ادویات سازی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

نویں انڈیا میڈیکل ڈیوائس 2026 کا نئی دہلی میں آغاز؛ ہندوستان کو عالمی میڈ ٹیک مرکز بنانے پر توجہ مرکوز

محکمہ دواسازی کے سکریٹری جناب منوج جوشی کابرآمدات پر مبنی اور عالمی سطح پر مسابقتی طبی آلات کی تیاری پر زور

طبی آلات کی سروس اور دیکھ بھال کو بہتربنانے سے متعلق وہائٹ پیپر جاری کیا گیا

حکومت، صنعت اور ضابطہ کار اداروں نے گھریلو ویلیو ایڈیشن میں اضافے، جدت طرازی اور عالمی میڈ ٹیک ویلیو چینز کے ساتھ انضمام پر تبادلہ خیال کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 AUG 2026 4:10PM by PIB Delhi

 

دو روزہ 9ویں انڈیا میڈیکل ڈیوائس 2026 کا آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں آغاز ہوا۔ اس کانفرنس میں پالیسی سازوں، ضابطہ کار اداروں، صنعت کے رہنماؤں، جدت طرازوں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی، جس کا مقصد ہندوستان کے طبی آلات کے شعبے کو فروغ دینا اور معیاری طبی آلات کے عالمی مرکز کے طور پرہندوستان کی حیثیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔یہ کانفرنس حکومت ہند کی وزارت کیمیکلز و کھاد کے محکمہ دواسازی کی جانب سے فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف آئی سی سی آئی) کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔ کانفرنس کا موضوع ہے: ’وکست بھارت کی جانب: ہندوستان کو معیاری طبی آلات کے عالمی مرکز کے طور پر ترقی دینا‘۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےمحکمہ دواسازی کے سیکریٹری جناب منوج جوشی نے اس بات پر زور دیا کہ طبی آلات کے شعبے کو صحت عامہ اور صنعتی دونوں نقطۂ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں صحت خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی توجہ آلات کے معیار تک رسائی پر ہوتی ہے، چاہے ان کی تیاری کہیں بھی ہوئی ہو، وہیں گھریلو مینوفیکچرنگ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، صنعتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور خاص طور پر عالمی بحرانوں کے دوران سپلائی چین کو مستحکم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

سکریٹری نے کہا کہ ہندوستان نے مقامی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں خاص طور پر استعمالی اشیاء (کنزیوم ایبلز)، ڈسپوزیبل مصنوعات اور تشخیصی و امیجنگ نظام جیسے اعلیٰ درجے کے آلات کی اسمبلی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مسابقتی مینوفیکچرنگ صلاحیتیں تیار کرنے کے لیے گھریلو سطح پر ویلیو ایڈیشن میں اضافہ کرنے، اجزاء کی تیاری کو مضبوط بنانے، جدید طبی ٹیکنالوجی میں جدت طرازی کو فروغ دینے اور معیار کے معیارات کو مسلسل بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

ہندوستان کو درآمدات کے متبادل کے نقطۂ نظر سے آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سکریٹری نے کہا کہ ہمیں ایک ایسی برآمدات پر مبنی صنعت قائم کرنی ہوگی ،جو عالمی منڈیوں کی ضروریات پوری کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں  ہندوستانی طبی آلات کی مارکیٹ تقریباً 16 بلین امریکی ڈالر کی ہے، وہیں عالمی مارکیٹ 600 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے، جو ہندوستانی پیدا کنندگان کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس صلاحیت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ گھریلو اجزاء کی تیاری کو بہتر بنایا جائے، ویلیو ایڈیشن میں اضافہ کیا جائے، اجزاء اور مصنوعات کی سرحد پار آسان نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے، ہندوستان کو عالمی ویلیو چینز کے ساتھ مربوط کیا جائے اور اسٹارٹ اپس و بڑی صنعتوں کے درمیان مضبوط شراکت داری کو فروغ دیا جائے، تاکہ جدت پر مبنی مصنوعات کامیابی کے ساتھ بازار تک پہنچ سکیں۔

ڈرگس کنٹرولر جنرل آف انڈیا (ڈی سی جی آئی) ڈاکٹر راجیو سنگھ رگھوونشی نے کہا کہ ہندوستان کا طبی آلات کا شعبہ درآمدات پر منحصر مارکیٹ سے تبدیل ہو کر گھریلو مینوفیکچرنگ پر مبنی نظام کی جانب بنیادی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ درجے کے کلاس سی اور کلاس ڈی طبی آلات اور اِن وٹرو تشخیصی آلات کے شعبے میں مقامی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، ساتھ ہی تیز رفتار، شفاف اور قابلِ پیش گوئی ضابطہ جاتی منظوریوں کو یقینی بنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

ایف آئی سی سی میڈیکل ڈیوائسز کمیٹی کے چیئرمین اور ایبٹ ہیلتھ کیئر کے منیجنگ ڈائریکٹر و جنرل منیجر (ہندوستان اور جنوبی ایشیا) جناب تشار شرما نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے تعارف سے آگے بڑھتے ہوئے صنعت نے ہندوستان میں تحقیق و ترقی کے مراکز، عالمی صلاحیت کے مرکز، سافٹ ویئر اور انجینئرنگ ہب، طبی تحقیق، مینوفیکچرنگ، سروس نیٹ ورکس اور افرادی قوت کی ترقی کے شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف مریضوں کی دیکھ بھال کو بہتر بناتی ہیں، بلکہ ہنرمند روزگار کے مواقع پیدا کرنے، مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور ملک کو عالمی ’میڈ ٹیک‘ سرگرمیوں کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر قائم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہیں۔

ایف آئی سی سی آئی کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ جیوتی وج نے کہا کہ ترقی کے اگلے مرحلے کا تعین ہندوستان کی اس صلاحیت سے ہوگا کہ وہ جدت طرازی کو فروغ دے، تحقیق و ترقی کو مضبوط بنائے، مضبوط اور لچکدار سپلائی چینز تیار کرے، جدید مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو فروغ دے، عالمی سطح پر ہم آہنگ معیار کو بڑھاوا دے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھائے اور بین الاقوامی منڈیوں میں ہندوستان کی موجودگی کو وسعت دے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image007AWTX.jpg

 ایف آئی سی سی آئی میڈیکل ڈیوائسز کمیٹی کے  مشترکہ چیئرمین اور فلپس انڈین سب کانٹی نینٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب بھارت شیشا نے کہا کہ افتتاحی اجلاس کے دوران ہونے والی بات چیت نے طبی آلات کے شعبے میں ہندوستان کے عالمی رہنما بننے کی بے پناہ صلاحیت کو اجاگر کیا ہے۔

افتتاحی دن کی ایک اہم پیش رفت’ہندوستان میں طبی آلات کی سروس اور دیکھ بھال کو مضبوط بنانا‘ کے عنوان سے وہائٹ پیپر کا اجرا تھا، جس میں ملک بھر میں طبی آلات کے تحفظ، قابلِ اعتماد کارکردگی، طویل مدتی استعمال اور بلاتعطل فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار سروس و مینٹیننس نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image008RCVY.jpg

 

***

 

 

ش ح۔م ع ن۔ ن ع

U- 1569

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2296157) وزیٹر کاؤنٹر : 41
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil