ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: محفوظ جنگلات میں نقصان دہ پودوں کا خاتمہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 AUG 2026 6:44PM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت(ایم او ای ایف سی سی) اور اس کے ذیلی ادارے، سرگرمی کے ساتھ نقصان دہ پودوں کی اقسام (آئی اے پی ایس) کی شناخت اور نگرانی کرتے ہیں۔ جارحانہ انواع کی شناخت کے لیے، فارسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی) کی جانب سے 45 بڑی جارحانہ انواع کا ایک الگ البم تیار کیا گیا ہے۔ فارسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی) کے مطابق، محفوظ جنگلاتی علاقوں میں نقصان دہ پودے بہت زیادہ گھنے سے لے کر معتدل یا کم مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ بوٹینیکل سروے آف انڈیا (بی ایس آئی) نے حال ہی میں جنگلاتی اور غیر جنگلاتی علاقوں میں پھیلنے والی ممکنہ جارحانہ انواع کی ایک جامع، ریاست وار فہرست تیار کر کے نیشنل بائیو ڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے) کو پیش کی ہے، تاکہ جارحانہ انواع کے قومی انتظامی منصوبے کی تیاری میں آسانی ہو سکے۔

محفوظ جنگلات اور دیگر تحفظ یافتہ جنگلاتی علاقوں میں نقصان دہ پودوں کی اقسام کے انتظام و خاتمے اور مقامی  پودوں کی اقسام کی کاشت کا کام متعلقہ ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ اور متعلقہ ایجنسیوں کے ذریعے، مقامی ضروریات اور منظور شدہ جنگلات و جنگلی حیات کے انتظام کے منصوبوں کے ضوابط کے مطابق انجام دیا جاتا ہے۔

حکومت پائیدار جنگلاتی انتظام کے طریقوں کے ذریعے مقامی درختوں کی اقسام کے تحفظ، افزائشِ نو اور ان کی تعداد میں اضافے کو فروغ دیتی ہے۔ نیشنل فارسٹ پالیسی (قومی جنگلاتی پالیسی)، 1988ء ماحولیاتی استحکام کو برقرار رکھنے، ماحولیاتی توازن کی بحالی، اور دیسی/مقامی اقسام کا استعمال کرتے ہوئے شجرکاری اور افزائشِ نو کے ذریعے جنگلات اور درختوں کے رقبے کو بڑھانے کا تصور پیش کرتی ہے۔ مزید برآں، نیشنل ورکنگ پلان کوڈ، 2023ء ماحولیاتی نظام پر مبنی جنگلاتی انتظام کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس میں جارحانہ انواع کا انتظام، تباہ حال جنگلاتی اراضی کی بحالی، مٹی اور نمی کے تحفظ کے اقدامات، واٹر شیڈ کا انتظام اور مقامی ماحولیاتی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے افزائشِ نو اور بحالی کی سرگرمیوں میں مخصوص مقامات کے لیے موزوں دیسی/مقامی اقسام کو ترجیح دینا شامل ہے۔ یہ اقدامات مٹی کی نمی، زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافے، پانی کو روک کر رکھنے کی صلاحیت اور مجموعی طور پر ماحولیاتی نظام کی لچک کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ جانکاری ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت میں وزیر مملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی گئی۔

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:1775


(ریلیز آئی ڈی: 2297343) وزیٹر کاؤنٹر : 46
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Telugu