قبائیلی امور کی وزارت
ڈی بی ٹی قبائلی پورٹل اور قبائلی طلبہ کے لیے اسکالرشپ کی رقم کی تقسیم
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 12:44PM by PIB Delhi
قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب درگاداس اوئیکے نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ اس وقت وزارت پہلے ہی ڈی بی ٹی قبائلی پورٹل سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ اس کے لیے متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی جانب سے فراہم کردہ مستفیدین کے اعداد و شمار تک رسائی حاصل کرکے نگرانی کی جاتی ہے اور پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیموں کے نفاذ کے لیے ایم آئی ایس رپورٹس تیار کی جاتی ہیں۔ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو سوالات، دستاویزات، استعمال کے سرٹیفکیٹ، اخراجات کے گوشوارے وغیرہ اپ لوڈ کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جس سے کارروائی میں لگنے والا وقت کم ہوا ہے اور شکایات میں بھی کمی آئی ہے۔ گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیموں کے لیے ڈی بی ٹی قبائلی پورٹل پر ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے مستفیدین کی تعداد کی تفصیلات ضمیمہ-1 میں دی گئی ہیں۔
پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیمیں مرکزی مددیافتہ اسکیمیں ہیں اور متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے ذریعے نافذ کی جاتی ہیں۔ اسکالرشپ کی رقم متعلقہ ریاست/مرکز کے زیرانتظام علاقہ اپنے پورٹل یا این ایس پی پورٹل کے ذریعے تقسیم کرتا ہے۔ پورٹل کے ذریعے ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات درج ذیل ہیں: -
1. اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن: کاغذی کارروائی پر مبنی نظام سے اسکیم کے لیے مخصوص ڈیجیٹل پورٹلز میں منتقلی۔
2. کامن ڈیٹا اسٹینڈرڈ: ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے پورٹلز، نیشنل اسکالرشپ پورٹل (این ایس پی) اور وزارت کے ڈی بی ٹی قبائلی پورٹل کے درمیان ویب سروس اے پی آئی پر مبنی ڈیٹا کے بلارکاوٹ تبادلے کے لیے معیاری ڈیٹا فارمیٹ کا نفاذ۔
3. تیز تر مواصلات اور آن لائن پروسیسنگ: ریاستوں کی جانب سے استعمال کے سرٹیفکیٹ (یو سی)، اخراجات کے گوشوارے (ایس او ای) اور سوالات آن لائن اپ لوڈ کرنے کی سہولت، جس سے کارروائی میں لگنے والا وقت اور انتظامی تاخیر نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔
4. عوامی شفافیت اور نتائج کے ڈیش بورڈ: مستفیدین اور لین دین سے متعلق اعداد و شمار کو وزارت کے کارکردگی ڈیش بورڈ، ڈی بی ٹی مشن، پریاس ڈیش بورڈ اور نیتی آیوگ کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے تاکہ نتائج کی نگرانی کی جا سکے۔
ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی جانب سے ڈی بی ٹی قبائلی پورٹل پر رپورٹ کیے گئے مستفیدین کے اعداد و شمار نگرانی اور ایم آئی ایس رپورٹس تیار کرنے میں مفید ثابت ہوئے ہیں۔ نیشنل اسکالرشپ پورٹل کو ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے اسکالرشپ پورٹلز کے ساتھ مربوط کرنے سے اسکیموں اور مختلف ڈیٹا بیس میں اعداد و شمار کی تصدیق اور خودکار طور پر دوہری اندراجات کی جانچ ممکن ہوئی ہے۔
ایس ٹی طلبہ کے لیے پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیموں کے تحت ریاستی سطح پر فنڈز کو غیر ضروری طور پر روکے رکھنے کا عمل ختم کرنے، اسکالرشپ جاری کرنے میں تاخیر کو کم کرنے اور فنڈز کی منتقلی میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے وزارت نے پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت مرکزی حصے کی رقم جاری کرنے کے لیے ایس این اے اسپارش ماڈل اپنایا ہے۔یہ ایک ضرورت کے مطابق بروقت ادائیگی کا نظام ہے، جس کے تحت متعلقہ ریاستی حکومت کی جانب سے اسکالرشپ کی ادائیگی کے لیے بل پیش کیے جانے پر مرکزی حصے کی رقم ضرورت کے مطابق فوری طور پر جاری کی جاتی ہے۔ اسکالرشپ کی ادائیگی سے متعلق بل منظور ہونے کے بعد مرکزی اور ریاستی دونوں حصوں کی رقم آر بی آئی کے اکاؤنٹ سے براہ راست ڈی بی ٹی کے ذریعے طلبہ کے مستفید اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جاتی ہے۔ اس سے ریاستی سطح پر مرکزی حصے کی رقم کو روکے رکھنے کا عمل ختم ہوتا ہے اور اسکالرشپ کی رقم کی ادائیگی میں ہونے والی تاخیر کم ہوتی ہے۔
وزارت کی جانب سے براہ راست نافذ کی جانے والی مرکزی شعبے کی اسکالرشپ اسکیموں کے تحت نیشنل اسکالرشپ پورٹل (این ایس پی)، وزارت کے اسکالرشپ پورٹل اور پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم (پی ایف ایم ایس) کے ذریعے براہ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک مضبوط ڈیجیٹل نظام قائم کیا گیا ہے۔
ادارے، ضلع اور ریاستی حکام کی جانب سے کاغذی درخواست کے عمل اور دستی تصدیق کو ختم کرنے سے منظوری کے مراحل مزید منظم ہوئے ہیں اور درخواستوں کی مجموعی کارروائی میں لگنے والا وقت کم ہوا ہے۔ براہ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے اسکالرشپ کی رقم مستفید طلبہ کے بینک کھاتوں میں منتقل کرنے سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ مالی فائدہ مقررہ ایس ٹی طلبہ تک بروقت اور کسی درمیانی فریق کی مداخلت کے بغیر پہنچے۔
ضمیمہI
مالی سال 2023-24 سے 2025-26 کے دوران ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے ڈی بی ٹی قبائلی پورٹل پر رپورٹ کیے گئے مستفیدین کی تفصیلات
- Pre-Matric Scholarship Scheme
|
Sl. No
|
States/UTs Name
|
2023-2024
|
2024-2025
|
2025-2026
|
|
No. of beneficiaries
|
No. of beneficiaries
|
No. of beneficiaries
|
|
1
|
Andaman And Nicobar Islands
|
141
|
18
|
179
|
|
2
|
Andhra Pradesh
|
-
|
-
|
57788
|
|
3
|
Arunachal Pradesh
|
5698
|
635
|
1694
|
|
4
|
Assam
|
5625
|
2132
|
-
|
|
5
|
Bihar
|
11363
|
15319
|
14069
|
|
6
|
Chhattisgarh
|
21768
|
159372
|
35372
|
|
7
|
Goa
|
207
|
1985
|
369
|
|
8
|
Gujarat
|
108125
|
94169
|
26832
|
|
9
|
Himachal Pradesh
|
2445
|
1786
|
2455
|
|
10
|
Jammu And Kashmir
|
4665
|
365
|
1322
|
|
11
|
Jharkhand
|
7311
|
16250
|
-
|
|
12
|
Karnataka
|
181152
|
82316
|
18199
|
|
13
|
Kerala
|
1007
|
-
|
-
|
|
14
|
Ladakh
|
82
|
250
|
2459
|
|
15
|
Madhya Pradesh
|
35165
|
411273
|
328029
|
|
16
|
Manipur
|
1660
|
70
|
3311
|
|
17
|
Meghalaya
|
1408
|
19
|
8
|
|
18
|
Mizoram
|
465
|
-
|
8110
|
|
19
|
Odisha
|
62105
|
148166
|
122800
|
|
20
|
Puducherry
|
-
|
12
|
-
|
|
21
|
Rajasthan
|
129350
|
-
|
80125
|
|
22
|
Sikkim
|
47
|
134
|
171
|
|
23
|
Tamil Nadu
|
6569
|
-
|
18285
|
|
24
|
The Dadra And Nagar Haveli And Daman And Diu
|
3319
|
877
|
-
|
|
25
|
Tripura
|
15017
|
3054
|
12152
|
|
26
|
Uttar Pradesh
|
2329
|
-
|
-
|
|
27
|
Uttarakhand
|
516
|
751
|
820
|
|
28
|
West Bengal
|
28290
|
13345
|
5090
|
|
|
Grand Total
|
635829
|
952298
|
739639
|
- Post-Matric Scholarship Scheme
|
Sl. No
|
States/UTs Name
|
2023-2024
|
2024-2025
|
2025-2026
|
|
No. of beneficiaries
|
No. of beneficiaries
|
No. of beneficiaries
|
|
1
|
Andaman And Nicobar Islands
|
170
|
2
|
283
|
|
2
|
Andhra Pradesh
|
75431
|
45208
|
93539
|
|
3
|
Arunachal Pradesh
|
46386
|
42586
|
44163
|
|
4
|
Assam
|
35135
|
12582
|
18456
|
|
5
|
Bihar
|
2467
|
3045
|
9206
|
|
6
|
Chhattisgarh
|
115067
|
109041
|
128661
|
|
7
|
Goa
|
3824
|
3128
|
3175
|
|
8
|
Gujarat
|
201326
|
205918
|
173747
|
|
9
|
Himachal Pradesh
|
4291
|
4042
|
3628
|
|
10
|
Jammu And Kashmir
|
10399
|
6591
|
4548
|
|
11
|
Jharkhand
|
97440
|
61098
|
-
|
|
12
|
Karnataka
|
140650
|
118878
|
87199
|
|
13
|
Kerala
|
24734
|
-
|
-
|
|
14
|
Ladakh
|
2196
|
10017
|
139
|
|
15
|
Madhya Pradesh
|
222333
|
362065
|
304520
|
|
16
|
Maharashtra
|
182192
|
-
|
-
|
|
17
|
Manipur
|
40736
|
29985
|
29983
|
|
18
|
Meghalaya
|
59845
|
57560
|
78443
|
|
19
|
Mizoram
|
304
|
30696
|
28186
|
|
20
|
Nagaland
|
40638
|
42448
|
64423
|
|
21
|
Odisha
|
167050
|
157340
|
289738
|
|
22
|
Puducherry
|
8
|
-
|
-
|
|
23
|
Rajasthan
|
45352
|
198676
|
145124
|
|
24
|
Sikkim
|
2553
|
1377
|
1
|
|
25
|
Tamil Nadu
|
7902
|
347
|
|
|
26
|
Telangana
|
132617
|
88534
|
25560
|
|
27
|
The Dadra And Nagar Haveli And Daman And Diu
|
1442
|
-
|
-
|
|
28
|
Tripura
|
37387
|
33375
|
28163
|
|
29
|
Uttar Pradesh
|
8656
|
1020
|
|
|
30
|
Uttarakhand
|
3398
|
3233
|
3710
|
|
31
|
West Bengal
|
71839
|
30395
|
26605
|
|
Grand Total
|
1783768
|
1659187
|
1591200
|
********
) ش ح ۔ ش آ۔ ج)
U.No. 9338
(रिलीज़ आईडी: 2298263)
आगंतुक पटल : 8