خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
مرکزی وزارتوں/محکموں/ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو صنفی بجٹ سازی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے خواتین و اطفال کے ترقی کی وزارت کی جانب سے صلاحیت سازی اور تکنیکی تعاون
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 AUG 2026 4:25PM by PIB Delhi
محکمۂ اخراجات، وزارت خزانہ کی جانب سے مختلف سرکاری محکموں میں صنفی مساوات کو یقینی بنانے اور اسکیموں کی نگرانی کے لیے قائم شعبہ ،جینڈر بجٹ سیل کے منشور (چارٹر) کو جاری کیا گیا ہے۔ اس میں تمام وزارتوں/محکموں میں جینڈر بجٹ سیلز (جی بی سی) کے قیام، تشکیل اور کام کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق رہنما خطوط وضع کیے گئے ہیں۔وزارتوں/محکموں میں جی بی سی قائم کرنے کا مقصد پالیسیوں اور پروگراموں پر اس طرح اثر انداز ہونا اور ان میں تبدیلی لانا ہے کہ صنفی عدم توازن کو دور کیا جا سکے، صنفی مساوات اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے، اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وزارت کے بجٹ کے ذریعے فراہم کیے جانے والے عوامی وسائل کی مناسب تقسیم اور مؤثر انتظام ہو۔
جی بی سی کو وزارت/محکمے میں صنفی بجٹ سازی سے متعلق اقدامات کے تال میل کے لیے مرکزی یونٹ کے طور پر کام کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ منشور کے مطابق جی بی سی مختلف امور انجام دے سکتا ہے، جن میں پروگراموں کی نشاندہی کرنا تاکہ ان کے ذریعے حل کیے جانے والے صنفی مسائل کا تجزیہ کیا جا سکے؛ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ تبادلۂ خیال اور مشاورت کا اہتمام کرنا تاکہ خیالات کا تبادلہ ہو اور شعبہ جاتی پالیسیوں اور پروگراموں کی مؤثریت پر آراء حاصل کی جا سکیں؛ اور پروگراموں کے حقیقی طبعی و مالی اہداف کا جائزہ لینے کے لیے کارکردگی کا آڈٹ کرنا شامل ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، 62 مرکزی وزارتوں/محکموں اور 35 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جی بی سی قائم کیے جا چکے ہیں۔
خواتین و اطفال کے ترقی کی مرکزی وزارت کی جانب سے مرکزی وزارتوں/محکموں/ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ان کے صنفی بجٹ سازی کے عمل کو مزید آگے بڑھانے کے لیے صلاحیت سازی اور تکنیکی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ وزارت کی جانب سے تربیتی اداروں کو مالی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ سرکاری افسران کے لیے صنفی بجٹ سازی سے متعلق تربیتی پروگرام منعقد کر سکیں۔ وزارتیں/محکمے/مرکز کے زیر انتظام علاقے صنفی بجٹ سے متعلق دفعات کے مناسب نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہیں، خواہ وہ خود یہ کام انجام دیں یا عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے ذریعے۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنی اسکیموں/پروگراموں کے مقاصد کے حصول کے لیے پیش رفت کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ یہ وزارتیں/محکمے آؤٹ پٹ۔آؤٹ اور مانیٹرنگ فریم ورک (او او ایم ایف) میں اعداد و شمار فراہم کرتے ہیں، جو حکومتِ ہند کی اسکیموں کی نتائج پر مبنی نگرانی کا ایک فریم ورک ہے، اور اس میں بعض وزارتوں/محکموں کی اسکیموں میں صنفی امور سے متعلق اشاریے بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ صنفی اشاریوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ قومی سطح کے نمونہ جاتی سروے، جیسے قومی خاندانی صحت سروے (این ایف ایچ ایس)، متواتر لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) وغیرہ کے ذریعے بھی لیا جاتا ہے۔
ہر سال وزارتِ خزانہ کے محکمۂ اقتصادی امور کی جانب سے بجٹ سرکلر جاری کیا جاتا ہے، جس کے تحت تمام وزارتوں/محکموں کو مقررہ فارمیٹ میں جینڈر بجٹ بیان میں خواتین اور بچیوں کے لیے مختص رقوم کی تفصیلات فراہم کرنا لازمی ہوتا ہے۔ جینڈر بجٹ کے تحت مختص رقوم، جنہیں مرکزی بجٹ کے اخراجات کی تفصیلات میں بیان نمبر 13 کے طور پر شامل کیا جاتا ہے، وزارتوں/محکموں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے اپنی اسکیموں/پروگراموں کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔ مالی سال 2026-27 کے مرکزی بجٹ کے صنفی بجٹ بیان میں خواتین اور بچیوں کی بہبود کے لیے 5.01 لاکھ کروڑ روپے کی رقم مختص کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ یہ مالی سال 2025-26 میں صنفی بجٹ بیان کے تحت مختص 4.49 لاکھ کروڑ روپے کے مقابلے میں 11.55 فیصد کا اضافہ ہے۔ مالی سال 2026-27میں مجموعی طور پر 53 مرکزی وزارتوں/محکموں اور 5 مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے مختص رقوم کی تفصیلات فراہم کی ہیں، جبکہ مالی سال 2025-26 میں 49 وزارتوں/محکموں اور 5 مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے یہ تفصیلات پیش کی تھیں۔
یہ معلومات خواتین و اطفال ترقی کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔
***
ش ح۔ ع و۔ م الف
U. No- 1573
(ریلیز آئی ڈی: 2296184)
وزیٹر کاؤنٹر : 27