جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ نے 11 ویں ضلع کلکٹروں کے‘پےجل سمواد’ کا اہتمام کیا


چار اضلاع نے پانی کے ذرائع کی پائیداری، اطلاعات، تعلیم اور مواصلات کی سرگرمیوں کے ذریعہ رویوں میں تبدیلی، شکایات کے ازالہ کے نظام اور مختلف منصوبوں کے باہمی اشتراک کے حوالہ سے اختراعی اقدامات پیش کئے

प्रविष्टि तिथि: 11 AUG 2026 4:09PM by PIB Delhi

محکمۂ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی (ڈی ڈی ڈبلیو ایس)، وزارت جل شکتی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ  ضلع کلکٹروں کے پینے کے پانی سے متعلق مکالمے کے 11ویں اجلاس کا انعقاد کیا۔ اس میں اعلیٰ حکام، ضلع کلکٹروں، ضلع مجسٹریٹوں اور ڈپٹی کمشنروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں جل جیون مشن (جے جے ایم) 2.0 کے نفاذ میں تیزی لانے اور بہترین طریق کار ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے پر غور کیا گیا۔

مکالمے کی صدارت محکمۂ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے کی۔ قومی جل جیون مشن (این جے جے ایم) کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سون اور ریاستی پانی و صفائی مشن (ایس ڈبلیو ایس ایم) اور محکمۂ پینے کے پانی و صفائی ستھرائی کے سینئر افسران بھی  مذکورہ مکالمے میں موجود تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001ZG0P.jpg

 پروگرام سے  خطاب کرتے ہوئے محکمۂ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے ضلع آبی و صفائی مشن (ڈی ڈبلیو ایس ایم) کے بنیادی ادارہ جاتی نظام کے طور پر اہم کردار پر زور دیا اور اضلاع سے کہا کہ وہ باقاعدگی سے ماہانہ اجلاس منعقد کریں اور ان اجلاسوں کی کارروائی جل جیون مشن کے مربوط انتظامی معلوماتی نظام (جے جے ایم آئی ایم آئی ایس) پورٹل پر اپ لوڈ کریں۔ انہوں نے اضلاع پر زور دیا کہ وہ پانی کے ذرائع کی پائیداری کا سائنسی جائزہ لینے کے لیے فیصلہ جاتی معاونتی نظام (ڈی ایس ایس) سے بھی بھرپور استفادہ کریں۔ مانسون کے موسم میں پانی کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے اضلاع سے کہا کہ‘‘ کیچ دی رین - جل سنچیہ جن بھاگیداری’’ مہم کو مزید تیز کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے گرام پنچایتوں، گاؤں کی پانی و صفائی کمیٹیوں، خود امدادی گروپوں، اسکولوں، کالجوں اور دیگر کمیونٹی اداروں کی فعال شمولیت یقینی بنائی جائے، تاکہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے اور طویل مدتی آبی تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے اضلاع پر زور دیا کہ مکمل ہو چکی اسکیموں کے لیے مقررہ طریق کار کے مطابق اسکیم کو فعال کرنے اور لازمی آزمائشی مرحلہ کی تکمیل کے بعد جل ارپن تقریبات جلد منعقد کی جائیں، تاکہ اثاثے باضابطہ طور پر گرام پنچایتوں کے حوالہ کیے جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 2 لاکھ سے زیادہ گاؤں اور ایک لاکھ سے زائد گرام پنچایتیں‘ہر گھر جل’ سرٹیفیکیشن حاصل کر چکی ہیں۔ اب اس کامیابی کو دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کے پائیدار اور کمیونٹی کی قیادت میں انتظام میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پانی کے ذرائع کی پائیداری اور گرے واٹر کے انتظام کے لیے وی بی-جی رام جی جیسی اسکیموں کے ساتھ باہمی اشتراک، پانی اور صفائی ستھرائی کے لیے 16ویں مالیاتی کمیشن کی مختص رقم کے مؤثر استعمال اور گاؤں کے پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کے آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے گرام پنچایت کی سطح پر صارفین سے فیس وصول کرنے پر بھی زور دیا۔

محکمۂ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی نے ‘سجلم شکتی’ کے نفاذ کے لائحۂ عمل پر بھی تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ اس کا مقصد خواتین کی قیادت میں گاؤں کی معاونتی کمیٹیاں قائم کرنا ہے، تاکہ پانی کے معیار کی نگرانی، کمیونٹی کی شمولیت اور پانی کے ذرائع کی پائیداری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

منتخب کیے گئے چار اضلاع اتر کنڑ (کرناٹک)، کھوائی (تری پورہ)، ڈِڈوانا کوچامن (راجستھان) اور چترا (جھارکھنڈ) کی پیش رفت اور بہترین طریق کار بھی متعلقہ ضلع کلکٹروں/ضلع مجسٹریٹوں نے پیش کیے، تاکہ اضلاع ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکیں اور دیگر اضلاع کوجل جیون مشن (جے جے ایم) 2.0 کے تحت عمل درآمد کو مزید مضبوط بنانے میں مدد مل سکے۔

چار اضلاع کی جانب سے متعلقہ ضلع کلکٹر/ضلع مجسٹریٹ/ڈپٹی کمشنر کے ذریعے پیش کی گئی اختراعی بہترین عملی مثالیں

  • اتر کنڑ: کرناٹک — محترمہ کے لکشمی پریا، ڈپٹی کمشنر اور ڈاکٹر دلیش سسی، چیف ایگزیکٹیو آفیسر، ضلع پنچایت نے جغرافیائی اعتبار سے دشوار گزار ضلع میں دیہی علاقوں کو پائیدار بنیادوں پر پانی کی فراہمی کی خدمات یقینی بنانے کے لیے اختیار کیے گئے جامع طریق کار کو پیش کیا۔ اس ضلع میں ساحلی، جنگلاتی اور پہاڑی علاقے شامل ہیں۔ ضلع نے پانی کے ذرائع کو پائیدار بنانے کے لیے اپنی وسیع تر کوششوں کو اجاگر کیا، جن میں جھیلوں، کھلے کنوؤں اور بورویلز کی نقشہ سازی اور گرام پنچایتوں میں پائیداری کے منصوبے تیار کرنا شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے جغرافیائی معلوماتی اعداد و شمار، زیرزمین پانی کے جائزوں اور مقامی وسائل کی نقشہ سازی سے استفادہ کیا جا رہا ہے، تاکہ طویل مدتی آبی تحفظ کے منصوبے تیار کیے جا سکیں۔ آئندہ پانچ برسوں کے دوران وی بی-جی رام جی کے ساتھ باہمی اشتراک کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔

  محکمۂ جنگلات کے ساتھ باقاعدہ رابطہ کاری کے ذریعے کثیر دیہی اسکیموں کے لیے جنگلات اور جنگلی حیات سے متعلق منظوری حاصل کی گئی ہے۔ پنچایت ترقیاتی افسران (پی ڈی اوز) کی استعدادکار میں اضافہ، گاؤں کی پانی و صفائی کمیٹیوں کے باقاعدہ اجلاس اور انجینئروں اور پنچایت کے عہدیداروں کی مشترکہ جانچ نے مقامی نظم و نسق اور جواب دہی کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ پانی کی فراہمی کی اسکیموں، تعمیر کیے گئے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی فراہمی کی صورتحال سے متعلق معلومات گرام پنچایت کی سطح پر عوام کے لیے دستیاب ہیں، جبکہ گرام سبھاؤں اور شراکتی منصوبہ بندی کے عمل کے ذریعے مقامی آبادی کو فعال طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002BP8M.jpg

  • کھوائی، تری پورہ — جناب رجت پنت، ضلع مجسٹریٹ اور کلکٹر نے پائیدار دیہی پینے کے پانی کی خدمات کی فراہمی کے لیے ضلع کے مربوط طریق کار کو پیش کیا۔ اس کے تحت ضلع آبی و صفائی مشن (ڈی ڈبلیو ایس ایم) اور ضلع ترقیاتی رابطہ و نگرانی کمیٹی (دشا) کے باقاعدہ اجلاس، جغرافیائی محل وقوع سے منسلک نگرانی، تیسرے فریق کے ذریعے معیار کی جانچ اور جل ارپن کے ذریعے اسکیموں کو گرام پنچایتوں کے حوالہ کرنے کا منظم طریق کار اختیار کیا گیا ہے۔

انہوں نے دور دراز قبائلی آبادیوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے 15ویں مالیاتی کمیشن کی گرانٹس اور ایم پی ایل اے ڈی ایس فنڈز کے باہمی اشتراک، اسکولوں، خود امدادی گروپوں اور متعلقہ محکموں کی شمولیت کے ساتھ بڑے پیمانے پر اطلاعات، تعلیم اور مواصلات (آئی ای سی) کی سرگرمیوں اور اسکول واٹر کلبوں کو اجاگر کیا۔ ان کلبوں میں خود امدادی گروپوں کی خواتین فیلڈ ٹیسٹنگ کٹس (ایف ٹی کے) کے ذریعے طلبہ کو پانی کے معیار کی جانچ کی تربیت دیتی ہیں۔

ضلع کے مخصوص کردار ‘نرمل مودی’ کے ذریعے بھی بیداری مہمات کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ 6,000 سے زائد خود امدادی گروپوں کی خواتین کمیونٹی کو متحرک کرنے کی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ پانی کے ذرائع کی پائیداری کے لیے آب گیر علاقوں کا تحفظ، شجرکاری، زیرزمین پانی کی سطح میں اضافے کے لیے ڈھانچوں کی تعمیر اور سوچھ بھارت مشن-دیہی، 15ویں مالیاتی کمیشن اور وی بی-جی رام جی کے ساتھ باہمی اشتراک کے ذریعے سوکھے پانی کے انتظام کے لیے سوک پٹس کی تعمیر جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ طویل مدتی آبی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے کرشی وگیان کیندر کے ذریعے کسانوں تک بھی رسائی حاصل کی جا رہی ہے۔ باہمی اشتراک کے ذریعے تمام 860 آنگن واڑی مراکز میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے ڈھانچے بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003I17S.jpg

  • ڈِڈوانا کوچامن، راجستھان — جناب اودھیش مینا، ضلع کلکٹر نے فلورائیڈ اور نمکیات سے متاثرہ زیرزمین پانی کے دیرینہ مسئلہ سے نمٹنے کے لیے ضلع کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ اس مسئلے کے باعث ماضی میں دانتوں اور ہڈیوں سے متعلق فلوروسس کے متعدد معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔ محفوظ پینے کے پانی تک رسائی یقینی بنانے کے لیے ضلع نے زیرزمین پانی پر مبنی علاقائی آبی فراہمی کے نظام کو مضبوط کیا ہے اور دیہی علاقوں میں نل کے ذریعے پانی کی فراہمی کا دائرہ نمایاں طور پر وسیع کیا ہے۔

ضلع نے مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانت اسکیم (منریگا) اور دیگر پروگراموں کے ساتھ باہمی اشتراک کے ذریعے پانی کے ذرائع کو پائیدار بنانے پر بھی زور دیا ہے۔ اس کے تحت روایتی آبی تحفظ اور زیرزمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں ٹانکوں کی تعمیر اور تجدید، آبی ذخائر کی بحالی اور پانی کی قلت والے علاقوں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔

ضلع نے اسکاڈا پر مبنی نگرانی کے نظام کو بھی پیش کیا، جس کے ذریعے ذخائر، پانی صاف کرنے کے مراکز، پمپ ہاؤسز اور گاؤں کی سطح کے پانی کی تقسیم کے نیٹ ورک کی حقیقی وقت میں نگرانی کی جاتی ہے۔ اس نظام سے پانی کے مؤثر انتظام اور خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے میں مدد مل رہی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004YFSV.jpg

  • چترا، جھارکھنڈ — جناب روی آنند، ڈپٹی کمشنر نے دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اسکیموں کے باہمی اشتراک پر مبنی ماڈل پیش کیا۔ پرزنٹیشن میں ضلع کی اختراعی مہم‘‘ پے جل  سمسیا نوارن پکھواڑہ’’  یعنی پینے کے پانی کے مسائل کے حل کا پندرہ روزہ پروگرام کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا۔ یہ ایک خصوصی مہم ہے، جس کے تحت ضلع انتظامیہ، تکنیکی محکموں، پنچایتی راج اداروں اور مقامی آبادی کی مشترکہ فیلڈ کارروائی کے ذریعے پینے کے پانی سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرکے انہیں حل کیا جاتا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ہینڈ پمپس، گاؤں کی پانی کی فراہمی کی اسکیموں، پانی کی قلت اور پانی کے ذرائع کی پائیداری سے متعلق شکایات کو تیزی سے حل کرنے میں مدد ملی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمیونٹی کی ذمہ داری اور شمولیت کو مضبوط بنانے اور پینے کے پانی کی خدمات کی بحالی کے عمل کو تیز کرنے میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ضلع میں‘دشا’ اور پنچایت کی سطح پر باقاعدہ جائزوں کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے۔ پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی دور سے نگرانی کے لیے آئی او ٹی پر مبنی نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔ گاؤں کی سطح پر نوجوانوں کو پمپ آپریٹرز اور پلمبرز کے طور پر تربیت دے کر ان کی استعدادکار میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ‘جل  سہائے’ کارکنوں کے ذریعے خواتین کی قیادت میں پانی کے معیار کی نگرانی کی جا رہی ہے۔منریگا اور دیگر مالی وسائل کے ساتھ باہمی اشتراک کے ذریعے 5,300 سے زائد سوک پٹس، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے ڈھانچے تعمیر کیے گئے ہیں اور زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے اور طویل مدتی آبی تحفظ کو مضبوط کرنے کے لیے تالابوں اور آبی ذخائر کی تجدید و بحالی کی گئی ہے۔ بڑے پیمانے پر اطلاعات، تعلیم اور مواصلات (آئی ای سی) کی سرگرمیوں، جل شکتی مکالموں، جل یاترا اور کمیونٹی کی شمولیت سے متعلق دیگر اقدامات کے ذریعے عوامی شراکت اور دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کی پائیداری کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00596G3.jpg

اختتامی کلمات میں جناب کمل کشور سون، ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر، قومی جل جیون مشن نے منصوبہ بندی، نگرانی اور خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے میں ضلع آبی و صفائی مشن (ڈی ڈبلیو ایس ایم) کے باقاعدہ اجلاسوں، ضلع ڈیش بورڈز اور ضلعی تکنیکی یونٹس (ڈی ٹی یوز) کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے ضلع کلکٹروں سے کہا کہ وہ اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دیں، ڈی ٹی یوز کے مؤثر طور پر کام کرنے کو یقینی بنائیں اور دیہی خود روزگار تربیتی اداروں (آر ایس ای ٹی آئیز)، ریاستی دیہی روزگار مشنوں (ایس آر ایل ایمز) اور ہنرمندی کی ترقی کے پروگراموں کے ساتھ باہمی اشتراک کے ذریعے استعداد کار میں اضافے کو فروغ دیں۔ انہوں نے ‘سجلم شکتی’ کے تحت خواتین کو تربیت دینے اور مقامی سطح پر تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ دیہی پانی کی فراہمی کی خدمات کو طویل مدت تک پائیدار بنایا جا سکے۔

ان پریزنٹیشنز میں جل جیون مشن کے تحت حاصل کی گئی کامیابیوں، درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات اور بہترین طریق کار کو پیش کیا گیا۔ ان سے یہ واضح ہوا کہ ہر گھر جل کا ہدف حاصل کرنے کے لیے پیش رفت تیز کرنے کی غرض سے مختلف اضلاع نے اپنے مقامی حالات کے مطابق متنوع طریق کار اختیار کیے ہیں۔

******

ش ح -ظ ا- ت ع

UR NO. 1835

 


(रिलीज़ आईडी: 2297779) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Kannada