سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
حکومت نے اسمائل-بیگاری اسکیم کے تحت بھیک مانگنے میں مصروف افراد کی بازآبادکاری کے نظام کو مضبوط بنایا
اسمائل-بیگاری اسکیم کے آغاز سے اب تک 45.59 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں؛ 2,824 بچوں سمیت 10,446 افراد کی بازآبادکاری کی گئی ہے
प्रविष्टि तिथि:
11 AUG 2026 6:50PM by PIB Delhi
مرکزی حکومت نے حاشیے پر موجود افراد کے روزگار اور کاروبار کے لیے معاونت (ایس ایم آئی ایل ای) – بھیک مانگنے کے عمل میں مصروف افراد کی جامع بازآبادکاری (اسمائل-بیگاری) اسکیم کے ذریعے بھیک مانگنے میں مصروف افراد کی نگہداشت، بازآبادکاری اور سماجی طور پر دوبارہ معاشرے میں انضمام کو مضبوط بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے ہیں۔
سماجی انصاف و عطائے اختیارات کے وزیر جناب بی ایل ورما نے لوک سبھا میں ڈاکٹر ایم پی عبدالصمد صمدانی کے ایک تحریری سوال کے جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔
جواب میں بتایا گیا کہ 23 اکتوبر 2023 کو اسمائل-بیگاری اسکیم کے آغاز سے لے کر 31 جولائی 2026 تک اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 45.59 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس میں عمل درآمد کرنے والی اتھارٹیز/شہروں کو جاری کیے گئے 40.04 کروڑ روپے بھی شامل ہیں، جبکہ باقی رقم انتظامی اور اسکیم سے متعلق دیگر اخراجات کے لیے استعمال کی گئی ہے۔
31 جولائی 2026 تک اسمائل-بیگاری اسکیم کے تحت 2,824 بچوں سمیت مجموعی طور پر 10,446 افراد کی بازآبادکاری کی جا چکی ہے۔ جواب میں مزید بتایا گیا کہ ان میں 7,622 بالغ مستفیدین شامل ہیں۔
اسکیم کے تحت بچائے گئے بچوں کو ان کی عمر کے لحاظ سے مناسب نگہداشت، تعلیم، مشاورت اور خاندان میں دوبارہ شامل کرنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، اس لیے انہیں پیشہ ورانہ تربیت سے متعلق اقدامات میں شامل نہیں کیا جاتا۔
اسکیم کے تحت اہل مستفیدین کو ان کی دلچسپی، عمر، جسمانی و ذہنی حالت اور مقامی روزگار کے مواقع کی بنیاد پر پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ تربیت میں بڑھئی کا کام، سلائی، ہاؤس کیپنگ، کمیونٹی بیت الخلاؤں کا انتظام، صفائی ستھرائی کی خدمات، بال کاٹنا، سکیورٹی خدمات، کھانا پکانا، باغبانی، ڈرائیونگ/ ای رکشا چلانا اور مقامی طور پر موزوں دیگر پیشے اور روزگار کی سرگرمیاں شامل ہیں۔
مستفیدین کو کمیونٹی/ گروپ پر مبنی خود امدادی گروپ (ایس ایچ جی) تشکیل دینے میں بھی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور انہیں مالی معاونت حاصل کرنے کے لیے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے منسلک کیا جاتا ہے، تاکہ وہ خود روزگار اور آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیاں شروع کر سکیں۔ ان میں ٹفن اسٹال/ کھانے پینے کی ریڑھیاں، سبزی فروخت کرنے کی ریڑھیاں اور گروپ کی بنیاد پر مصالحے، اچار، نمکین اور پاپڑ تیار کرنے جیسے کاروبار شامل ہیں۔
تحریری جواب میں بتایا گیا کہ لوک سبھا میں فراہم کردہ ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لحاظ سے تفصیلات کے مطابق، تمل ناڈو میں بازآبادکاری کیے گئے بالغ مستفیدین کی تعداد سب سے زیادہ 1,557 رہی۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش (1,135)، اتر پردیش (884)، مہاراشٹر (817)، آسام (472)، آندھرا پردیش (466)، جموں و کشمیر (434) اور کیرالہ (418) کا نمبر ہے۔
اسمائل-بیگاری اسکیم کے تحت حکومت کے اقدامات کا مقصد نگہداشت، بازآبادکاری، ہنرمندی کی ترقی، روزگار میں معاونت اور سماجی طور پر دوبارہ معاشرے میں انضمام کے لیے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ باوقار زندگی کے حالات اور بھکاریوں کے پناہ گاہوں/ گھروں کی مؤثر نگرانی کو بھی یقینی بنانا ہے۔
معزز سپریم کورٹ کی جانب سے ایم ایس پیٹر بمقابلہ ریاست قومی دارالحکومت خطہ دہلی، سول اپیل نمبر 12216 آف 2025 میں دی گئی ہدایات کی تعمیل میں، وزارت سماجی انصاف و عطائے اختیارات نے قومی مشاورتی کمیٹی کے ذریعے اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد بھکاریوں کے گھروں کے لیے ماڈل رہنما خطوط تیار کیے ہیں۔ یہ رہنما خطوط ضروری تعمیل اور مؤثر نفاذ کے لیے 13 اپریل 2026 کو تمام ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ارسال کیے گئے تھے۔
قومی مشاورتی کمیٹی میں وزارت قانون و انصاف، وزارت صحت و خاندانی بہبود، وزارت ہاؤسنگ و شہری امور، وزارت خواتین و بہبود اطفال، وزارت ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری، قومی انسانی حقوق کمیشن، ریاستی/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں اور اس شعبے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔
ماڈل رہنما خطوط میں بھیک مانگنے میں مصروف افراد کی انسانی، باوقار اور حقوق پر مبنی بازآبادکاری کے لیے ایک جامع نظام وضع کیا گیا ہے۔ ان میں بنیادی ڈھانچے اور گنجائش کے کم از کم معیارات، احتیاطی صحت نگہداشت اور صفائی ستھرائی، غذائیت اور خوراک کی حفاظت، پیشہ ورانہ تربیت اور بازآبادکاری، قانونی امداد اور بیداری، بچوں اور صنفی حساسیت، جواب دہی، نگرانی، مانیٹرنگ، نفاذ اور تعمیل سے متعلق دفعات شامل ہیں۔
افراد کی شناخت، پروفائلنگ اور بازآبادکاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے وزارت نے ایک مخصوص موبائل ایپلی کیشن تیار کی ہے، جس کے لاگ اِن کی اسناد عمل درآمد کرنے والے شہروں کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں۔ یہ ایپلی کیشن اسمائل-بیگاری اسکیم کے تحت بازآبادکاری کے لیے بھیک مانگنے میں مصروف افراد کا جامع سروے کرنے میں سہولت فراہم کرتی ہے۔
ماڈل رہنما خطوط میں ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے ایک ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے، جس کے ذریعے بچائے گئے افراد/ رہائشیوں کے داخلے، صحت کی صورتِ حال، ہنرمندی کی ترقی اور تربیت، بازآبادکاری، رہائی، فالو اَپ اور خاندان سے دوبارہ ملاپ سے متعلق معیاری معلومات درج کی جائیں گی۔ وزارت کا قومی آن لائن پورٹل اسمائل-بیگاری اسکیم سے متعلق معلومات کے مرکزی ذخیرے کے طور پر کام کرتا ہے اور وقتاً فوقتاً رپورٹنگ اور اسکیم سے متعلق معلومات کی دیکھ بھال کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اسکیم کے نفاذ کی حقیقی وقت میں نگرانی میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
دو سال میں ایک بار بنیادی ڈھانچے اور سماجی آڈٹ
ماڈل رہنما خطوط کے تحت ہر بھکاری/ پناہ گزیں کے گھر کا کم از کم ہر دو سال میں ایک مرتبہ تیسرے فریق کے ذریعے بنیادی ڈھانچے اور سماجی آڈٹ کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ آڈٹ میں عمارت کی ساختی سلامتی، معذور افراد اور مختلف عمر کے افراد کے لیے موزونیت، برقی نظام، صفائی ستھرائی، پانی کی فراہمی اور رہائشیوں کی حفاظت و سلامتی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ضلع سماجی بہبود افسر یا نامزد اتھارٹی آڈٹ سے متعلق تعمیل کی نگرانی اور آڈٹ کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو بروقت دور کرنے کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔ رہنما خطوط میں بھکاریوں/پناہ گزینوں کے گھروں کے لیے کم از کم جگہ کے معیارات بھی مقرر کیے گئے ہیں، تاکہ بھیڑ بھاڑ کی روک تھام اور باوقار زندگی کے حالات کو یقینی بنایا جا سکے۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
U: 1866
(रिलीज़ आईडी: 2297919)
आगंतुक पटल : 26