ادویات سازی کا محکمہ
زندگی بچانے والی ادویات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 AUG 2026 2:47PM by PIB Delhi
ادویات کی قیمتیں ، ادویات کی قیمتوں کے کنٹرول سے متعلق 2013 کے حکم نامے (ڈی پی سی او، 2013) کی دفعات کے تحت مقرر کی جاتی ہیں۔ محکمۂ دواسازی کے تحت قائم قومی دواسازی قیمت تعین اتھارٹی (این پی پی اے)، ڈی پی سی او، 2013 کی موجودہ دفعات کے مطابق ادویات کی قیمتوں کو منظم کرتی ہے۔ این پی پی اے، ڈی پی سی او، 2013 کے شیڈول-اول میں شامل دواؤں کی تیاریوں کی زیادہ سے زیادہ قیمتیں مقرر کرتی ہے۔ یہ شیڈول وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی قومی فہرست ضروری ادویات (این ایل ای ایم) پر مبنی ہوتا ہے۔23 جولائی 2026 تک 935 دواؤں کی تیاریوں کی زیادہ سے زیادہ قیمتیں نافذ العمل ہیں۔ ضروری ادویات سے متعلق قومی فہرست 2022 کے تحت قیمتوں کے ازسر نو تعین کے نتیجے میں اوسطاً 17 فیصد قیمتوں میں کمی آئی ہے۔این پی پی اے، ڈی پی سی او، 2013 کی دفعہ 2(1)(یو) میں بیان کردہ نئی ادویات کی خوردہ قیمتیں بھی مقرر کرتی ہے۔ اس سے مراد وہ دوائیں ہیں جو کسی موجودہ دوا کو کسی دوسری دوا کے ساتھ ملا کر، یا اس کی طاقت ، خوراک یا دونوں میں تبدیلی کر کے تیار کی جاتی ہیں اور جنہیں پہلے سے موجود صنعت کار متعارف کراتے ہیں۔نئی ادویات کی مقررہ خوردہ قیمتیں متعلقہ درخواست گزار صنعت کار اور فروخت کنندہ پر لاگو ہوتی ہیں اور وہ این پی پی اے کی جانب سے مقرر کردہ قیمت سے زیادہ پر ان ادویات کو فروخت نہیں کر سکتے۔ 23 جولائی 2026 تک این پی پی اے 3,845 نئی ادویات کی خوردہ قیمتیں مقرر کر چکی ہے۔اس کے علاوہ، شیڈول میں غیر درج شدہ دواؤں کے معاملے میں صنعت کار اس بات کے پابند ہیں کہ وہ کسی بھی دوا کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) میں گزشتہ 12 ماہ کے دوران اس کی سابقہ ایم آر پی کے مقابلے میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ نہ کریں۔اس کے علاوہ، عوامی مفاد میں مناسب قیمتوں پر ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے این پی پی اے نے ڈی پی سی او کی دفعہ 19 کے تحت بھی بعض ادویات کی قیمتیں مقرر کی ہیں۔این پی پی اے کی جانب سے مقرر یا نظرثانی شدہ قیمتوں کی تفصیلات اس کی ویب سائٹ www.nppa.gov.in پر دستیاب ہیں۔
شیڈول میں شامل ادویات کی زیادہ سے زیادہ قیمتوں پر ہر سال نظرثانی یکم اپریل سے پہلے، گزشتہ کیلنڈر سال کے ہول سیل پرائس انڈیکس (تمام اشیاء) کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جس کا اعلان حکومت ہر سال یکم اپریل کو کرتی ہے۔اعلان کردہ یہ اضافہ اس سال کے لیے شیڈول شدہ ادویات کی قیمت میں زیادہ سے زیادہ قابل اجازت اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم، صنعت کار چاہیں تو اسی حد تک یا اس سے کم اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔گزشتہ تین برسوں کے ہول سیل پرائس انڈیکس (تمام اشیاء) کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
سال
|
ڈبلیو پی آئی
|
|
یکم اپریل 2024
|
0.00551 فیصد
|
|
یکم اپریل 2025
|
1.74028 فیصد
|
|
یکم اپریل 2026
|
0.64956 فیصد
|
شیڈول میں غیر درج شدہ دواؤں کی تیاریوں کے معاملے میں صنعت کار گزشتہ 12 ماہ کے دوران کسی دوا کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ 10 فیصد تک اضافہ کر سکتے ہیں۔ تاہم، مارکیٹ کے دستیاب اعداد و شمار (جون 2026 کے فارماریک ڈیٹا بیس کی بنیاد پر) سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران غیر شیڈول شدہ ادویات کی قیمتوں میں وزنی اوسط سالانہ اضافہ 6.94 فیصد رہا، جو سالانہ 10 فیصد کی قابل اجازت حد سے کم ہے۔
این پی پی اے شیڈول میں درج اور شیڈول میں غیر درج شدہ دونوں اقسام کی دواؤں کی قیمتوں پر مسلسل نظر رکھتی ہے اور اگر کوئی کمپنی صارفین سے مقررہ قیمت سے زیادہ وصول کرتی پائی جائے تو اس کے خلاف ادویات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق حکم نامہ 2013 کی دفعات کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔
قیمتوں کے تعین کے علاوہ حکومت نے پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا (پی ایم بی جے پی) کے ذریعے بھی ضروری ادویات کو سستی قیمتوں پر عوام تک پہنچانے کا انتظام کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جن اوشدھی مراکز کے ذریعے معیاری ادویات برانڈڈ ادویات کے مقابلے میں عموماً 50 سے 80 فیصد کم قیمت پر فراہم کی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ، وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے امرت (علاج کے لیے کم قیمت ادویات اور قابل اعتماد امپلانٹس) پروگرام کے تحت کینسر، قلبی امراض اور دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے ادویات، امپلانٹس، جراحی میں استعمال ہونے والا سامان اور دیگر طبی اشیا ملک بھر کے مختلف اسپتالوں اور صحت کے اداروں میں قائم امرت فارمیسیوں کے ذریعے مارکیٹ قیمتوں کے مقابلے میں اوسطاً 50 فیصد تک رعایت پر فراہم کی جاتی ہیں۔اسی طرح قومی صحت مشن کے تحت مفت ادویات فراہمی اقدام کے ذریعے بھارتی عوامی صحت معیارات (آئی پی ایچ ایس) کے مطابق تجویز کردہ ضروری ادویات ملک بھر کے سرکاری صحت مراکز، بنیادی مراکزِ صحت سے لے کر ضلعی اسپتالوں تک، عوام کو مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
وزارت صحت و خاندانی بہبود کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، ملک میں ادویات کی تیاری، فروخت اور تقسیم کو ادویات و کاسمیٹکس ایکٹ، 1940 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد، 1945 کی دفعات کے مطابق لائسنس اور معائنہ کے نظام کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے۔ادویات کی تیاری، فروخت اور تقسیم کے لائسنس متعلقہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے مقرر کردہ ریاستی لائسنسنگ حکام (ایس ایل اے) جاری کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ، مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ریاستی ڈرگ کنٹرولرز (ایس ڈی سی) سے موصولہ معلومات کے مطابق، گزشتہ تین برسوں کے دوران ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ڈرگ کنٹرولرز کی جانب سے معیاری معیار پر پورا نہ اترنے والی، نقلی یا ملاوٹ شدہ قرار دی گئی ادویات کے نمونوں کی تعداد درج ذیل ہے:
|
سال
|
جانچ شدہ ادویات کے نمونے
|
غیر معیاری قرار دئے گئے ادویات کے نمونے
|
جعلی/ ملاوٹ شدہ قرار دئے گئے ادویات کے نمونے
|
جعلی/ ملاوٹ شدہ ادویات کی تیاری، فروخت اور تقسیم کے تعلق سے درج مقدمات
|
|
2023-24
|
1,06,150
|
2,988
|
282
|
604
|
|
2024-25
|
1,16,323
|
3,104
|
245
|
961
|
|
2025-26
|
1,41,322
|
3,012
|
283
|
779*
|
ریاستی لائسنسنگ حکام وقتاً فوقتاً یا خطرے پر مبنی طریقۂ کار کے مطابق لائسنس یافتہ اداروں کا معائنہ کرتے ہیں تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ ادویات و کاسمیٹکس ایکٹ، 1940 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کی دفعات پر عمل کیا جا رہا ہے۔ ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف ریاستی لائسنسنگ حکام کی جانب سے لائسنس معطل یا منسوخ کرنے اور عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں کیمیکلز اور کھادوں کی وزیر مملکت محترمہ انوپریا پٹیل نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
***
ش ح۔ ع و۔ م الف
U. No- 1553
(ریلیز آئی ڈی: 2295999)
وزیٹر کاؤنٹر : 34