وزارتِ تعلیم
ابتدائی تعلیم کے لیے فنڈز کی فراہمی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 AUG 2026 3:47PM by PIB Delhi
گزشتہ تین برسوں اور رواں سال کے دوران سمگر شکشا کے تحت ابتدائی تعلیم کے لیے مختص کیے گئے فنڈز کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ میں دی گئی ہیں۔
سمگر شکشا کے تحت مختلف اقدامات پر عمل درآمد کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اسی کے مطابق ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے اپنی ضروریات اور ترجیحات کی بنیاد پر سمگر شکشا کے تحت سالانہ منصوبے تیار کرتے ہیں، جن کی تفصیل ان کے متعلقہ سالانہ عملی منصوبے اور بجٹ (اے ڈبلیو پی اینڈ بی) میں شامل ہوتی ہے۔ اس کے بعد ان منصوبوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اسکیم کے پروگرام اور مالی اصولوں کے مطابق ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے مشاورت کرکے منصوبہ منظوری بورڈ (پی اے بی) کی جانب سے انہیں منظور یا ان کی لاگت کا تخمینہ مقرر کیا جاتا ہے۔فنڈز اسی وقت جاری کیے جاتے ہیں جب مقررہ شرائط پوری کی جائیں، جن میں اخراجات کی رفتار، ریاستی حصے کی متناسب رقم کی وصولی، حساب کی جانچ، ریاستی حصے کی مجموعی رقم کی تفصیل، زیرِ التوا پیشگی رقوم کی تفصیل، تازہ ترین اخراجات کی تفصیل، مالی انتظام اور خریداری کے رہنما کتابچے میں مقرر کردہ معلومات کی فراہمی اور گزشتہ سال کے اخراجات کا جانچ شدہ سرٹیفکیٹ شامل ہیں۔ فنڈز جاری کرتے وقت گزشتہ سال کی غیر خرچ شدہ رقم کو بھی مدِنظر رکھا جاتا ہے۔ اخراجات کی رفتار سست ہونے کے باعث بعض ریاستیں تمام قسطیں حاصل نہیں کر پاتی ہیں۔
اس محکمہ نے پربندھ (پروجیکٹ اپریزل، بجٹنگ، اچیومنٹس اینڈ ڈیٹا ہینڈلنگ) نظام شروع کیا ہے۔ پربندھ نظام کی اہم خصوصیات میں سے ایک سمگر شکشا کے تحت مختلف اقدامات پر ہونے والے اخراجات کو باقاعدگی سے درج کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے پربندھ نظام میں ایک اعداد و شمار کے ویژوئل تجزیے کا ڈیش بورڈ تیار کیا گیا ہے، جس پر سمگر شکشا کے اہم اقدامات کے تحت طبعی اور مالی پیش رفت کی ماہانہ صورتِ حال دکھائی جاتی ہے۔ اسکیموں کی نگرانی اور ان کے بلاررکاوٹ نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ اور جائزہ اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں، تاکہ نگرانی کے لیے مربوط طریقۂ کار اختیار کیا جا سکے۔سمگر شکشا اسکیم کے تحت بنیادی ڈھانچے، اساتذہ کی تنخواہوں، مفت درسی کتب اور یونیفارم پر خرچ کیے گئے فنڈز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
(رقم لاکھ روپے میں)
|
سرگرمیاں
|
2024-25
|
2025-26
|
|
انفراسٹرکچر
|
196277.15
|
287194.70
|
|
ٹیچر کی تنخواہ
|
1723439.79
|
1350868.60
|
|
مفت نصابی کتب
|
255132.60
|
235322.84
|
|
مفت یونیفارم
|
384593.26
|
387101.53
|
ماخذ: پربندھ (پی آر اے بی اے این ڈی ایچ)پورٹل۔
)ای): گزشتہ دو سالوں کے تعلیمی سیس کی وصولی کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
)کروڑ روپے میں(
|
سال
|
2024-25
|
2025-26
|
|
تعلیم کا کل حصہ
|
63252.86
|
65890.50
|
پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے کسی بھی قانون کے تحت مخصوص مقاصد کے لیے عائد کیا جانے والا سیس حکومتِ ہند کی جانب سے عائد اور وصول کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیکسوں کے قابلِ تقسیم مجموعے کا حصہ نہیں ہوتا، اس لیے بھارتی آئین کے آرٹیکل 270 کے تحت اسے مرکز اور ریاستوں کے درمیان تقسیم نہیں کیا جاتا۔
تعلیمی شعبے کے لیے اس سے حاصل ہونے والی رقم کو مخصوص ریزرو فنڈز، یعنی پرارمبھک شکشا کوش (پی ایس کے) اور مادھیامک اور اُچّتر شکشا کوش (ایم یو ایس کے) کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔ پی ایس کے اور ایم یو ایس کے کے استعمال کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
(رقم کروڑ روپے میں)
|
جزو
|
2024-25
|
2025-26
|
|
پی ایس کے
|
40,900.00
|
48,049.09
|
|
مسک
|
11162.60
|
10314.31
|
ضمیمہ
لوک سبھا کے ستارہ والے سوال نمبر 310 کے حصہ (الف) کے جواب کے ساتھ منسلک ضمیمہ، جس کا جواب 10/08/2026 کو معزز ارکانِ پارلیمنٹ ڈاکٹر شیواجی بندپا کلگے اور جناب نلیش دنیان دیو لانکے کی جانب سے ’’ابتدائی تعلیم کے لیے فنڈز کی فراہمی‘‘ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں دیا گیا۔
سمگر شکشا کے تحت ابتدائی تعلیم کے لیے گزشتہ تین برسوں اور رواں سال کے دوران مختص کیے گئے فنڈز کی ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ وار تفصیلات۔
(رقم لاکھ روپے میں)
|
نمبرشمار
|
ریاستیں/مرکز کے زیرانتظام علاقے
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
2026-27
|
|
رقم
|
رقم
|
رقم
|
رقم
|
|
1
|
انڈمان و نکوبار جزائر
|
5073.49
|
4181.72
|
4821.05
|
4572.43
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
216172.01
|
177571.72
|
164241.95
|
114525.97
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
53346.08
|
64075.19
|
53983.80
|
20319.10
|
|
4
|
آسام
|
224300.99
|
258737.87
|
162840.79
|
161758.85
|
|
5
|
بہار
|
729964.95
|
747643.53
|
728342.81
|
597076.03
|
|
6
|
چنڈی گڑھ
|
12346.49
|
12333.96
|
13043.41
|
13114.19
|
|
7
|
چھتیس گڑھ
|
121913.73
|
155474.34
|
93503.03
|
119441.26
|
|
8
|
دادرو نگر حویلی اور دمن و دیو
|
6389.79
|
7098.64
|
6636.58
|
6127.72
|
|
9
|
دہلی
|
44529.61
|
64458.83
|
56403.04
|
52381.00
|
|
10
|
گوا
|
2461.79
|
2491.02
|
1807.12
|
1910.89
|
|
11
|
گجرات
|
208113.95
|
221132.55
|
158868.75
|
189502.29
|
|
12
|
ہریانہ
|
78677.54
|
71316.27
|
49435.94
|
47081.78
|
|
13
|
ہماچل پردیش
|
43944.49
|
50655.35
|
46273.48
|
39484.53
|
|
14
|
جموں و کشمیر
|
123455.08
|
118010.78
|
101774.67
|
63353.30
|
|
15
|
جھارکھنڈ
|
207772.02
|
202379.18
|
130880.31
|
140734.59
|
|
16
|
کرناٹک
|
136019.32
|
141992.64
|
148026.86
|
135924.84
|
|
17
|
کیرالہ
|
46997.73
|
63221.08
|
48822.83
|
43889.10
|
|
18
|
لداخ
|
10813.99
|
6541.56
|
7978.98
|
8221.56
|
|
19
|
لکشدیپ
|
353.9
|
390.92
|
503.62
|
431.06
|
|
20
|
مدھیہ پردیش
|
454617.42
|
527596.08
|
385581.61
|
408796.11
|
|
21
|
مہاراشٹر
|
184706.22
|
223942.54
|
168191.12
|
174464.85
|
|
22
|
منی پور
|
35185.07
|
41539.69
|
13177.27
|
14752.61
|
|
23
|
میگھالیہ
|
48142.14
|
37611.31
|
36016.11
|
34136.17
|
|
24
|
میزورم
|
21675.79
|
16358.71
|
14097.73
|
13101.28
|
|
25
|
ناگالینڈ
|
26263.09
|
12889.28
|
10975.62
|
9941.73
|
|
26
|
اڈیشہ
|
280395.26
|
310475.88
|
236151.60
|
212358.86
|
|
27
|
پڈوچیری
|
2421.92
|
1911.09
|
1764.57
|
1514.98
|
|
28
|
پنجاب
|
88650.97
|
85995.89
|
84952.97
|
73371.18
|
|
29
|
|
|
|
|
|
******
( ش ح ۔ ع ح ۔ م ا )
Urdu.No-1735
(ریلیز آئی ڈی: 2297153)
وزیٹر کاؤنٹر : 38