بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ڈیجیٹل نظام سے جوڑنے کی پہل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 AUG 2026 5:40PM by PIB Delhi

بجلی ایک مشترکہ موضوع ہے، اس لیے صارفین کو بجلی کی فراہمی سمیت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکامس) کے امور اور ان کی ڈیجیٹلائزیشن، متعلقہ بجلی تقسیم کار ادارے کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے، جو متعلقہ ریاستی حکومت اور ریاستی بجلی ضابطہ کار کمیشن کی رہنمائی میں کام کرتا ہے۔ حکومتِ ہند نے اس سے قبل دسمبر 2014 میں شروع کی گئی مربوط بجلی ترقی اسکیم (آئی پی ڈی ایس)، 2015 میں قائم کیے گئے قومی اسمارٹ گرڈ مشن (این ایس جی ایم) اور فی الحال جولائی 2021 میں شروع کی گئی نظرثانی شدہ تقسیمِ بجلی شعبہ اسکیم (آر ڈی ایس ایس) جیسی مختلف اسکیموں کے ذریعے ریاستوں کی کوششوں میں معاونت کی ہے۔ آر ڈی ایس ایس کا مقصد مالی طور پر پائیدار اور عملی طور پر مؤثر بجلی تقسیم کے نظام کے ذریعے بجلی کی فراہمی کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

آئی پی ڈی ایس کے تحت 58,686 کروڑ روپے مالیت کے کام مکمل کیے گئے۔ ان کے ذریعے اس وقت کے نظرثانی شدہ تیز رفتار بجلی ترقی اور اصلاحات پروگرام (آر-اے پی ڈی آر پی) کے تحت بجلی کی تقسیم کے شعبے کو اطلاعاتی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے میں مدد ملی۔ اس میں 59 شہروں میں ادارہ جاتی وسائل کی منصوبہ بندی (ای آر پی)، ایس سی اے ڈی اے/ڈی ایم ایس، 1,414 شہروں میں حقیقی وقت کے اعداد و شمار کے حصول کا نظام (آر ٹی-ڈی اے ایس) اور 6.54 لاکھ اسمارٹ میٹروں کی تنصیب کے کام شامل تھے۔ یہ اسکیم مارچ 2022 میں بند کر دی گئی۔

این ایس جی ایم کا مقصد بھارت میں اسمارٹ گرڈ سے متعلق پالیسیوں اور پروگراموں کے نفاذ کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرنا ہے۔ مشن کے اہم اجزا میں منصوبوں کی تیاری میں معاونت سمیت ابتدائی قابلِ عمل ہونے کے مطالعات، منصوبوں کا جائزہ، منصوبوں کے لیے مالی معاونت، تربیت اور صلاحیت سازی شامل تھے۔ این ایس جی ایم کے تحت راجستھان میں 1,45,343 اسمارٹ میٹر اور چنڈی گڑھ میں 24,214 اسمارٹ میٹر نصب کیے گئے۔ مشن کے تحت مجموعی طور پر 72.27 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جن میں سے 31.85 کروڑ روپے مالی سال 2023 کے بعد جاری کیے گئے۔ یہ مشن مارچ 2024 میں بند کر دیا گیا۔

آر ڈی ایس ایس کے تحت بجلی تقسیم کار اداروں کو بجلی کے ترسیلی نقصانات میں کمی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے کاموں اور اسمارٹ میٹرنگ کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت بجلی کے نقصانات میں کمی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے کاموں کے لیے 1.53 لاکھ کروڑ روپے اور اسمارٹ میٹرنگ کے کاموں کے لیے 1.31 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔ ان میں بجلی تقسیم کار اداروں کو ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنے سے متعلق کام بھی شامل ہیں، جن میں بطورِ خاص درج ذیل اقدامات شامل ہیں:

  1. 19.79 کروڑ صارفین، 2.05 لاکھ فیڈرز اور 52.53 لاکھ تقسیم کار ٹرانسفارمروں (ڈی ٹی) پر محیط اسمارٹ میٹرنگ کے کام اور اس سے متعلق ڈیجیٹل نظام۔
  2. 394 شہروں کے لیے 2,627 کروڑ روپے مالیت کے ایس سی اے ڈی اے (نگرانی، کنٹرول اور اعداد و شمار کے حصول کا نظام) / ڈی ایم ایس (تقسیمِ بجلی کے انتظام کا نظام) کے کام منظور کیے گئے ہیں۔
  3. 3,999 کروڑ روپے مالیت کی اطلاعاتی ٹیکنالوجی/عملی ٹیکنالوجی سے متعلق کام، جن میں ادارہ جاتی وسائل کی منصوبہ بندی (ای آر پی) کے نظام، یکساں بلنگ کے حل، جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی کام اور حقیقی وقت میں اعداد و شمار کے حصول کے نظام (آر ٹی-ڈی اے ایس) شامل ہیں۔
  4. سات شہروں کے لیے 8,608 کروڑ روپے مالیت کے اسمارٹ بجلی تقسیم کے کام منظور کیے گئے ہیں، جن میں ایس سی اے ڈی اے اور اسمارٹ ٹیکنالوجی سے متعلق کام، جی آئی ایس پر مبنی بجلی کے ذیلی مراکز، تقسیم کار ٹرانسفارمروں کی حالت کی نگرانی اور انتظام، ہائی ٹینشن/لو ٹینشن لائنوں کو زیرِ زمین بچھانا اور بجلی کے نظام میں توسیع و جدید کاری کے کام شامل ہیں۔

مندرجہ بالا کام 28 ریاستوں اور 45 بجلی تقسیم کار اداروں کے لیے منظور کیے گئے ہیں۔ آر ڈی ایس ایس کے تحت منظور کیے گئے اسمارٹ میٹرنگ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی/عملی ٹیکنالوجی، ایس سی اے ڈی اے/حقیقی وقت میں اعداد و شمار کے حصول کے نظام اور اسمارٹ بجلی تقسیم کے کاموں کی ریاست وار تفصیلات جدول اول تا دوم میں دی گئی ہیں۔ اب تک مالی سال 2023 سے آر ڈی ایس ایس کے تحت 47,124 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں اسمارٹ میٹرنگ کے کاموں کے لیے جاری کیے گئے 2,733 کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔

مزید برآں، ملک بھر میں ڈیجیٹل نظام کو اپنانے کے عمل کو فروغ دینے کے لیے حکومتِ ہند نے انڈیا انرجی اسٹیک (آئی ای ایس) کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد بجلی کے پورے شعبے میں اعداد و شمار کے تبادلے کے لیے ایک عالمگیر ڈیجیٹل نظام قائم کرنا ہے۔

آر ڈی ایس ایس کے تحت ڈسکام کے عملے کو ڈیجیٹل نظام سمیت مختلف شعبوں میں تربیت دینے اور ان کی صلاحیت سازی کے لیے 100.9 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے جولائی 2026 تک 23.36 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں اور مجموعی طور پر 14,853 اہلکاروں کو تربیت دی گئی ہے۔ آر ڈی ایس ایس کے تحت تربیت حاصل کرنے والے اہلکاروں کی ریاست وار تفصیلات جدول سوم میں دی گئی ہیں۔

جدول اول

آر ڈی ایس ایس کے تحت منظور کیے گئے اسمارٹ میٹرنگ اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی/عملی ٹیکنالوجی سے متعلق کاموں کی ریاست وار تفصیلات

 

نمبر شمار

ریاست/مرکز کے زیرانتظام علاقے

اسمارٹ میٹرنگ کے کاموں کی منظور شدہ لاگت (کروڑ روپے)

منظور شدہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی/عملی ٹیکنالوجی سے متعلق کاموں کی لاگت (کروڑ روپے)**

1

انڈمان اور نکوبار جزائر

54

-

2

آندھرا پردیش

4,128

120

3

اروناچل پردیش

184

22

4

آسام

4,050

62

5

بہار

2,021

406

6

چھتیس گڑھ

4,105

121

7

دہلی

13

-

8

گوا

469

39

9

گجرات

10,642

507

10

ہریانہ

0

276

11

ہماچل پردیش

1,788

82

12

جموں و کشمیر

1,064

119

13

جھارکھنڈ

858

83

14

کرناٹک

0

-

15

کیرالہ

8,231

238

16

لداخ

0

-

17

مدھیہ پردیش

8,911

425

18

مہاراشٹر

15,215

171

19

منی پور

121

40

20

میگھالیہ

310

21

21

میزورم

182

10

22

ناگالینڈ

208

15

23

پڈوچیری

251

-

24

پنجاب

5,769

136

25

راجستھان

9,715

455

26

سکم

97

22

27

تمل ناڈو

19,235

3

28

تلنگانہ

0

-

29

تریپورہ

319

44

30

اتر پردیش

18,956

260

31

اتراکھنڈ

1,106

226

32

مغربی بنگال

12,670

96

 

کل

1,30,671

3,999

*نقصانات میں کمی کے جزو کے تحت منظور شدہ

جدول دوم

الف۔ آر ڈی ایس ایس کے تحت منظور کیے گئے ایس سی اے ڈی اے/حقیقی وقت میں اعداد و شمار کے حصول کے نظام (آر ٹی-ڈی اے ایس) کے کاموں کی ریاست وار تفصیلات

نمبر شمار

ریاست/مرکز کے زیرانتظام علاقے

آر ڈی ایس ایس کے تحت ایس سی اے ڈی اے/ڈی ایم ایس والے شہروں کی تعداد

آر ڈی ایس ایس کے تحت آر ٹی-ڈی اے ایس/ایس ایف ایم ایس فیڈرز کی تعداد

1

آندھرا پردیش

0

-

2

آسام

0

-

3

بہار

1

-

4

چھتیس گڑھ

0

-

5

دہلی

1

-

6

گوا

0

-

7

گجرات

192

14,000

8

ہریانہ

2

-

9

ہماچل پردیش

43

-

10

جموں و کشمیر

0

-

11

جھارکھنڈ

0

-

12

کیرالہ

3

-

13

مدھیہ پردیش

147

-

14

مہاراشٹر

1

-

15

میگھالیہ

0

-

16

میزورم

0

-

17

اوڈیشہ

0

-

18

پڈوچیری

0

-

19

پنجاب

0

-

20

راجستھان

0

-

21

تمل ناڈو

0

-

22

تلنگانہ

0

-

23

اتر پردیش

3

-

24

اتراکھنڈ

3

1,269

25

مغربی بنگال

0

-

 

کل

396

15,269

 

نوٹ: (i) آر ڈی ایس ایس کے تحت آر ٹی-ڈی اے ایس/ایس ایف ایم ایس کے کام مضافاتی اور دیہی علاقوں کے فیڈرز پر مشتمل ہیں۔

 

ب۔ آر ڈی ایس ایس کے تحت منظور کیے گئے اسمارٹ بجلی تقسیم کے کام

 

نمبر شمار

ریاست

ڈسکام

شہر

منظور شدہ اخراجات (کروڑ روپے(

منظور شدہ مرکزی گرانٹ (کروڑ روپے(

1

ہریانہ

ڈی ایچ بی وی این ایل

گروگرام

706.04

423.62

2

ہریانہ

ڈی ایچ بی وی این ایل

فرید آباد

2,932.17

1,759.30

3

اتر پردیش

کیسکو

کانپور

751.27

450.76

4

اتر پردیش

پی وی وی این ایل

نوئیڈا

1,333.20

799.92

5

اتر پردیش

پی یو وی این ایل

وارانسی

1,455.18

873.11

6

بہار

ایس بی پی ڈی سی ایل

پٹنہ

873.67

524.21

7

اتراکھنڈ

یو پی سی ایل

رشی کیش

556.05

500.44

 

کل

 

 

8,607.58

5,331.36

 

جدول سوم

آر ڈی ایس ایس کے تحت تربیت حاصل کرنے والے اہلکاروں کی ریاست وار تفصیلات

 

نمبر شمار

ریاست

ڈسکام

شرکاء

1

انڈمان نکوبار

اے اینڈ این پی ڈی

48

2

آندھرا پردیش

اے پی سی پی ڈی سی ایل

332

3

اے پی ای پی ڈی سی ایل

754

4

اے پی ایس پی ڈی سی ایل

487

5

اروناچل پردیش

اروناچل پی ڈی

205

6

آسام

اے پی ڈی سی ایل

250

7

بہار

این بی پی ڈی سی ایل

176

8

ایس بی پی ڈی سی ایل

205

9

چھتیس گڑھ

سی ایس پی ڈی سی ایل

311

10

دہلی

این ڈی ایم سی

75

11

گوا

گوا-پی ڈی

297

12

گجرات

ڈی جی وی سی ایل

306

13

ایم جی وی سی ایل

130

14

پی جی وی سی ایل

309

15

یو جی وی سی ایل

274

16

ہریانہ

ڈی ایچ بی وی این ایل

388

17

یو ایچ بی وی این ایل

195

18

ہماچل پردیش

ایچ پی ایس ای بی ایل

531

19

جموں و کشمیر

جے پی ڈی سی ایل

186

20

کے پی ڈی سی ایل

159

21

جھارکھنڈ

جے بی وی این ایل

277

22

کرناٹک

بیس کام

170

23

سی ای ایس سی او ایم

147

24

جی ای ایس سی او ایم

39

25

ہیسکام

184

26

میسکوم

40

27

کیرالہ

ٹی سی ای ڈی+ سی پی ٹی

180

28

کے ایس ای بی ایل

823

29

لداخ

لداخ پی ڈی

81

30

مدھیہ پردیش

ایم پی پی کے وی وی سی ایل-سی

347

31

ایم پی پی کے وی وی سی ایل-ای

479

32

ایم پی پی کے وی وی سی ایل-ڈبلیو

495

33

مہاراشٹر

بہترین

256

34

ایم ایس ای ڈی سی ایل

626

 

35

منی پور

ایم ایس پی ڈی سی ایل

103

36

میگھالیہ

ایم پی ڈی سی ایل

161

37

میزورم

میزورم۔ پی ڈی

121

38

ناگالینڈ

ڈی او پی

42

39

پڈوچیری

پی ای ڈی

214

40

پنجاب

پی ایس پی سی ایل

330

41

راجستھان

اے وی وی این ایل

179

42

جے ڈی وی وی این ایل

364

43

جے وی وی این ایل

280

44

سکم

ڈی او پی سکم

144

45

تمل ناڈو

ٹی این پی ڈی سی ایل/ٹی اے این جی ای ڈی سی او

884

46

تلنگانہ

ٹی ایس این پی ڈی سی ایل

80

47

ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل

111

48

تریپورہ

ٹی ایس ای سی ایل

366

49

اتر پردیش

ڈی وی وی این ایل

226

50

کیسکو

309

51

ایم وی وی این ایل

234

52

پی وی وی این ایل

327

53

پی یو وی این ایل

238

54

اتراکھنڈ

یو پی سی ایل

130

55

مغربی بنگال

ڈبلیو بی ایس ای ڈی سی ایل

248

کل

14,853

یہ معلومات بجلی کی وزارت کے وزیر مملکت جناب شری پد نائک نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔

****

 

( ش ح ۔ ع ح ۔ م ا )

Urdu.No-1753


(ریلیز آئی ڈی: 2297283) وزیٹر کاؤنٹر : 35
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil