وزارتِ تعلیم
این آئی آر ایف رینکنگ میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی پیش رفت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 AUG 2026 3:53PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر سکانت مجمدار نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے مجموعی معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے لیے کثیر الشعبہ جاتی تعلیم کو فروغ دینے، تنقیدی سوچ اور تجزیاتی صلاحیت پیدا کرنے، تحقیق و اختراع کو فروغ دینے، بنیادی ڈھانچے کے معیار کو بہتر بنانے اور اساتذہ کی مؤثر و معیاری تربیت سمیت متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند نے 2015 میں ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کی سالانہ درجہ بندی کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک (این آئی آر ایف) شروع کیا تھا۔ اس کا مقصد تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے درمیان صحت مند مسابقت کو فروغ دینا ہے۔ درجہ بندی کے پانچ اہم پیمانے تدریس، تعلیم اور وسائل، تحقیق و پیشہ ورانہ سرگرمیاں، گریجویشن کے نتائج، رسائی و شمولیت اور ہم مرتبہ اداروں کی رائے ہیں۔
این آئی آر ایف کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد 2021 میں 6,272 سے بڑھ کر 2025 میں 14,163 ہوگئی، جبکہ حصہ لینے والے منفرد اداروں کی تعداد بھی 4,030 سے بڑھ کر 7,692 ہوگئی۔
این آئی آر ایف کے آغاز کے بعد کیو ایس عالمی یونیورسٹی رینکنگ میں شامل ہندوستانی اداروں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تعداد 2015 میں 11 تھی جو 2027 کی کیو ایس عالمی یونیورسٹی درجہ بندی میں بڑھ کر 52 ہوگئی۔
تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مرکزی مالی اعانت والے اداروں میں متعدد اقدامات کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے۔ حکومت ریاستی حکومتوں کو راشٹریہ اُچّتر شکشا ابھیان (روسّا) اور پردھان منتری اُچّتر شکشا ابھیان (پی ایم اُشا) کے تحت اعلیٰ تعلیم میں بہتری کے لیے مالی مدد بھی فراہم کرتی ہے۔ اس میں منتخب ریاستی یونیورسٹیوں میں معیار اور عمدگی میں اضافہ، یونیورسٹیوں کو بنیادی ڈھانچے کے لیے گرانٹ اور کثیر الشعبہ جاتی تعلیم و تحقیق کی یونیورسٹیوں (میرو) کے قیام جیسے اجزا شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی معیار کے ادارے قائم کرنے کے لیے 2017 میں انسٹی ٹیوشنز آف ایمیننس (آئی او ای) اسکیم شروع کی گئی تھی۔ اس کا مقصد ایسے اداروں کی الگ زمرہ بندی کرنا ہے جنہیں تعلیمی، انتظامی اور مالی معاملات میں وسیع خودمختاری حاصل ہو اور وہ مقررہ مدت میں عالمی معیار کے تعلیمی و تحقیقی اداروں کے طور پر ابھر سکیں۔
حکومت نے 2014 کے بعد سے 43 نئے ممتاز تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں، جن میں سات آئی آئی ٹی، آٹھ مرکزی یونیورسٹیاں اور نو آئی آئی ایم شامل ہیں۔ حال ہی میں فروری 2026 میں آئی آئی ایم گوہاٹی کا افتتاح کیا گیا، جو ملک کا 22واں آئی آئی ایم ہے۔ یہ ادارہ فی الحال آسام کے کامروپ ضلع میں عارضی کیمپس سے کام کر رہا ہے۔ اس کی ترقی کے لیے حکومت نے عارضی کیمپس کے قیام، مستقل کیمپس کی تعمیر شروع کرنے اور ابتدائی پانچ برسوں کے دوران ہموار انتظامی امور کے لیے 555 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔
مزید برآں، مئی 2025 میں پانچ نئے آئی آئی ٹی میں تعلیمی و بنیادی ڈھانچے کی توسیع، بشمول ریسرچ پارکس کے قیام، کے لیے 11,828.79 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت کی منظوری دی گئی۔ ان میں آندھرا پردیش کا آئی آئی ٹی تروپتی، کیرالہ کا آئی آئی ٹی پلکڑ، چھتیس گڑھ کا آئی آئی ٹی بھیلائی، جموں و کشمیر کا آئی آئی ٹی جموں اور کرناٹک کا آئی آئی ٹی دھارواڑ شامل ہیں۔
صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنرمندی پر مبنی تعلیم
اسکولوں اور کالجوں میں صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنرمندی پر مبنی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے وزارت تعلیم کی جانب سے بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔
این سی ای آر ٹی نے سی بی ایس ای کے تعاون سے جماعت سوم سے ہشتم تک کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے کمپیوٹیشنل تھنکنگ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نصاب سے متعلق تعلیمی مواد تیار کیا ہے۔
این سی ای آر ٹی نے اساتذہ کو ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے قابل بنانے کے لیے اے آئی سے متعلق تربیتی پروگرام منعقد کیے، جن سے 96,000 سے زیادہ افراد مستفید ہوئے۔ اسی طرح سی بی ایس ای نے اے آئی ٹولز کے تدریس، تعلیم اور تشخیص میں استعمال کے حوالے سے اساتذہ کی تربیت کے لیے گزشتہ تین برسوں میں 1,234 پروگرام منعقد کیے، جن سے سی بی ایس ای سے وابستہ اسکولوں کے 64,775 اساتذہ مستفید ہوئے۔
یو جی سی نے انڈر گریجویٹ طلبہ کے لیے انٹرن شپ اور ریسرچ انٹرن شپ سے متعلق رہنما خطوط بھی جاری کیے ہیں، جن کا مقصد طلبہ کی روزگار کی صلاحیت بہتر بنانا، تحقیق میں دلچسپی پیدا کرنا اور نئی ٹیکنالوجیز سے روشناس کرانا ہے۔
اس کے علاوہ یو جی سی نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے اپرنٹس شپ ایمبیڈڈ ڈگری پروگرام (اے ای ڈی پی) سے متعلق رہنما خطوط وضع کیے ہیں، تاکہ صنعت کی مطلوبہ صلاحیتوں کو یونیورسٹی کے نصاب کا حصہ بنایا جاسکے۔
طلبہ کی روزگار کی صلاحیت بڑھانے کے لیے نیشنل کریڈٹ فریم ورک (این سی آر ایف) بھی جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت تعلیمی نظام میں ہنرمندی کی تعلیم کو مربوط کیا گیا ہے۔ اس کے تحت طلبہ مطلوبہ مجموعی قرض کا زیادہ سے زیادہ 50 فیصد ہنرمندی پر مبنی کورسز کے ذریعے حاصل کرسکتے ہیں۔
اے آئی سی ٹی ای بھی صنعت کی ضروریات اور مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، مشین لرننگ، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے مطابق ماڈل نصاب میں وقتاً فوقتاً ترمیم کرتا ہے۔ اس کے لیے تعلیمی اداروں، صنعت، پیشہ ورانہ تنظیموں اور قومی اہمیت کے اداروں سے مشاورت کی جاتی ہے۔
اے آئی سی ٹی ای صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر آن لائن ہنرمندی کے کورسز، لازمی انٹرن شپ اور پیشہ ورانہ ڈگری پروگرام بھی فراہم کر رہا ہے۔ تکنیکی تعلیم میں انٹرن شپ کو لازمی جزو بنایا گیا ہے تاکہ طلبہ کو صنعت کا عملی تجربہ حاصل ہو اور ان کی روزگار کی صلاحیت میں اضافہ ہو۔
وزارت تعلیم نیشنل اپرنٹس شپ ٹریننگ اسکیم (این اے ٹی ایس) کے ذریعے صنعت کے تعاون سے طلبہ کو عملی تربیت فراہم کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط مضبوط کرنے اور طلبہ کی روزگار کی صلاحیت بڑھانے کے لیے معروف صنعتی اداروں کے تعاون سے ’سویم پلس‘ پلیٹ فارم بھی شروع کیا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر 15 شعبوں میں 89 صنعتی اداروں کے تعاون سے روزگار پر مرکوز 500 سے زائد کورسز دستیاب ہیں۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :1755 )
(ریلیز آئی ڈی: 2297348)
وزیٹر کاؤنٹر : 25