ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: بنجر شدہ جنگلاتی اراضی کی بحالی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 AUG 2026 6:40PM by PIB Delhi

گرین انڈیا مشن (جی آئی ایم)، جو کہ نیشنل ایکشن پلان آن کلائمیٹ چینج (این اے پی سی سی) کے تحت نو مشنز میں سے ایک ہے، سال 16-2015 سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ایک مربوط زمینی منظرنامے کے نقطہ نظر کے ذریعے تباہ حال جنگلاتی اور غیر جنگلاتی زمینوں کو بحال کرنا ہے۔ گرین انڈیا مشن نے 16-2015 سے اب تک 17 ریاستوں اور ایک مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں 1,84,467 ہیکٹر رقبے کو ماحولیاتی بحالی کے دائرے میں لایا ہے۔ ریاست اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ وار تفصیلات نیچے دی گئی ہیں:

نمبر شمار

ریاستیں

شجرکاری / ماحولیاتی بحالی کا عمل (طبعی رقبہ ہیکٹر میں)

1

آندھرا پردیش

1,433

2

اروناچل پردیش

5,314

3

چھتیس گڑھ

22,601

4

ہریانہ

3,755

5

ہماچل پردیش

1,299

6

جموں و کشمیر

1,778

7

کرناٹک

2,722

8

کیرالہ

14,290

9

مدھیہ پردیش

32,831

10

مہاراشٹر

5,223

11

منی پور

17,488

12

میزورم

19,643

13

اوڈیشہ

20,711

14

پنجاب

7,168

15

سکم

6,567

16

اتراکھنڈ

14,836

17

مغربی بنگال

2,606

18

اترپردیش

4,202

 

کل رقبہ

184467

وزارت شہری علاقوں میں سبزے کو بڑھانے اور ماحولیاتی فوائد کے لیے سال 21-2020 سے 27-2026 کے دوران 600 نگر ون (شہری جنگلات) اور 400 نگر واٹیکا (شہری باغات) کی ترقی کے لیے 'نگر ون یوجنا' (این وی وائی) پر بھی عمل پیرا ہے۔ یہ تصور کیا گیا ہے کہ نگر ون سبزے کو بڑھانے اور ایسے ماحولیاتی اثاثے بنانے میں نمایاں کردار ادا کریں گے جن میں ہوا کے معیار اور مقامی آب و ہوا کو بہتر بنانے کی صلاحیت ہو۔ گرین انڈیا مشن (جی آئی ایم) کے تحت، مالیاتی سال 27-2026 کے دوران منظور شدہ سرگرمیوں کے لیے اب تک سات ریاستوں یعنی چھتیس گڑھ، ہریانہ، کیرالہ، مدھیہ پردیش، منی پور، سکم اور اتر پردیش کو 57.08 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ نگر ون یوجنا کے تحت، شجرکاری اور متعلقہ سرگرمیوں کے لیے ریاستوں کی منظور شدہ تجاویز کی بنیاد پر نیشنل اتھارٹی کیمپا کی جانب سے فنڈز جاری کیے جاتے ہیں۔

گرین انڈیا مشن کے تحت شجرکاری اور ان کی دیکھ بھال کی سرگرمیاں منظور شدہ سالانہ آپریشنل پلان کے مطابق مقامی اداروں کے ذریعے انجام دی جاتی ہیں، جن میں جوائنٹ فارسٹ مینجمنٹ کمیٹیاں، ولیج فارسٹ کمیٹیاں (وی ایف سی) اور دیگر کمیونٹی پر مبنی تنظیمیں شامل ہیں۔ مقامی برادریوں بشمول جے ایف ایم سیز، سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز) وغیرہ کو بھی شامل کیا جاتا ہے، جہاں بھی منظور شدہ سرگرمیوں میں اس کی گنجائش موجود ہو، خاص طور پر شجرکاری کی دیکھ بھال، نرسری اگانے اور روزگار سے جڑی متعلقہ سرگرمیوں کے لیے۔

گرین انڈیا مشن کے تحت شجرکاری کی نگرانی کے لیے کثیر سطحی طریقہ کار اپنایا جاتا ہے، جس میں مرکزی اور ریاستی دونوں نظام شامل ہیں۔ یہ مشن ٹیکنالوجی سے لیس نگرانی کے نظام کے استعمال کو فروغ دیتا ہے، جس میں شجرکاری کے مقامات کی جیو ٹیگنگ، جی آئی ایس پر مبنی میپنگ، جیو ٹیگ شدہ تصاویر اور کے ایم ایل فائلیں شامل ہیں۔ ریاستی محکمہ جاتِ جنگلات وقتاً فوقتاً زمینی معائنہ اور تھرڈ پارٹی سے نگرانی کرواتے ہیں، اور پودوں کے زندہ رہنے کی شرح کے تخمینے کی بنیاد پر خالی جگہوں کو بھرنے اور دیکھ بھال جیسے اصلاحی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ریاستوں کی طرف سے جہاں کہیں بھی ڈرون کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے، وہ زمینی تصدیق کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔ مزید برآں، فارسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی) گراؤنڈ ویریفکیشن کی مدد سے ریموٹ سینسنگ کا استعمال کرتے ہوئے جنگلاتی رقبے کا دو سالہ تخمینہ لگاتا ہے، جس میں ریاست مہاراشٹر بھی شامل ہے، اور ان نتائج کو 'انڈیا اسٹیٹ آف فارسٹ رپورٹ' (آئی ایس ایف آر) میں شائع کرتا ہے۔

یہ جانکاری ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت میں وزیر مملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی گئی۔

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:1774


(ریلیز آئی ڈی: 2297339) وزیٹر کاؤنٹر : 32
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil