پنچایتی راج کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آتم نربھر پنچایت پروگرام

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 2:36PM by PIB Delhi

آتم نربھر پنچایت پروگرام چار سالہ اقدام ہے، جس کا مقصد ایسے پروجیکٹوں کے ذریعے اپنی آمدنی کے ذرائع (او ایس آر) پیدا کرکے پنچایتوں کو مالی طور پر خود کفیل بنانا ہے، جن میں مقامی سطح پر موجود غیر دریافت شدہ اثاثوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔ تجاویز کا انتخاب ریاستی اور قومی سطح کے کھلے مسابقتی نظام کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس کے تحت پہلے سال 50 پروجیکٹ اور اس کے بعد کے تین برسوں میں ہر سال 100 پروجیکٹ شروع کیے جائیں گے۔ پروگرام کے تحت تکنیکی معاونت فراہم کی جاتی ہے اور لازمی گرام سبھا کی منظوری کے ذریعے شراکتی منصوبہ بندی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ صرف منتخب شدہ گرام اور بلاک پنچایتیں، جن کی مدتِ کار کم از کم تین سال ہو اور جو اپنی آمدنی کے ذرائع (او ایس آر) کی کم از کم مقررہ حد پوری کرتی ہوں، اہل ہیں (گرام پنچایتوں کے لیے 50 لاکھ روپے اور بلاک پنچایتوں کے لیے 1 کروڑ روپے، جبکہ شمال مشرقی اور پہاڑی ریاستوں کے لیے ان شرائط میں نرمی کی گئی ہے)۔ پنچایتوں کو تکنیکی معاونت کے ذریعے ابتدائی خیالات کو تفصیلی، پائیدار اور بینکوں سے مالی معاونت حاصل کرنے کے قابل پروجیکٹوں کی شکل دینے، پروجیکٹ سے متعلق دستاویزات تیار کرنے، سرکاری و نجی شراکت داری (پی پی پی)، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تحت مالی تعاون اور مختلف اسکیموں کو یکجا کرنے جیسے مالی وسائل کے امکانات تلاش کرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔ انہیں تجاویز کے لیے درخواست (آر ایف پی) کی تیاری میں بھی معاونت دی جاتی ہے، جس میں ماڈل معاہداتی دستاویزات/معاہدے شامل ہیں، تاکہ متعلقہ ریاست کے سرکاری خریداری کے قواعد کے مطابق مجاز اتھارٹی انہیں جاری کر سکے اور مالیاتی تکمیل حاصل کی جا سکے۔ تجاویز جمع کرانے اور انتخاب کا پورا عمل ایک مخصوص ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، جس سے شفافیت اور کارکردگی کو مزید تقویت ملتی ہے۔ 04.08.2026 تک مقررہ پورٹل پر مرکزی سطح پر 28 پنچایتوں سے کل 30 پروجیکٹوں کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔

پروگرام کے رہنما خطوط کے مطابق، ریاستیں پنچایتوں کی تجاویز کے بارے میں تکنیکی اور مالی مشورہ فراہم کرنے کے لیے ریاستی سطح کی جائزہ کمیٹیوں میں نبارڈ، ہڈکو وغیرہ جیسے مالیاتی اداروں کو شامل کر سکتی ہیں۔

آتم نربھر پنچایت پروگرام سے توقع ہے کہ سولہویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات کے عین مطابق پنچایتوں کی اپنی آمدنی کے ذرائع (او ایس آر) میں اضافہ ہوگا اور انہیں گرانٹ پر انحصار سے نکال کر پائیدار آمدنی پیدا کرنے کی جانب گامزن کیا جائے گا۔ سولہویں مالیاتی کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دیہی مقامی اداروں کو دی جانے والی کارکردگی پر مبنی گرانٹ کو اپنی آمدنی کے ذرائع (او ایس آر) میں قابل پیمائش اضافے سے منسلک کیا جانا چاہیے، اور یہ اقدام پنچایتوں کو اس مقصد کے حصول کے لیے منظم معاونت فراہم کرتا ہے۔ قومی سطح کے چیلنج کے عمل کے ذریعے پنچایتوں کو مقامی اثاثوں کو بروئے کار لاکر بینکوں سے مالی معاونت حاصل کرنے کے قابل پروجیکٹ تیار کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، جبکہ براہِ راست مالی امداد کے بجائے تکنیکی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ سرکاری و نجی شراکت داری (پی پی پی)، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر)، مختلف اسکیموں کے امتزاج اور ادارہ جاتی قرض کے ذریعے مالی وسائل کی فراہمی میں سہولت دی جاتی ہے، جس سے پروجیکٹوں کو قابل عمل اور آمدنی پیدا کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ گرام سبھا کی لازمی منظوری اور ڈیجیٹل نگرانی شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بناتی ہے، جبکہ مالیاتی ادارے اور تکنیکی ٹیم مالی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مہارت فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح پنچایتوں کو اپنی آمدنی میں مسلسل اضافہ کرنے، کارکردگی سے منسلک گرانٹ کے لیے اہل بننے اور بتدریج مالی طور پر خود کفیل اداروں میں تبدیل ہونے کے لیے بااختیار بنایا جاتا ہے، جیسا کہ سولہویں مالیاتی کمیشن نے تصور پیش کیا ہے۔

یہ معلومات مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے 12 اگست 2026 کو راجیہ سبھا میں تحریری جواب میں دیں۔

******

(ش ح ۔ م م ع۔م ا(

UR.No-1915


(रिलीज़ आईडी: 2298311) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil