صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

دوبارہ تخلیقی ادویات کے فروغ اور ضابطہ کاری کے لیے کیے گئے اقدامات

صحت کی مرکزی وزارت نے دوبارہ تخلیقی ادویات کے محفوظ اور سائنسی شواہد پر مبنی استعمال کے فروغ کے لیے جامع رہنما خطوط جاری کیے ہیں

حیاتیاتی ٹیکنالوجی کا محکمہ مختلف بیماریوں، بشمول خون سے متعلق اور موروثی امراض، کے علاج کے لیے مقامی دوبارہ تخلیقی طبی ٹیکنالوجی کی تیاری کی غرض سے بنیادی اور عملی تحقیق کو فروغ دے رہا ہے۔ اس تحقیق میں اسٹیم سیل اور جسم سے باہر خلیاتی نظام سمیت جدید طریقۂ کار شامل ہیں

حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے کے تحت ایک خودمختار ادارے، بایوٹیکنالوجی ریسرچ اینڈ انوویشن کونسل - انسٹی ٹیوٹ فار اسٹیم سیل سائنس اینڈ ری جنریٹو میڈیسن نے جدید تحقیقی طریقوں اور اختراعات کے ذریعے بھارت میں دوبارہ تخلیقی طب کو عملی سطح پر فروغ دینے میں اہم رول ادا کیا ہے

 صحت تحقیق کے محکمے نے ملک میں حیاتیاتی طبی تحقیق کو سہولت فراہم کرنے اور اسے فروغ دینے کے ساتھ ساتھ طبی آزمائشیں انجام دینے کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کیا ہے۔ یہ طبی آزمائشیں  صحت تحقیق کے محکمے کے تحت رجسٹرڈ اخلاقی کمیٹیوں کی نگرانی میں کی جاتی ہیں

طبی تحقیق کی بھارتی کونسل (آئی سی ایم آر) بنیادی، قبل از طبی اور طبی تحقیق میں معاونت فراہم کرکے، مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری اور مختلف مالی اعانت سے متعلق پروگراموں کے ذریعے سائنسی شواہد پیدا کرکے دوبارہ تخلیقی طب کے شعبے میں مقامی تحقیق اور اختراع کو فروغ دے رہی ہے

प्रविष्टि तिथि: 11 AUG 2026 1:33PM by PIB Delhi

صحت و خاندانی بہبودکے مرکزی وزیرمملکت جناب پرتاپ راؤ جادھو نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ بتایا کہ مندرجہ ذیل رہنما خطوط دوبارہ تخلیقی ادویات سے متعلق جاری کیے گئے ہیں اور پبلک ڈومین میں دستیاب ہیں:

i. صحت و خاندانی بہبودکی وزارت کے مرکز برائے شواہد پر مبنی رہنما خطوط نے 2025-26 میں مختلف بیماریوں کے علاج میں اسٹیم سیل تھراپی کی افادیت اور حفاظت سے متعلق ’اسٹیم سیل تھراپی کے استعمال کے لیے شواہد پر مبنی رہنما خطوط‘ جاری کیے ہیں۔ یہ سفارشات دستیاب سائنسی شواہد کا محتاط جائزہ لینے کے بعد مرتب کی گئی ہیں۔ اس کے لیے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور برطانیہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس (این آئی سی ای) جیسے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے وضع کردہ طریقۂ کار کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ان رہنما خطوط تک آن لائن درج ذیل لنک کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے:- https://www.dhr.gov.in/offerings/schemes-and-services/details/centre-for-evidence-based-guidelines-EzN1MTMtQWa

ii. بھارتی طبی تحقیقی کونسل (آئی سی ایم آر) نے بتایا ہے کہ اس نے 2023 میں ’نال کے خون کی بینکاری، جمع کرنے، پراسیسنگ، جانچ، ذخیرہ کرنے، بینکاری اور طبی استعمال کے لیے جاری کرنے سے متعلق رہنما خطوط‘ کے عنوان سے ایک دستاویز جاری کی تھی۔یہ دستاویز آن لائن درج ذیل لنک پر دستیاب ہے: https://www.icmr.gov.in/icmrobject/custom_data/pdf/resource-guidelines/GUCBB_F.pdf

iii. بھارتی طبی تحقیقی کونسل (آئی سی ایم آر) نے 2021 میں ’’خون بنانے والے خلیات کی پیوند کاری کے لیے قومی رہنما خطوط‘‘ (این جی ایچ سی ٹی) جاری کیے ہیں۔ یہ دستاویز آن لائن درج ذیل لنک پر دستیاب ہے:- https://www.icmr.gov.in/icmrobject/custom_data/pdf/resource-guidelines/Nat_Guide_HCT.pdf

iv. بھارتی طبی تحقیقی کونسل (آئی سی ایم آر) نے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی بی ٹی) کے اشتراک سے 2019 میں ’’جین تھیراپی مصنوعات کی تیاری اور طبی آزمائشوں کے لیے قومی رہنما خطوط‘‘ جاری کیے ہیں۔ ان رہنما خطوط کا مقصد متعلقہ فریقوں کو بھارت میں جین تھیراپی کی مصنوعات کی تحقیق و ترقی کے لیے درکار ضابطہ جاتی تقاضوں کو سمجھنے اور ان کی پابندی کرنے میں رہنمائی اور سہولت فراہم کرنا ہے۔ان رہنما خطوط تک آن لائن درج ذیل لنک کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے:- https://www.icmr.gov.in/icmrobject/custom_data/pdf/resource-guidelines/guidelines_GTP.pdf

v. بھارتی طبی تحقیقی کونسل (آئی سی ایم آر) نے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی بی ٹی) کے ساتھ مل کر ’’اسٹیم سیل تحقیق کے لیے قومی رہنما خطوط (این جی ایس سی آر-2017)‘‘ بھی جاری کیے ہیں۔ یہ دستاویز سائنسدانوں، معالجین اور صنعت سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو رہنمائی فراہم کرتی ہے اور آن لائن درج ذیل لنک پر دستیاب ہے: (https://www.icmr.gov.in/icmrobject/custom_data/pdf/resource-guidelines/Guidelines_for_stem_cell_research_2017.pdf).

مزید یہ کہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی بی ٹی) نے بتایا ہے کہ وہ مختلف بیماریوں، بشمول خون سے متعلق اور موروثی امراض، کے علاج کے لیے اسٹیم سیل اور جسم سے باہر خلیاتی نظام پر مبنی مقامی دوبارہ تخلیقی طبی ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے، بنیادی اور عملی تحقیق کو معاونت فراہم کر رہا ہے۔مذکورہ محکمے کے خودمختار ادارے بایوٹیکنالوجی ریسرچ اینڈ انوویشن کونسل – انسٹی ٹیوٹ فار اسٹیم سیل سائنس اینڈ ری جنریٹو میڈیسن (بی آر آئی سی-اِن اسٹیم) نے بھی مختلف اختراعات کے ذریعے بھارت میں عملی دوبارہ تخلیقی طب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔مثال کے طور پر، ملک میں انسانوں پر جین تھیراپی کا پہلا طبی آزمائشی تجربہ سینٹر فار اسٹیم سیل ریسرچ (سی ایس سی آر)، ویلور نے کرسچن میڈیکل کالج (سی ایم سی)، ویلور کے اشتراک سے انجام دیاہے۔ سی ایس سی آر، بی آر آئی سی-اِن اسٹیم کا ایک یونٹ ہے۔

 صحت تحقیق کے محکمے (ڈی ایچ آر) نے ملک میں حیاتیاتی طبی تحقیق کو سہولت فراہم کرنے اور اسے فروغ دینے کے ساتھ ساتھ طبی آزمائشیں انجام دینے کے لیے ڈی ایچ آر کے تحت رجسٹرڈ اخلاقی کمیٹیوں کے ذریعے ایک نظام قائم کیا ہے۔ قومی اسٹیم سیل تحقیق ضابطہ کمیٹی (این ایس آر سی) کم سے کم تبدیلی والے اسٹیم سیلز سے متعلق طبی اسٹیم سیل تحقیق کی نگرانی کرتی ہے۔ ایسی تحقیق کے لیے ادارہ جاتی اخلاقی کمیٹی سے منظور شدہ تمام تجاویز کو تحقیق شروع کرنے سے پہلے این ایس آر سی کو بھیجنا ضروری ہوتا ہے۔ حیاتیاتی ادویات اور کاسمیٹکس ایکٹ، 1940 اور نئی ادویات و طبی آزمائشوں کے قواعد، 2019 کے دائرۂ کار میں آنے والی طبی آزمائشوں اور دوبارہ تخلیقی ادویات کی مصنوعات کی تیاری کا ضابطہ بدستور مرکزی ادویات معیاری کنٹرول تنظیم (سی ڈی ایس سی او) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

بھارتی طبی تحقیقی کونسل (آئی سی ایم آر) بنیادی، قبل از طبی اور طبی تحقیق، مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری اور مختلف مالی اعانتی پروگراموں کے ذریعے سائنسی شواہد پیدا کرنے کے لیے معاونت فراہم کرکے دوبارہ تخلیقی طب کے شعبے میں مقامی تحقیق اور اختراع کو فروغ دے رہی ہے۔ حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی بی ٹی) نے بتایا ہے کہ وہ کثیر شعبہ جاتی تحقیق اور جدید تحقیقی پروگراموں کے ذریعے خلیاتی اور جینیاتی بنیاد پر مبنی علاج کے استعمال سے ایسے حل تیار کرنے کے لیے بھی معاونت فراہم کر رہا ہے، جن سے تحقیق و ترقی پر آنے والے بھاری اخراجات کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔

******

 

ش ح ۔ ش م ۔ م ا

Urdu No-1806

                          

 


(रिलीज़ आईडी: 2297611) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil