دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

خود امدادی گروپوں کے ذریعے دیہی روزگار اور معاشی ذرائع کو مستحکم کرنا

प्रविष्टि तिथि: 07 AUG 2026 4:02PM by PIB Delhi

دیہی ترقی کی وزارت ملک بھر میں (دہلی اور چندی گڑھ کے علاوہ) دین دیال انتودیا یوجنا – قومی دیہی روزی روٹی مشن) ڈی اے وائی -این آر ایل ایم) نافذ کر رہی ہے۔ اس کا مقصد دیہی خاندانوں کو خود امدادی گروپو )ایس ایچ جیز) میں منظم کرنا اور انہیں مسلسل تعاون، رہنمائی اور مدد فراہم کرنا ہے، تاکہ وقت کے ساتھ ان کی آمدنی میں قابلِ ذکر اضافہ ہو اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے۔یہ مشن اپنے مقاصد کے حصول کے لیے چار اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے کام کرتا ہے، جن میں شامل ہیں: سماجی متحرک کاری، دیہی غریبوں کے خود انتظامی اور مالی طور پر پائیدار کمیونٹی اداروں کا فروغ اور استحکام، دیہی غریبوں کی مالی شمولیت، پائیدار روزی روٹی کے ذرائع، اور سماجی شمولیت و سماجی ترقی۔گزشتہ تین برسوں کے دوران دین دیال انتودیا یوجنا – قومی دیہی روزی روٹی مشن ) ڈی اے وائی -این آر ایل ایم) کے تحت حاصل کی گئی پیش رفت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

نمبر شمار

اشارے

مالی سال 2023-24 سے 2025-26 کے دوران پیش رفت

 

ایس ایچ جیز میں شامل گھرانوں کی تعداد

1,06,33,882

 

تشکیل شدہ ایس ایچ جیز کی تعداد

7,58,243

 

تشکیل دی گئی تنظیموں کی تعداد

1,07,677

 

کلسٹر سطح کی فیڈریشنز کی تعداد

9,324

 

ایس ایچ جیز ، گاؤں کی تنظیموں اور کلسٹر لیول فیڈریشنوں کو کیپٹلائزیشن سپورٹ (کروڑ روپے میں(

33,335.92

 

بینک کریڈٹ (کروڑ روپے میں)

6,38,339.43

 

غیر فعال اثاثے) این پی اے) فیصد

1.85 فیصد

 

زرعی ماحولیاتی طریقوں کے تحت مہیلا کسانوں کی تعداد (لاکھ روپے میں)

248

 

تعاون یافتہ اداروں کی تعداد

53,80,137

 

مجموعی طور پر 10.08 کروڑ خواتین کو 92 لاکھ خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جیز) میں شامل کیا جا چکا ہے۔ دین دیال انتودیا یوجنا – قومی دیہی روزی روٹی مشن (ڈی اے وائی – این آر ایل ایم) کے تحت مالی سال 2025-26 میں 57.60 لاکھ خواتین خود امدادی گروپوں کو قرض سے منسلک کیا گیا ہے۔

دیہی ترقی کی وزارت کے تحت ڈی اے وائی – این آر ایل ایم تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں خود امدادی گروپوں کی تیار کردہ مصنوعات کے لیے بازار تک رسائی کو مضبوط بنانے کا کام کر رہا ہے۔ ان اقدامات میں درج ذیل شامل ہیں:

  1. دیہی ترقی کی وزارت نے خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کے فروغ کے لیے ‘‘سرس’’، ‘‘سرس آجیویکا’’ اور ‘‘آجیویکا’’ کے نام سے برانڈ رجسٹر کیے ہیں۔ 25 ریاستوں نے ریاستی سطح کے برانڈ تیار کیے ہیں اور ان برانڈز کے تحت خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کی فروخت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر مہاراشٹر کا اُمیڈ، جھارکھنڈ کا پلاش اور ادیوا،  ہماچل پردیش کا ہمیرا  اور تمل ناڈو کا ماتھی وغیرہ شامل ہیں۔
  2. سرس میلے قومی، علاقائی، ریاستی اور ضلعی سطح پر منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ سرس برانڈ کو مقبول بنایا جا سکے اور شہری بازاروں میں خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کی فروخت کو فروغ دیا جا سکے۔ ہر سال خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کے فروغ کے لیے 2 قومی سطح کے سرس میلے، ایک فوڈ فیسٹیول اور 50 سے زائد ریاستی سطح کے سرس میلے منعقد کیے جاتے ہیں۔
  3. مرکزی دہلی میں خود امدادی گروپوں کے اراکین کی منتخب مصنوعات کی فروخت کے لیے ‘‘سرس آجیویکا گیلری’’ کے نام سے ایک خوردہ مرکز قائم کیا گیا ہے۔ اسی طرح ریاستیں بھی اپنے ریاستی برانڈز کے تحت خوردہ مراکز چلا رہی ہیں۔
  4. دیہی ترقی کی وزارت نے خود امدادی گروپوں کی منتخب مصنوعات کی فروخت کے لیے ایک خصوصی ای کامرس پلیٹ فارم ‘‘ای سرس’’ قائم کیا ہے۔ خود امدادی گروپوں کی مصنوعات کے فروغ کے لیے دیگر ای کامرس پلیٹ فارموں، یعنی جی ای ایم، اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس)او این ڈی سی)، ایمیزون، فلپ کارٹ، میشو اور جیو مارٹ کے ساتھ بھی شراکت داری اور تعاون کیا گیا ہے۔

یہ معلومات دیہی ترقی کے وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیمّاسانی نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

 

********

ش ح۔ش ت۔ر ب

U-1571


(रिलीज़ आईडी: 2296136) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil