دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پردھان منتری آواس یوجنا – گرامین (پی ایم اے وائی-جی) کی پیش رفت

प्रविष्टि तिथि: 07 AUG 2026 4:11PM by PIB Delhi

پردھان منتری آواس یوجنا-گرامین (پی ایم اے وائی-جی) کے تحت مالی سال26-2025 کے دوران مجموعی طور پر 32.47 لاکھ مکانات منظور کیے گئے اور 26.57 لاکھ مکانات  کی تعمیر مکمل کی جاچکی ہے، جس میں گزشتہ مالی برسوں کے دوران جاری کی گئی منظوریوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ریاست؍مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ-I میں فراہم کی گئی ہیں۔

مورخہ03.08.2026 تک پی ایم اے وائی-جی کے تحت ریاستوں؍مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مختص کیے گئے 4.18 کروڑ مکانات کے کل ہدف کے مقابلے میں 3.91 کروڑ مکانات منظور کیے جا چکے ہیں، جبکہ 3.12 کروڑ مکانات کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ باقی 79 لاکھ منظور شدہ مکانات زیرتعمیر ہیں۔

پی ایم اے وائی-جی کے تحت مکان کی تعمیرمستفیدین کی جانب سے یا ان کی نگرانی میں کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پی ایم اے وائی-جی کے رہنما اصولوں کے مطابق، ریاستیں؍مرکز کے زیر انتظام علاقے مستفیدین کو ان کے رہائشی علاقے کے مقامی موسمی حالات کے مطابق موزوں مقامی مواد اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے تیار کیے گئے مکانات کے ڈیزائن کے متعدد اختیارات فراہم کرتے ہیں۔ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حکومت تعمیراتی مواد کی مسابقتی نرخوں پر فراہمی میں بھی سہولت فراہم کر سکتی ہے۔ دیہی ترقی کی وزارت نے دیہی مکانات کی مختلف اقسام سے متعلق پہل(پی اے ایچ اے ایل) کے عنوان سے ایک مجموعہ شائع کیا ہے، جو پی ایم اے وائی-جی کی پروگرام ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ اسے آواس ایپ  کے ذریعے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ پی ایم اے وائی-جی کے تحت مکانات کی معیاری تعمیر کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ہند نےدیہی مستری تربیتی پروگرام (آر ایم ٹی) شروع کیا ہے، جس کا مقصد دیہی علاقوں میں مکانات کی تعمیر کے لیے مناسب تعداد میں مستریوں کو تربیت فراہم کرنا ہے۔

پی ایم اے وائی-جی کے تحت تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مکانات کی بروقت تعمیر کو یقینی بنانے کے لیے وزارت کی جانب سے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

(i) ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بروقت اہداف مختص کرنا اور مناسب فنڈز جاری کرنا؛

(ii) پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینا؛

(iii) ڈیش بورڈ کے ذریعے اسکیم کی نگرانی اور نگرانی کا عمل انجام دینا؛

(iv) وزارت کی جانب سے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدگی سے ورکشاپس کا انعقاد کرنا؛

(v) دیہی مستری تربیتی پروگرام وغیرہ۔

پی ایم اے وائی-جی اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی فی یونٹ امداد کے علاوہ، ان خاندانوں کو وزارت جل شکتی کے پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے کی جل جیون مشن (جے جے ایم) اور ہر گھر نل سے جل (ایچ جی این ایس جے) جیسی اسکیموں یا دیگر اسی نوعیت کی اسکیموں کے ذریعے پائپ لائن کے ذریعے پینے کا صاف پانی بھی فراہم کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ مستفیدین کو وزارت توانائی، ریاستی حکومتوں یا مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے ذریعے چلائی جانے والی اسکیموں کے تحت بجلی کے کنکشن فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ وزارت پٹرولیم اور قدرتی گیس کی پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) یا دیگر متعلقہ اسکیموں کے تحت انہیں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے کنکشن بھی دیے جاتے ہیں۔

اسکیم کے رہنما اصولوں کے مطابق پی ایم اے وائی-جی کے تحت مقرر کردہ اہداف میں سے 5 فیصد تک حصہ خصوصی منصوبوں کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ ان منصوبوں میں قدرتی آفات، جیسے سیلاب، زلزلہ، آگ وغیرہ، کے باعث مکمل طور پر یا بڑے پیمانے پر تباہ ہونے والے مکانات والے خاندانوں کی باز آبادکاری یا منتقلی شامل ہے، جنہیں قومی آفات کے انتظامی ادارے کے موجودہ ’قومی آفات کے انتظامی منصوبے‘ میں درجہ بند کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پی ایم اے وائی-جی کے تحت قومی سطح پر مقرر کردہ ہدف میں سے کم از کم 60 فیصد حصہ درج فہرست ذات (ایس سی)/درج فہرست قبائل (ایس ٹی) خاندانوں کے لیے مختص کیا جاتا ہے، بشرطیکہ ایسے اہل مستفیدین دستیاب ہوں۔

اس کے علاوہ وزارت قبائلی امور کی پردھان منتری جن جاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان (پی ایم-جے اے این ایم اے این) کے تحت خاص طور پر کمزور قبائلی گروپوں (پی وی ٹی جی) کے خاندانوں کو بنیادی سہولیات کے ساتھ پکے مکانات فراہم کرنا دیہی ترقی کی وزارت کی جانب سے نافذ کیے جانے والے اقدامات میں شامل ہے۔

پی ایم اے وائی-جی کے تحت فنڈز ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مختص کیے جاتے ہیں، جس میں ہر ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کو ایک اکائی تصور کیا جاتا ہے۔ ان فنڈز کی اضلاع کے درمیان تقسیم متعلقہ ریاستی/مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حکومتوں کی جانب سے کی جاتی ہے۔

گزشتہ دو مالی برسوں کے دوران خصوصی منصوبوں کے تحت اخراجات 528.04 کروڑ روپے رہے، جبکہ امنگوں والے اضلاع (ایسپائریشنل ڈسٹرکٹس) میں مرکزی اور ریاستی دونوں حصص سمیت 17,281.58 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔اس کے ساتھ ہی پی ایم-جے اے این ایم اے این کے تحت مالی سال25-2024 اور26-2025 کے دوران پی وی ٹی جی مستفیدین کے لیے مرکزی حصے کے طور پر 2,465.38 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جس کے مقابلے میں مرکز اور ریاستوں کے تعاون سمیت مجموعی طور پر 6,329.06 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

 

ضمیمہ-I

ریاست وار مالی سال 26-2025 میں منظور کیے گئے اور مکمل کیے گئے مکانات کی تفصیلات (ہدف مالی سال سے قطع نظر):

نمبر شمار

ریاست؍مرکز کے زیر انتظام علاقے

منظورشدہ مکانات

تعمیر کیے گئے مکانات

1

اروناچل پردیش

-

-

2

آسام

3,40,977

1,35,426

3

بہار

4,73,839

2,63,151

4

چھتیس گڑھ

3,44,463

5,92,508

5

گوا

-

3

6

گجرات

4,475

1,23,451

7

ہریانہ

5,638

12,405

8

ہماچل پردیش

22

36,531

9

جموں و کشمیر

3

16,015

10

جھاڑکھنڈ

1,48,640

40,870

11

کیرالہ

7,614

3,873

12

مدھیہ پردیش

5,59,011

4,90,185

13

مہاراشٹر

9,40,849

4,42,074

14

منی پور

5,165

18,981

15

میگھالیہ

-

15,900

16

میزورم

-

520

17

ناگالینڈ

-

6,602

18

اوڈیشہ

634

1,61,256

19

پنجاب

4,874

13,485

20

راجستھان

2,24,458

2,02,234

21

سکم

-

2

22

تمل ناڈو

1,749

30,084

23

تریپورہ

-

4,754

24

اتر پردیش

33

19,412

25

اتراکھنڈ

-

69

26

مغربی بنگال

-

1,172

27

انڈمان اور نکوبار

-

83

28

دادرہ اور نگر حویلی

-

2,085

29

دمن اور دیو

-

14

30

لکشدیپ

-

-

31

آندھرا پردیش

-

5,243

32

کرناٹک

1,84,301

18,840

33

لداخ

-

-

کل

32,46,745

26,57,228

یہ معلومات دیہی ترقی کے وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی۔

 

***

ش ح۔م ع ن۔ ن ع

U- 1570

 


(रिलीज़ आईडी: 2296110) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil