ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: جنوب مغربی مانسون سے متعلق پیش گوئی

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 12:39PM by PIB Delhi

بھارتی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے 13 اپریل  ، 2026 ء کو  2026 ء کے  دوران ، جنوب مغربی مانسون کے لیے طویل مدتی پیش گوئی کا پہلا مرحلہ جاری کیا تھا، جس میں مانسون کی بارش معمول سے کم رہنے اور طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) کے 92  فی صد کے برابر رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ بعد میں دوسرے مرحلے کی پیش گوئی  کے تحت ، اسے  نظر ثانی  کے بعد  طویل مدتی اوسط (ایل پی اے)  کے 90 فی صد تک کیا گیا، جب کہ ایل نینو کی صورتِ حال پیدا ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ ان پیش گوئیوں کے مطابق، جون میں معمول سے 35 فی صد کم بارش ریکارڈ کی گئی اور 70 فی صد اضلاع بارش کی کمی کا شکار رہے۔ اگرچہ  ملک کے وسطی   علاقوں میں اچھی بارش کے باعث جولائی میں ملک گیر سطح پر بارش طویل مدتی اوسط سے ایک فی صد زیادہ رہی، تاہم مختلف علاقوں میں بارش کی صورتِ حال میں نمایاں  فرق برقرار رہا اور 47 فی صد اضلاع میں بارش معمول سے کم یا بہت کم ریکارڈ کی گئی۔ 2 اگست  ، 2026 ء تک  مانسون کی بارش مجموعی طور پر  طویل مدتی اوسط سے 12 فی صد کم رہی، جو  مانسون کے موسم کے دوران مجموعی طور پر   متوقع اتار چڑھاؤ کے باوجود آئی ایم ڈی کی موسم سے متعلق  ابتدائی  پیش گوئی کے مطابق ہے۔

موسمیات کے محکمے کی پیش گوئی کے مطابق، جون  ، 2026 ء میں خطِ استوا کے قریب بحرالکاہل میں کمزور ایل نینو کی صورتِ حال پیدا ہوئی، جو بعد میں درمیانی شدت تک پہنچ گئی۔ اس نے ملک بھر میں مانسون کی گردش کو کمزور کرنے والے ایک اہم وسیع پیمانے کے موسمیاتی عامل کے طور پر کام کیا۔ اس صورتِ حال نے مجموعی طور پر 12 فی صد بارش کی کمی اور بڑے پیمانے پر علاقائی بارش کی کمی میں براہِ راست  رول ادا کیا، جس کے نتیجے میں اگست کے اوائل تک 47 فی صد اضلاع بارش کی کمی سے متاثر ہوئے۔ ایل نینو کے اہم اثرات میں طویل عرصے تک خشک موسم کا رہنا، بعض علاقوں میں موسمیاتی خشک سالی، مٹی میں نمی کی کمی، بارش پر منحصر  فصلوں  کے لیے پانی کی قلت کا دباؤ اور آبی ذخائر میں پانی کی سطح  کا متاثر ہونا شامل ہیں۔ آئی ایم ڈی ان موسمیاتی عوامل کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور متعلقہ وزارتوں اور ریاستی حکومتوں کو قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور زرعی منصوبہ بندی میں مدد دینے کے لیے تازہ ترین مشورے جاری کر رہا ہے۔

5  اگست  ،  2026  ء تک کی مجموعی بارش کے اعداد و شمار سے  مانسون کے ذیلی حصوں میں بارش کی مقدار میں نمایاں علاقائی فرق سامنے آیا ہے۔ 16  ذیلی حصوں میں مانسون کی بارش  معمول سے  20  فی صد سے  38 فی صد تک کم  ریکارڈ کی گئی۔ ان میں بہار (38   فی صد سے کم ) ،  اروناچل پردیش ( 36 فی صد سے کم ) ،  آسام و میگھالیہ ( 35 فی صد سے کم ) ،  ساحلی آندھرا پردیش و یانم  ( 35 فی صد سے کم ) ،  لکشدیپ  ( 33 فی صد سے کم ) ،  پنجاب  ( 33 فی صد سے کم ) ،  رائل سیما   ( 32 فی صد سے کم ) ،  مشرقی اتر  پردیش  ( 30 فی صد سے کم ) ،  جھارکھنڈ  ( 30 فی صد سے کم ) ،  ہریانہ ،  چنڈی  گڑھ  و  دلّی  ( 26 فی صد سے کم ) ،  کیرالہ و ماہے ( 22 فی صد سے کم ) ،  مشرقی مدھیہ پردیش ( 22 فی صد سے کم ) ،  مشرقی راجستھان  ( 22 فی صد سے کم ) ،  ناگالینڈ، منی پور، میزورم و تری پورہ (این ایم ایم ٹی) ( 21 فی صد سے کم ) ،  ساحلی کرناٹک ( 21 فی صد سے کم )  اور  کرناٹک کے جنوبی  اندرونی علاقے ( 20  فی صد سے کم ) شامل ہیں۔ دیگر علاقوں میں بھی بارش معمول سے کم رہی ہے۔ بارش کی کمی  سے متاثرہ علاقوں میں فصلوں پر دباؤ پڑنے اور آبی ذخائر میں پانی کی مقدار کم ہونے کا خدشہ ہے۔  بھارتی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی)  ، مرکزی اور ریاستی اداروں کو بروقت خطرات سے نمٹنے میں مدد  کی خاطر ذیلی علاقائی سطح پر مسلسل انتباہات جاری کر رہا ہے۔

یہ  جانکاری ارضیاتی سائنسز  کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں  فراہم کی۔

..................................................... ...................................................

) ش ح – م ع       -  ع ا )

U.No. 1911


(रिलीज़ आईडी: 2298303) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Tamil