وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

آبی زراعت سے وابستہ کسانوں کو درپیش مسائل

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 1:34PM by PIB Delhi

آندھرا پردیش کی حکومت نے بتایا ہے کہ ای-فِش پلیٹ فارم پر درج اعداد و شمار اور ریاستی حکومت کےمعلوماتی ریکارڈ کے مطابق، ریاست میں تقریباً 2.16 لاکھ آبی زراعت سے وابستہ کسان ،آبی زراعت کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ان کے تحت میٹھے پانی اور نیم کھارے پانی میں تقریباً 5.79 لاکھ ایکڑ رقبے پر آبی زراعت کی جا رہی ہے۔

آندھرا پردیش حکومت کے مطابق ریاست کے آبی زراعت سے وابستہ کسانوں کو بازار میں مچھلی کی قیمتوں میں کمی اور مچھلی کی خوراک کی لاگت میں اضافے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے آندھرا پردیش حکومت نے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں خوراک کی لاگت کم کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں خوراک تیار کرنے والی کمپنیوں نے جھینگے کی خوراک کی قیمت میں 4 روپے فی کلوگرام کمی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

آندھرا پردیش حکومت نے بتایا ہے کہ ریاست کا محکمہ ماہی گیری آبی زراعت سے وابستہ کسانوں کی ایسوسی ایشن ، قدر میں اضافے سے متعلق کاروباری اداروں، برآمد کنندگان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ فعال طور پر رابطہ اور تال میل قائم کر رہا ہے، تاکہ مچھلی اور جھینگا پالنے والے کسانوں کو درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ ریاستی حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پوری ریاست میں فصل نہ اگانے یا آبی زراعت کی سرگرمیاں روکنے کے لیے سرکاری طور پر کوئی وقفہ لاگو نہیں کیا گیا ہے۔

حکومت ہند کا ماہی گیری کا محکمہ، آندھرا پردیش حکومت کے تعاون سے، ریاست کے آبی زراعت سے وابستہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔ ریاستی حکومت کے مطابق رجسٹرڈ آبی زراعت کے کسانوں کو 1.50 روپے فی یونٹ کی رعایتی شرح پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ اسکے علاوہ ، خوراک تیار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ریاست میں جھینگے کی خوراک کی قیمت میں 4 روپے فی کلوگرام کمی کی گئی ہے۔

جھینگا پروری کو معاشی طور پر زیادہ قابلِ عمل بنانے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت ہند نے آبی زراعت کی پیداوار کی لاگت کم کرنے کے لیے متعدد پالیسی اقدامات کیے ہیں۔ مرکزی بجٹ 2024-25 اور 2025-26 میں آبی زراعت کے 16 اہم خام مواد اور ضروری اشیا پر کسٹم ڈیوٹی کی شرحوں کو معقول بنایا گیا۔ ان کی شرحیں 30 فیصد سے کم کرکے  صفر سے 5 فیصد تک کر دی گئیں، جس سے ضروری اشیا کی لاگت کم کرنے میں مدد ملی ہے۔  اس کے علاوہ ، ستمبر 2025 میں حکومت ہند نے ماہی گیری اور آبی زراعت سے متعلق 20 سے زائد مصنوعات، جن میں فارم کے آلات، خوراک میں استعمال ہونے والے اجزا، پانی کو متوازن رکھنے والی مو اشیاء، ماہی گیری کے جال اور قدر میں اضافے سے متعلق  سمندری غذائی مصنوعات شامل ہیں، پر جی ایس ٹی کی شرح 12 سے 18 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی منظوری دی۔

توقع ہے کہ ان اقدامات سے پیداوار کی لاگت کم ہوگی، آندھرا پردیش سمیت مختلف ریاستوں کے کسانوں کے منافع میں اضافہ ہوگا اور ہندوستان کے آبی زراعت کے شعبے کی مسابقتی صلاحیت بہتر ہوگی۔ اس کے علاوہ، حکومت ہند اور ریاستی حکومت فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے اور مچھلی پالنے والے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے قدر میں اضافہ کرنے والے کاروباری اداروں کو بھی فروغ دے رہی ہیں۔

یہ  جانکاری ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں دی۔

******

(ش ح۔ع ح۔م ذ)

U.R .1904


(रिलीज़ आईडी: 2298280) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Telugu