سائنسی تحقیق، ایکو نظام کی نگرانی اور سمندری حیاتیاتی وسائل کے طویل مدتی جائزے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور پہل قدمیوں کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں۔
- طویل مدتی مشاہدات اور سمندری ایکو نظام کی نگرانی، جو سمندری حیاتیاتی وسائل کے پروگرام کے ایک حصے کے طور پر بھی کی جا رہی ہے۔ اس کے تحت ، بھارتی خصوصی اقتصادی زون میں ماہی گیری کے وسائل، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی عوامل کا جائزہ، نگرانی اور نقشہ سازی کی جا رہی ہے۔
- گہرے سمندر سے حاصل ہونے والے حیاتیاتی نمونوں کی طویل مدتی حفاظت اور دستاویز سازی کے لیے بھاو سَاگر نیشنل ریپوزیٹری کا قیام۔
- جدید سائنسی ٹیکنالوجیز اور جینیاتی حوالہ جاتی ذخیرے، جن میں حیاتیاتی مجموعوں اور اعداد و شمار کو ڈیجیٹل شکل دینا بھی شامل ہے، تاکہ جدید حیاتیاتی درجہ بندی اور حیاتیاتی تنوع سے متعلق تحقیق کو مدد فراہم کی جا سکے۔
- سمندری علوم کے شعبے میں قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ صلاحیت سازی اور تعاون۔
- حساس سمندری ایکو نظام کے تحفظ اور سمندری حیاتیاتی وسائل کے پائیدار انتظام کے لیے سائنسی مطالعات، جو قومی ترجیحات اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہوں۔
یہ جانکاری ارضیاتی سائنسز کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی۔
..................................................... ...................................................
) ش ح – م ع - ع ا )
U.No. 1912
(रिलीज़ आईडी: 2298313)
आगंतुक पटल : 9