جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ملک میں زیرِ زمین پانی کے اوسط استعمال اور اس کے معیار کی صورتِ حال

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 AUG 2026 4:47PM by PIB Delhi

سینٹرل گراؤنڈ واٹربورڈ (سی جی ڈبلیو بی) متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ملک میں زیرِ زمین پانی کے وسائل کا جائزہ لیتا ہے۔ اس جائزے میں سالانہ زیرِ زمین پانی کی بھرائی، سالانہ قابلِ استخراج زیرِ زمین پانی کے وسائل اور آب پاشی، گھریلو اور صنعتی ضروریات کے لیے سالانہ زیرِ زمین پانی نکالنے کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ 2025 میں تغیراتی زیرِ زمین پانی کے وسائل کے جائزے کے مطابق، ملک میں سالانہ زیرِ زمین پانی کی مجموعی تجدید 449 ارب مکعب میٹر (بی سی ایم)، سالانہ قابلِ استخراج زیرِ زمین پانی کے وسائل 408 ارب مکعب میٹر اور تمام استعمال کے لیے سالانہ زیرِ زمین پانی نکالنے کا عمل (جو زیرِ زمین پانی کے استعمال کی نمائندگی کرتا ہے) 247 ارب مکعب میٹر لگایا گیا ہے۔ سالانہ زیرِ زمین پانی کے کل اخراج میں سے 215 ارب مکعب میٹر (87 فیصد) آب پاشی، 28 ارب مکعب میٹر (11 فیصد) گھریلو ضروریات، بشمول پینے کے پانی اور 4 ارب مکعب میٹر (2 فیصد) صنعتی ضروریات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

تغیراتی زیرِ زمین پانی کے وسائل کے جائزے میں فی کس زیرِ زمین پانی کے استعمال کا تخمینہ نہیں لگایا جاتا۔ تاہم، اس میں زیرِ زمین پانی کے اخراج کی سطح کا جائزہ لیا جاتا ہے، جو سالانہ زیرِ زمین پانی کے اخراج اور سالانہ قابلِ استخراج زیرِ زمین پانی کے وسائل کے درمیان تناسب کو ظاہر کرتی ہے۔ جائزے کے مطابق، ملک میں زیرِ زمین پانی کے اخراج کی سطح 60.63 فیصد ہے۔ 9 ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں، یعنی پنجاب، راجستھان، ہریانہ، دہلی، پڈوچیری، تمل ناڈو، اتر پردیش، چندی گڑھ اور کرناٹک میں زیرِ زمین پانی کے اخراج کی سطح قومی اوسط سے زیادہ ہے۔ جائزے کے نتائج کو ضلع وار یکجا کرنے کی بنیاد پر 281 اضلاع میں زیرِ زمین پانی کے اخراج کی سطح قومی اوسط سے زیادہ پائی گئی ہے۔ ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ وار اور ضلع وار تفصیلات دیئے گئے اس لنک https://cgwb.gov.in/PQ/Stage_of_Groundwater_Extraction_more_than-Annexure.pdfپر دستیاب ہیں۔

2024 میں مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی) کی جانب سے کیے گئے بھارت کے آبی وسائل کے جائزے کے مطابق، سال 2021 میں ملک میں فی کس اوسط سالانہ پانی کی دستیابی کا تخمینہ 1,573.19 مکعب میٹر لگایا گیا تھا۔

مرکزی زمینی پانی بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) اپنے زیرِ زمین پانی کے معیار کی نگرانی کے پروگرام اور مختلف سائنسی مطالعات کے ذریعے، منظور شدہ معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) کے مطابق زیرِ زمین پانی کے معیار سے متعلق اعداد و شمار تیار کرتا ہے۔ اس طریقۂ کار میں خاص طور پر حساس علاقوں میں زیادہ تواتر اور زیادہ وسیع پیمانے پر نمونے حاصل کرنے کا انتظام ہے۔ زیرِ زمین پانی کا معیار مقامی زمینی آبیاتی اور دیگر حالات کے مطابق مختلف علاقوں اور مختلف اوقات میں بدلتا رہتا ہے۔ سالانہ زیرِ زمین پانی کے معیار کی رپورٹ 2025 کے مطابق، ملک میں زیرِ زمین پانی عموماً پینے کے قابل ہے اور تقریباً 99 فیصد نگرانی مراکز پر زیرِ زمین پانی کا معیار آب پاشی کے لیے موزوں پایا گیا ہے۔ چونکہ مختلف آلودہ عناصر کی موجودگی اور ان کی جغرافیائی تقسیم میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے، اس لیے سی جی ڈبلیو بی ریاستوں یا اضلاع کو زیرِ زمین پانی کے بدترین معیار کی بنیاد پر درجہ بند یا درجہ بندی نہیں کرتا۔ بہار سمیت ملک میں زیرِ زمین پانی کے معیار سے متعلق مختلف پیمانوں کے اعداد و شمار سالانہ زیرِ زمین پانی کے معیار کی رپورٹ 2025 میں دستیاب ہیں، جسے دیئے گئے اس لنک https://cgwb.gov.in/cgwbpnm/public/uploads/documents/1762854375262680475file.pdf پر دیکھا جا سکتا ہے۔

سالانہ زیرِ زمین پانی کے معیار کی رپورٹ 2025 کے مطابق، بہار میں زیرِ زمین پانی کے معیار کی نگرانی سے بعض مقامات پر نمکیات، فلورائیڈ، نائٹریٹ وغیرہ کی آلودگی کی موجودگی سامنے آئی ہے۔ تجزیہ کیے گئے 584 زیرِ زمین پانی کے نمونوں میں سے 5 نمونوں میں برقی موصلیت مقررہ قابلِ قبول حد سے زیادہ، 39 نمونوں میں فلورائیڈ اور 78 نمونوں میں نائٹریٹ کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی۔

پانی ریاستی موضوع ہے، اس لیے زیرِ زمین پانی کے معیار میں بہتری، زیرِ زمین پانی کے انتظام، پانی کی دوبارہ بھرائی اور تحفظ کے اقدامات کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد بنیادی طور پر متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ تاہم، حکومتِ ہند سائنسی مطالعات، تکنیکی رہنمائی، پالیسی معاونت اور مختلف پروگراموں کے تحت مالی امداد کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی کوششوں میں تعاون کرتی ہے۔ اس سلسلے میں، بہار سمیت ملک میں کیے گئے اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  1. سینٹرل گراؤنڈ واٹربورڈ (سی جی ڈبلیو بی)، ملک بھر میں زیرِ زمین پانی کے معیار کی باقاعدگی سے نگرانی کرتا ہے اور نگرانی سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سالانہ زیرِ زمین پانی کے معیار کی رپورٹس، زیرِ زمین پانی کے معیار کے بلیٹن اور ہر پندرہ روز بعد جاری ہونے والے زیرِ زمین پانی کے معیار کے انتباہات (جی ڈبلیو کیو اے) کے ذریعے عام کرتا ہے۔ نگرانی کے اعداد و شمار متعلقہ ریاستی حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ شیئر کیے جاتے ہیں، تاکہ آلودہ علاقوں کی نشاندہی، مناسب تدارکی اقدامات کی منصوبہ بندی اور زیرِ زمین پانی کے انتظام میں سہولت ہو۔
  2. سینٹرل گراؤنڈ واٹربورڈ نے قومی آبی تہہ کی نقشہ سازی اور انتظامی پروگرام (این اے کیو یو آئی ایم 1.0) کے تحت ملک کے تقریباً 25 لاکھ مربع کلومیٹر قابلِ نقشہ رقبے میں آبی تہوں کی نقشہ سازی مکمل کر لی ہے، جس میں بہار کا تقریباً 90,567 مربع کلومیٹر رقبہ بھی شامل ہے۔ اس پروگرام کے تحت تیار کیے گئے آبی تہوں کے نقشے اور انتظامی منصوبے متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ شیئر کیے گئے ہیں، تاکہ زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بھرائی، پانی کے معیار کا جائزہ اور انتظام، زیرِ زمین پانی کی پائیدار ترقی اور سائنسی بنیادوں پر آبی وسائل کی منصوبہ بندی میں مدد مل سکے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے این اے کیو یو آئی ایم 2.0 کے تحت ترجیحی علاقوںسمیت پانی کی قلت والے علاقوں اور زیرِ زمین پانی کے معیار سے متاثرہ علاقوں میں آبی تہوں کی تفصیلی نقشہ سازی اور انتظامی مطالعات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ 2023-24 سے 2025-26 کے دوران این اے کیو یو آئی ایم 2.0 کے تحت ملک بھر میں تقریباً 76,857 مربع کلومیٹر پر محیط 143 مطالعاتی علاقوں کا احاطہ کیا گیا، جن میں بہار کے تقریباً 3,202.94 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل آبی تہوں کی نقشہ سازی کے پانچ اعلیٰ تفصیلی مطالعاتی علاقے بھی شامل ہیں۔
  • iii. سینٹرل گراؤنڈ واٹربورڈ نے آرسینک سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ گہرائی میں موجود آرسینک سے محفوظ آبی تہوں سے پانی حاصل کرنے کے لیے سیمنٹ سیل کرنے کی جدید ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے 525 آرسینک سے محفوظ تجرباتی کنویں تعمیر کیے گئے ہیں، جن میں بہار کے 40 کنویں بھی شامل ہیں۔ مزید عمل درآمد کے لیے یہ ٹیکنالوجی ریاستی حکومتوں کے ساتھ بھی شیئر کی گئی ہے۔
  1. جل جیون مشن (جے جے ایم) ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے، تاکہ ہر دیہی گھرانے کو مقررہ معیار کے مطابق صاف پینے کا پانی مناسب مقدار میں، باقاعدگی سے اور طویل مدتی بنیاد پر نل کے ذریعے فراہم کیا جا سکے۔ اس مشن کے تحت پانی کے معیار سے متاثرہ اور پانی کی قلت والے علاقوں کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بھرائی اور آبی ذخائر کی بحالی کے ذریعے پانی کے ذرائع کو طویل مدت تک پائیدار بنانے کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اب تک ملک کے 15.90 کروڑ دیہی گھرانوں کو نل کے ذریعے پانی کے کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں، جو ملک کے تقریباً 82 فیصد دیہی گھرانوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں بہار کے تقریباً 1.60 کروڑ گھرانے (95.71 فیصد) بھی شامل ہیں۔
  2. زیرِ زمین پانی کے وسائل میں اضافے کے لیے بنیادی طور پر جل شکتی ابھیان (جے ایس اے) کے ذریعے کوششیں کی جا رہی ہیں، جو پانی کے تحفظ اور مصنوعی طور پر زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بھرائی کے لیے ہر سال مشن کی طرز پر چلائی جانے والی مہم ہے۔ مختلف منصوبوں کے باہمی اشتراک سے ملک بھر میں 2 کروڑ سے زیادہ پانی کے تحفظ اور مصنوعی زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بھرائی کے کام کیے گئے ہیں، جن میں بہار کے تقریباً 5.75 لاکھ کام بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جل شکتی کیندر ضلع سطح پر وسائل اور معلومات کے مراکز کے طور پر قائم کیے گئے ہیں، جہاں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بھرائی اور پانی کے تحفظ کے بارے میں تکنیکی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے اور ضلعی انتظامیہ کو پانی کے تحفظ کے اقدامات نافذ کرنے میں مدد دی جاتی ہے۔
  3. جل شکتی ابھیان کی رفتار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جل سنچی جن بھاگیداری (جے ایس جے بی) پہل 2024 میں شروع کی گئی، جس کا مقصد بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کو عوامی تحریک بنانا ہے۔ ملک بھر میں 1.55 کروڑ سے زیادہ مصنوعی زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بھرائی اور پانی ذخیرہ کرنے کے کام مکمل کیے جا چکے ہیں، جن میں بہار کے تقریباً 7.26 لاکھ کام شامل ہیں۔ اس کے بعد جل سنچی جن بھاگیداری–کیچ دی رین (جے ایس جے بی-سی ٹی آر) کا آغاز 1 جون 2026 کو کیا گیا، تاکہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بھرائی کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
  4. مشن امرت سروور کا آغاز ملک کے ہر ضلع میں کم از کم 75 آبی ذخائر تیار کرنے اور ان کی بحالی کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ ملک بھر میں تقریباً 69,000 امرت سروور تیار یا بحال کیے جا چکے ہیں، جن میں بہار کے 2,613 امرت سروور بھی شامل ہیں۔ ان اقدامات سے پانی جمع کرنے اور زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بھرائی میں مدد مل رہی ہے۔
  5. حکومتِ ہند نے پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کا آغاز 2015-16 میں کیا تھا، جس کا مقصد آب پاشی تک رسائی کو بہتر بنانا، کھیتوں میں پانی کے استعمال کی کارکردگی بڑھانا اور پانی کے پائیدار تحفظ کے طریقوں کو فروغ دینا ہے۔ پی ایم کے ایس وائی کے تحت سطحی معمولی آب پاشی (ایس ایم آئی) اور آبی ذخائر کی مرمت، تزئین و آرائش اور بحالی (آر آر آر) کی اسکیموں کے ذریعے روایتی آبی ذخائر کی بحالی، معمولی آب پاشی کے کاموں کی تعمیر اور زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بھرائی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ محکمۂ زراعت و کسان بہبود ’پرڈروپ مورکروپ‘ (پی ڈی ایم سی) جزو نافذ کر رہا ہے، جس کا مقصد خرد آب پاشی اور سائنسی بنیادوں پر کھیتوں میں پانی کے انتظام کے ذریعے کھیت کی سطح پر پانی کے استعمال کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔

یہ معلومات جل شکتی کے وزیر جناب سی آر پاٹل نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔

***

( ش ح ۔ ع ح ۔ م ا )

UNo-1748


(ریلیز آئی ڈی: 2297219) وزیٹر کاؤنٹر : 30
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil