بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
جناب سربانند سونووال نے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتِحال کے درمیان بھارتی بحری جہازوں کے عملے کی سلامتی سے متعلق تیاریوں کا جائزہ لیا
بھارتی بحری جہازوں کے عملے کی مدد کے لیے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں چوبیس گھنٹے ساتوں دن امدادی نظام قائم کیا گیا
مغربی ایشیا اور بحیرۂ اسود میں بھارتی سفارتی مشن بھی مرکز کے بحری عملے کی سلامتی سے متعلق جائزے میں شامل ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 JUL 2026 9:43PM by PIB Delhi
نئی دلّی، 28 جولائی ، 2026 ء : دنیا کے اہم بحری راستوں پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے مسلسل اثرات کے پیشِ نظر، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے آج تنازعات والے حساس علاقوں میں تجارتی بحری جہازوں پر خدمات انجام دینے والے بھارتی بحری عملے کی سلامتی اور فلاح و بہبود کا جامع طور پر جائزہ لیا۔ وزیر موصوف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے تئیں پُرعزم ہے کہ ہر بھارتی بحری کارکن محفوظ، باخبر اور ضرورت کے وقت مدد سے محروم نہ رہے۔
مذکورہ جائزہ اجلاس میں ، وزارتِ خارجہ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ اور مغربی ایشیا و بحیرۂ اسود کے خطے کے مختلف ممالک میں تعینات بھارتی سفارتی مشنوں کے سربراہان نے شرکت کی، جن میں عمان، سعودی عرب، ایران، روس اور یوکرین شامل ہیں۔ وزیر موصوف کو موجودہ سلامتی کی صورتِ حال، سمندری حالات اور بھارتی بحری عملے سے متعلق کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے فوری طور پر نمٹنے کے لیے بھارتی سفارتی مشنوں کی تیاریوں کے بارے میں تفصیل فراہم کی گئی۔
میٹنگ کے دوران ، جناب سربانند سونووال نے حکام کو تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل رابطے اور باہمی تعاون کو برقرار رکھنے کی ہدایت دی اور اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارتی بحری عملے کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ مرکزی وزیر سربانند سونووال نے کہا کہ ‘‘ کسی بھی بھارتی بحری کارکن کو جغرافیائی سیاسی تنازع کی زد میں نہیں آنا چاہیے۔ ہمارے بحری عملے کی حفاظت، ان کے اہلِ خانہ کی مدد اور جہاں بھی ضرورت ہو، بروقت امداد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کارروائی کی جانی چاہیے۔‘‘
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے وزیر موصوف کو مزید بتایا کہ اس کا چوبیس گھنٹے ساتوں دن فعال بحری عملہ کی شکایات کے ازالے اور امداد سے متعلق سیل پوری طرح سرگرم عمل ہے ، جو مخصوص ہیلپ لائنوں، معلوماتی خدمات اور شکایات کے ازالے کے نظام کے ذریعے بھارتی بحری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو چوبیس گھنٹے ساتوں دن مدد فراہم کر رہا ہے۔
وزیرِ موصوف نے تعیناتی سے قبل تیاریوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بحری عملے میں بیداری بڑھانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ بھرتی اور تقرری کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو بحری عملے کے لیے باقاعدہ تعیناتی سے قبل بیداری پروگرام منعقد کرنے کی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے، تاکہ بحری کارکن ، جہاں انہیں تعینات کیا جا سکتا ہے ، ان علاقوں کے عملی حالات، حفاظتی طریقۂ کار اور بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں ۔
جناب سربانند سونووال نے ہدایت دی کہ غیر مستحکم علاقوں میں طویل عرصے تک تعیناتی کے نفسیاتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ، بحری عملے کی فلاح و بہبود کے نظام میں ذہنی صحت سے متعلق معاونت کو بھی شامل کیا جائے۔ وزیر موصوف نے بحری کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ، دونوں کے لیے باقاعدہ مشاورتی خدمات فراہم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ تعیناتی سے قبل درپیش خطرات اور حالات کے بارے میں شفاف معلومات فراہم کرنا تیاری کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
جناب سربانند سونووال نے کہا کہ ‘‘ ہماری ذمہ داری صرف جسمانی سلامتی کو یقینی بنانے تک ہی محدود نہیں ہے۔ بحری کارکن اور ان کے اہلِ خانہ ، اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں بروقت معلومات، جذباتی تعاون اور سمندر میں خدمات انجام دیتے ہوئے پیش آنے والے چیلنجوں کے بارے میں مکمل شفافیت فراہم کی جائے۔ ہمیں اپنی فلاح و بہبود کے پورے نظام کو مزید مستحکم کرنا ہوگا تاکہ ان غیر یقینی حالات میں ہم اپنی بحری برادری کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑے رہ سکیں۔ ‘‘
وزیر موصوف نے حکام کو بیرونِ ملک بھارتی سفارتی مشنوں ، جہاز رانی کی کمپنیوں، بحری حکام اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی بھی ہدایت دی، تاکہ بھارت کا امدادی کارروائی اور ردِعمل کا نظام پیشگی اقدامات پر مبنی، مربوط اور کسی بھی صورتِ حال سے فوری طور پر نمٹنے کے قابل رہے۔


***
( ش ح ۔ ش م ۔ ع ا )
U.No. 1719
(ریلیز آئی ڈی: 2297102)
وزیٹر کاؤنٹر : 17