بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے وشاکھاپٹنم بندرگاہ پر مال بردار ی کو آسان بنانے کے لیے 334.89 کروڑ روپے کی لاگت سے فلائی اوور کی تعمیر کو منظوری دی


کنونٹ جنکشن سے ڈوک ایریا تک 3.584 کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ کوریڈور تعمیر کیا جائے گا، تاکہ سڑک اور ریل ٹریفک کو الگ کرنے کے علاوہ نو لیول کراسنگ پر لگنے والے ٹریفک جام کے مسئلے کو دور کیا جا سکے

प्रविष्टि तिथि: 11 AUG 2026 8:08PM by PIB Delhi

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے وشاکھاپٹنم پورٹ اتھارٹی میں مال کی ترسیل کو بہتر بنانے، ٹریفک کی بھیڑ کم کرنے اور بندرگاہ کے احاطے میں آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے 334.89 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک اندرونی فلائی اوور کی منظوری دی ہے۔

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے اس منصوبے کو منظوری دی۔ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں  کی وزارت کے سکریٹری کی زیرصدارت مجاز سرمایہ کاری بورڈ نے بھی اس منصوبے کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر سربانند سونووال نے کہاکہ یہ منصوبہ وشاکھاپٹنم بندرگاہ میں موجود ایک اہم رکاوٹ کو دور کرے گا، جس سے مال کی تیز تر نقل و حرکت ممکن ہوگی اور مجموعی عملی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم جدید، بلارکاوٹ اور عالمی سطح پر مسابقتی بندرگاہوں  کےبنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

مجوزہ 3.584 کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ کوریڈور کنونٹ جنکشن کو ڈوک ایریا سے منسلک کرے گا اور بندرگاہ کے اندر سڑک اور ریل ٹریفک کو الگ کرے گا۔ اس منصوبے کا مقصد ریلوے کی نو اہم لیول کراسنگ پر ہونے والی تاخیر کا مسئلہ حل کرنا ہے، جہاں ٹرینوں کی زیادہ آمدورفت کے باعث اس وقت روزانہ تقریباً 18 مرتبہ پھاٹک بند ہوتے ہیں۔

پھاٹکوں کی بار بار بندش کے باعث ٹریفک کی بھیڑ، گاڑیوں کے انتظار کا زیادہ وقت، ایندھن کی اضافی کھپت اور گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے مال کی ترسیل کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ ایلیویٹڈ روڈ کوریڈور کی تعمیر سے گاڑیوں اور مال کی نقل و حرکت زیادہ ہموار ہوگی اور سڑک و ریل ٹریفک کے درمیان ٹکراؤ کے مواقع کم ہوں گے۔

اس منصوبے میں متعلقہ سول اور برقی کام، یوٹیلیٹی لائنوں کی منتقلی، حفاظتی تنصیبات اور پانچ سال تک دیکھ بھال کے کام بھی شامل ہوں گے۔ تعمیراتی کام اس طرح انجام دیے جائیں گے کہ بندرگاہ کی جاری سرگرمیوں، خصوصاً اہم ڈاک علاقوں میں، کم سے کم خلل پڑے۔

اس موقع پرسربانند سونووال نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے بحری شعبے کو اقتصادی ترقی، خود انحصاری اور قومی ترقی کے ایک اہم محرک میں تبدیل کر دیا ہے۔ مضبوط بنیادی ڈھانچے، ترقی پسند اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی اور ہماری بحری صلاحیتوں میں زیادہ سرمایہ کاری کے ذریعے ہم ایک عالمی سطح پر مسابقتی اور خود کفیل بحری نظام تشکیل دے رہے ہیں، جو آتم نربھر بھارت اور 2047 تک وکست بھارت کے سفر کو تقویت دے گا۔

یہ سرمایہ کاری پی ایم گتی شکتی کے فریم ورک کے تحت مربوط بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی پر حکومت کی وسیع تر توجہ سے ہم آہنگ ہے۔ بندرگاہ کے اندر آخری مرحلے کی رابطہ کاری کو بہتر بنانے اور مال کی تیز تر ترسیل کو ممکن بنانے کے ذریعے، توقع ہے کہ یہ ایلیویٹڈ کوریڈور ہندوستان کے بحری رسد اور تجارتی نیٹ ورک میں وشاکھاپٹنم بندرگاہ کے کردار کو مزید مضبوط کرے گا۔

اس منصوبے کو کام شروع ہونے کے بعد 30 ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

*********

UR-1881

(ش ح۔ م ع ن ۔ ن م)


(रिलीज़ आईडी: 2298060) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Telugu