سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
خلیج بنگال کے شمالی حصے کے اوپر سائنس دانوں نے اوزون کی غیر معمولی تہہ دریافت کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 AUG 2026 5:02PM by PIB Delhi
سائنس دانوں نے خلیج بنگال کے شمالی حصے کے بالائی حصّے میں اوزون کی غیر معمولی طور پر زیادہ مقدار کا پتہ لگایا ہے۔ اس غیر متوقع دریافت سے محققین کو یہ سمجھنے میں مدد مل رہی ہے کہ فضائی دھارے اوزون کو اسٹراٹوسفیئر میں کس طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں۔
اوزون کی تہہ سورج کی نقصان دہ بالائے بنفشی (یو وی) شعاعوں کو جذب کرکے زمین پر زندگی کا تحفظ کرتی ہے اور عام طور پر 25 سے 30 کلومیٹر کی بلندی پر اس کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ محققین طویل عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہندوستانی خطے کے اوپر اسٹراٹوسفیئر میں فضائی گردش اور دیگر حرکیاتی عوامل اوزون کی تقسیم کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔
اسی مقصد کے تحت ملک بھر کے مختلف اداروں کے سائنس دانوں نے، جن میں محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی)، حکومت ہند کے تحت خودمختار ادارہ آریہ بھٹہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزرویشنل سائنسز (آریز) بھی اہم شراکت دار تھا، ملک گیر ماحولیاتی ریڈار نیٹ ورک، موسمی غباروں، سیٹلائٹس اور جدید ماحولیاتی ماڈلز سے حاصل اعداد و شمار کا استعمال کیا۔ اس تجربے کا مقصد زمین سے بہت بلندی پر اوزون کی نقل و حرکت کی تفصیلی تصویر حاصل کرنا تھا۔
امریکن جیو فزیکل یونین (اے جی یو) کے جریدے ارتھ اینڈ اسپیس سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق میں ہندوستان کے ذیلی استوائی خطے میں موسم سرما کے دوران اسٹراٹوسفیرک اوزون کی دوبارہ تقسیم کے تجرباتی شواہد پیش کیے گئے ہیں۔
یہ مطالعہ فیز-1 نیٹ ریڈ-اسما مہم کے تحت کیا گیا، جو ایک ملک گیر سائنسی پروگرام ہے اور اس میں ہندوستان کے مختلف تحقیقی اداروں نے حصہ لیا۔ اس مہم کا مقصد زمین کے ماحول میں ہونے والے پیچیدہ عمل کو بہتر طور پر سمجھنا تھا۔ آریز کے ڈاکٹر منیش نجا اور ڈاکٹر سمریش بھٹاچاریہ سمیت کئی اداروں کے سائنس دانوں اور محققین نے اس میں حصہ لیا۔
مہم کے دوران نینی تال میں آریز کے تیار کردہ 206.5 میگا ہرٹز اسٹریٹوسفیئر-ٹروپوسفیئر (ایس ٹی) ریڈار نے ہریں گھاٹا، گڈنکی اور کوچی میں موجود اسی نوعیت کے ریڈاروں کے ساتھ اعداد و شمار جمع کیے۔
محققین نے ماحول کی صورتحال اور اوزون کی سطح کی پیمائش کے لیے آلات سے لیس موسمی غبارے بھی فضا میں بھیجے۔ ملک کے مختلف حصوں سے بیک وقت اعداد و شمار جمع کرکے سائنس دانوں نے ہندوستان بھر میں ہوا کے بہاؤ اور عمودی فضائی نقل و حرکت کا موازنہ کیا، جس سے انہیں اوزون کی غیر معمولی مقدار اور اس کے پیدا ہونے والے ماحولیاتی حالات کو سمجھنے میں مدد ملی۔
مہم کے دوران سائنس دانوں نے خلیج بنگال کے شمالی حصے کے اوپر تقریباً 21 سے 23 کلومیٹر کی بلندی پر اوزون کی غیر معمولی طور پر موٹی تہہ دریافت کی۔ اس تہہ میں اوزون کی مقدار مشرقی ہندوستان کے اوپر عام طور پر پائی جانے والی مقدار سے کہیں زیادہ تھی اور یہ تہہ ایک دن سے زیادہ عرصے تک برقرار رہی۔ اس غیر متوقع دریافت نے یہ اہم سوال اٹھایا کہ اس بلندی پر اتنی زیادہ مقدار میں اوزون جمع ہونے کی وجہ کیا تھی۔
اس معمے کو حل کرنے کے لیے سائنس دانوں نے اوزون اور موسم کی نگرانی کرنے والے غباروں سے حاصل پیمائشوں کو ملک گیر ریڈار نیٹ ورک، آورا ایم ایل ایس اور انسٹ-3 ڈی آر سیٹلائٹس کے مشاہدات اور جدید ماحولیاتی ماڈلز کے ساتھ یکجا کیا۔ اس جامع طریقہ کار سے انہیں ان عوامل کی نشاندہی کرنے میں مدد ملی جن کے نتیجے میں اوزون کی یہ غیر معمولی تہہ تشکیل پائی۔

فیگر: مہم کے دوران اوزون کے جزوی دباؤ اور درجہ حرارت کے بلندی کے اعتبار سے پروفائلز، جن میں اسٹراٹوسفیرک اوزون کی بڑھی ہوئی تہہ (اوپری پینلز) اور آریز ایس ٹی ریڈار کے ذریعے ریکارڈ کی گئی عمودی فضائی نقل و حرکت (نچلے پینلز) دکھائی گئی ہے
اوزون کی بڑھی ہوئی تہہ دن اور رات دونوں اوقات میں دیکھی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سورج کی روشنی سے ہونے والے فوٹو کیمیکل عمل اس کی تشکیل کی بنیادی وجہ نہیں تھے۔ سیٹلائٹ سے حاصل پیمائشوں میں بھی اوزون کی یہ غیر معمولی ساخت سامنے آئی، جس سے غباروں کے ذریعے حاصل مشاہدات کی تصدیق ہوئی۔
اس کے بعد سائنس دانوں نے کنویکشن، فضائی ہواؤں میں عمودی تبدیلی، افقی نقل و حمل اور عمودی فضائی نقل و حرکت کے کردار کا جائزہ لیا۔ مشاہدات سے معلوم ہوا کہ نچلے اسٹراٹوسفیئر میں ہوا کی مستقل طور پر نیچے کی جانب حرکت جاری تھی۔
مختلف آلات سے حاصل شواہد کو یکجا کرنے کے بعد محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ اوزون کی اس غیر معمولی زیادتی کی بنیادی وجہ اوزون سے بھرپور ہوا کا ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنا، اس کے بعد فضائی حرکت کا نیچے کی جانب ہونا اور ہوا کے ذخیرے کا دباؤ کے باعث سکڑنا تھا۔
یہ نتائج ہندوستان بھر میں ماحولیاتی تحقیق کی مختلف تنصیبات کے درمیان مربوط مشاہدات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ زمین کے ماحول کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے قومی تحقیقی پروگراموں میں مقامی طور پر تیار کردہ آریز اسٹریٹوسفیئر-ٹروپوسفیئر ریڈار اور غباروں پر مبنی پیمائشوں کی اہم شراکت کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔
پبلی کیشن لنک : https://doi.org/10.1029/2025EA004791
***
ش ح ۔ م د ۔ م ص
U :1759
(ریلیز آئی ڈی: 2297382)
وزیٹر کاؤنٹر : 32