زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مشینوں کےذریعے کاشتکاری کی قومی پالیسی

प्रविष्टि तिथि: 11 AUG 2026 4:33PM by PIB Delhi

راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (آر کے وی وائی) کے تحت مرکز کے تعاون سے چلنے والی اسکیم ’’مشینوں کے ذریعے کاشت  کا ذیلی مشن‘‘ (ایس ایم اے ایم) پہلے ہی ملک بھر میں متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ذریعے محکمہ زراعت و کسان بہبود کی جانب سے نافذ کیا جا رہا ہے۔اس اسکیم کے اہم مقاصد میں چھوٹے اور معمولی کسانوں تک زرعی مشینی کاری کی سہولت پہنچانا اور ان علاقوں میں بھی زرعی مشینوں کے استعمال کو فروغ دینا شامل ہے جہاں زرعی وسائل کا فقدان ہے۔ اس کے علاوہ ’’کسٹم ہائرنگ سینٹرز‘‘ یعنی زرعی مشینیں کرائے پر فراہم کرنے والے مراکز کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ چھوٹی  کاشت اور زرعی مشینوں کی انفرادی ملکیت کی زیادہ لاگت کے باعث پیدا ہونے والے معاشی مسائل کو کم کیا جا سکے۔

اس اسکیم کے تحت کسانوں کو زرعی مشینری اور آلات کی خریداری کے لیے ان کی لاگت کا 40 سے 50 فیصد تک مالی تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کسٹم ہائرنگ سینٹرز (سی ایچ سی) قائم کرنے کے لیے بھی مالی مدد دی جاتی ہے۔ 250 لاکھ روپے تک کی لاگت والے منصوبوں کے لیے منصوبے کی کل لاگت کا 40 فیصد تک مالی تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔فارم مشینری بینکس (ایف ایم بی) کے قیام کے لیے 30 لاکھ روپے تک کی لاگت والے منصوبوں میں کل منصوبہ جاتی لاگت کا 80 فیصد تک مالی مدد دی جاتی ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں فارم مشینری بینکس کے لیے یہ مالی تعاون منصوبے کی لاگت کا 95 فیصد تک ہے۔ایس ایم اے ایم کے تحت جدید زرعی مشینری کے استعمال کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، جس میں جدید اور درست زراعت کے آلات، ڈرون، دیگر جدید مشینی کاری کی ٹیکنالوجی اور خواتین کے لیے موزوں زرعی آلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے زرعی مشینری کی جانچ اور تصدیق، صلاحیت سازی، عملی مظاہروں اور تربیت کے لیے بھی مدد فراہم کی جاتی ہے۔

ایس ایم اے ایم کے ساتھ فصلوں کی باقیات کے انتظام کی اسکیم (سی آر ایم) بھی پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور قومی راجدھانی خطہ دہلی میں نافذ کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد رعایتی زرعی مشینری فراہم کرنے، کسٹم ہائرنگ سینٹرز (سی ایچ سی) قائم کرنے اور دیگر اقدامات کے ذریعے فصلوں کی باقیات کے پائیدار انتظام کو فروغ دینا اور پرالی جلانے کے واقعات میں کمی لانا ہے۔2023-24 سے سی آر ایم اسکیم کو راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (آر کے وی وائی) کے تحت ایس ایم اے ایم کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے، جس میں مرکز اور ریاست کے درمیان 60:40 کی مالی شراکت کا تناسب ہے۔باغبانی میں مشینی کاری کو مربوط باغبانی ترقی مشن (ایم آئی ڈی ایچ) کے تحت فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ زرعی  کارکردگی بہتر بنائی جا سکے اور زرعی مزدوروں کی جسمانی محنت اور مشقت کو کم کیا جا سکے۔ ایم آئی ڈی ایچ کے تحت بجلی سے چلنے والی مشینوں اور آلات کی خریداری، جس میں  پودوں کے تحفظ سے متعلق آلات اور نئی مشینوں کی درآمد شامل ہیں، جیسی سرگرمیوں کے لیے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ (اے آئی ایف) کے تحت اہل زرعی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، جیسے کسٹم ہائرنگ سینٹرز (سی ایچ سی) اور فارم مشینری بینکس (ایف ایم بی)، کے لیے شرحِ سود میں رعایت، قرض کی ضمانت اور درمیانی سے طویل مدتی قرض کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

مشینوں کےذریعے کاشتکاری کے شعبے میں تحقیق اور ترقی کا کام بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس کے تحت سات ادارے کام کر رہے ہیں، جن میں چھ آل انڈیا کوآرڈینیٹڈ ریسرچ پروجیکٹس (اے آئی سی آر پی) شامل ہیں، جن کے ملک بھر میں 105 مراکز ہیں۔ اس کے علاوہ دو آل انڈیا نیٹ ورک پروجیکٹس اور چار کنسورشیم ریسرچ پلیٹ فارم بھی کام کر رہے ہیں۔حکومت عالمی سطح پر ہونے والی تکنیکی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیتی ہے اور جہاں مناسب ہو، وہاں موزوں نئی ٹیکنالوجی اور بہترین طریقۂ کار کو اختیار کرتی ہے، تاکہ بھارتی زراعت کی کارکردگی، پیداوار اور پائیداری کو بہتر بنایا جا سکے۔

حکومت زرعی مشینری کی تیاری کے شعبے میں خودکار راستے کے تحت 100 فیصد براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی اجازت دیتی ہے۔ اس کا مقصد عالمی سطح کے اصل سازوسامان تیار کرنے والے اداروں (او ای ایم) کو ملک میں پیداواری یونٹ قائم کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس سے ملک میں زرعی مشینری کی تیاری کو فروغ ملتا ہے، زرعی مشینری کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے اور بھارتی زراعت میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیز کرنے کے لیے مشینری کی تیاری، جدت طرازی اور مشینی کاری کی خدمات کے شعبوں میں ملکی اور نجی اداروں کی شرکت کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ جدید زرعی مشینری اور ڈیجیٹل مشینی کاری کے حل تیار کرنے والے زرعی نئے کاروباری اداروں کو راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا کے تحت زرعی اور متعلقہ شعبوں کی بحالی کے لیے منافع بخش طریقۂ کار (آر کے وی وائی-رفتار) پروگرام کے ذریعےابتدائی مرحلے کی معاونت، جدت طرازی کے مقابلوں اور مالی اعانت کی صورت میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔حکومت کسٹم ہائرنگ سینٹرز اور زرعی مشینری کرائے پر فراہم کرنے والے پلیٹ فارموں کے ذریعے نجی شعبے کی قیادت میں مشینی کاری کی خدمات کی فراہمی کو فروغ دے رہی ہے، جس سے کسانوں کو مشینیں خریدنے کے بجائے انہیں کرائے پر حاصل کرنے کی سہولت ملتی ہے۔حکومت نے زرعی مشینری کی جانچ اور تصدیق کے طریقۂ کار کو بھی آسان بنایا ہے، تاکہ معیار کے ضوابط کو فروغ دیا جا سکے اور مشینری تیار کرنے والے اداروں کو اپنی مصنوعات جلد از جلد بازار میں پیش کرنے میں سہولت ملے۔

فی الحال مشینوں کے ذریعے زراعت کے شعبے میں خصوصی طور پر جنوبی کوریا یا دیگر ترقی یافتہ تکنیکی ممالک کے ساتھ مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تجارتی شراکت داری قائم کرنے کی کوئی مخصوص تجویز نہیں ہے۔ تاہم، زرعی مشینی کاری سمیت زراعت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون مختلف ممالک کے ساتھ موجودہ ادارہ جاتی نظام کے تحت دو طرفہ اور کثیر طرفہ شراکت داری کے ذریعے کیا جاتا ہے۔اس تعاون میں متعلقہ معاہدوں کی دفعات کے مطابق مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی، صلاحیت سازی، ماہرین کے تجربات کا تبادلہ اور باہمی رضامندی سے طے کی گئی دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔

یہ معلومات وزیر مملکت برائے زراعت و کسان بہبود جناب رام ناتھ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔   ع و۔ع ن)

U. No. 1887


(रिलीज़ आईडी: 2298087) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil