خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: جموں و کشمیر میں اِسرو  کی معاونت سے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال

प्रविष्टि तिथि: 06 AUG 2026 2:45PM by PIB Delhi

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اِسرو اور  محکمۂ خلائی امور  نے مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر  میں سیٹلائٹ پر مبنی کئی ایپلی کیشنز اور خلائی ٹیکنالوجی پروگرام نافذ کیے ہیں۔ فعال مواصلاتی سیٹلائٹس میں سے 12 سیٹلائٹس مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر کو کور کرتے ہیں۔ یہ صلاحیت مختلف سروس فراہم کرنے والے اداروں کو ٹیلی کمیونیکیشن اور براڈ بینڈ رابطے کی ضروریات پوری کرنے اور انہیں مزید بہتر بنانے کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

اِسرو  اور  خلائی امور  کے محکمے نے جموں و کشمیر میں آفات سے نمٹنے، زراعت، آبی وسائل، شہری منصوبہ بندی اور ماحولیاتی نگرانی کے شعبوں میں درج ذیل پروجیکٹ  شروع کیے ہیں:

 

  • سیٹلائٹ انٹیگریٹڈ لینڈ سلائیڈ اسیسمنٹ اینڈ الرٹ سسٹم (ایس آئی ایل اے اے ایس) پروجیکٹ (اسرو –ڈی ایم ایس پی  کے تحت) کا استعمال: سیٹلائٹ کے ذریعے لینڈ سلائیڈز (زمین کھسکنے کے واقعات) کی نقشہ سازی اور گاؤں کی سطح پر لینڈ سلائیڈ الرٹس جاری کرنے کے لیے۔
  • 2023 کے مون سون سیزن کے لیے لینڈ سلائیڈ انوینٹری میپنگ: جموں و کشمیر کے تمام اضلاع کا احاطہ کرتے ہوئے زمین کھسکنے والے علاقوں کی فہرست اور نقشہ سازی کی گئی۔
  • قومی ہائیڈرولوجی پروجیکٹ کے تحت: جموں و کشمیر میں گلیشیئر جھیلوں کی فہرست تیار کی گئی، جبکہ دریائے سندھ کے طاس میں واقع مندکسر جھیل کے لیے گلیشیئر جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (جی ایل او ایف) کے خطرات اور ممکنہ نقصانات کے نقشے تیار کیے گئے۔
  • انٹیگریٹڈ واٹرشیڈ مینجمنٹ پروگرام (آئی ڈبلیو ایم پی) کے تحت: جغرافیائی ٹیکنالوجی  کے ذریعے آبی ذخائر کے علاقوں کی نگرانی کی گئی، جس میں اننت ناگ، باندی پورہ، بارہمولہ، بڈگام، ڈوڈہ، گاندربل، جموں، کٹھوعہ، کشتواڑ، کلگام، کپواڑہ، پونچھ، پلوامہ، راجوری، رام بن، ریاسی، سامبا، شوپیاں، سری نگر اور ادھم پور اضلاع شامل ہیں۔
  • واٹرشیڈ ڈیولپمنٹ کمپوننٹ- پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (ڈبلیو دی سی- پی ایم کے ایس وائی ) 2.0 پروجیکٹ  کی نگرانی: اننت ناگ، باندی پورہ، بارہمولہ، بڈگام، ڈوڈہ، گاندربل، جموں، کٹھوعہ، کشتواڑ، کلگام، کپواڑہ، پونچھ، پلوامہ، راجوری، رام بن، ریاسی، سامبا، شوپیاں، سری نگر اور ادھم پور  ان تمام  اضلاع میں جغرافیائی ٹیکنالوجی کے ذریعے منصوبوں کی پیش رفت کی نگرانی کی گئی۔
  • اربن واٹر باڈی انفارمیشن سسٹم (یو ڈبلیو اے آئی ایس) پروجیکٹ (اے ایم آر یو ٹی 2.0 ) کے تحت: اننت ناگ، جموں اور سری نگر کے آبی ذخائر کی نقشہ سازی کی گئی۔
  • جیو-منریگا پروجیکٹ (مرحلہ دوم): اننت ناگ، باندی پورہ، بارہمولہ، بڈگام، ڈوڈہ، گاندربل، جموں، کٹھوعہ، کشتواڑ، کولگام، کپواڑہ، پونچھ، پلوامہ، راجوری، رام بن، ریاسی، سامبا، شوپیاں، سری نگر اور ادھم پور اضلاع میں منریگا (ایم جی این آر ای جی اے) سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کے لیے استعمال کیا گیا۔
  • نیشنل ویٹ لینڈ انوینٹری اینڈ اسیسمنٹ (این ڈبلیو آئی اے) یہ پروجیکٹ  (22-2021): جموں یونیورسٹی کے تعاون سے جموں و کشمیر کی آبی زمینوں  کی فہرست سازی اور ضلع وار تجزیہ کیا گیا۔
  • صحرا اور زمین کی انحطاط: کشمیر یونیورسٹی ، سری نگر کے ساتھ نگرانی ، ولنریبلٹی اسسمنٹ اور کامبیٹنگ پلان پروجیکٹ (19-2018): کٹھوعہ ، بڈگام اور ادھم پور اضلاع کے لیے اسٹیٹس میپنگ اور ولنریبلٹی اسسمنٹ کے ساتھ ساتھ خطے میں مائیکرو واٹرشیڈ کے لیے زمین کے انحطاط سے نمٹنے کے لیے ایکشن پلان کی تیاری ۔
  • طویل مدتی ماحولیاتی تحقیقی اسٹیشن (ایل ٹی ای آر ایس) پروجیکٹ (2025-2021) کلائمیٹ اینڈ ایکوسسٹم رسپانس اسٹڈیز ، جس میں جموں و کشمیر سمیت شمال مغربی ہمالیہ کا احاطہ کیا گیا ہے ۔
  • جموں و کشمیر کے تمام اضلاع کے لیے ڈی سینٹرلائزڈ پلاننگ-اپ ڈیٹ (ایس آئی ایس ڈی پی-یو) پروجیکٹ کے لیے خلا پر مبنی انفارمیشن سپورٹ ، ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ ڈیٹا سے زمین کے استعمال ، بستیوں ، بنیادی ڈھانچے اور نکاسی آب کے بارے میں موضوعاتی معلومات تیار کرنا ۔
  • سال 2021-22 سے 2024-25 تک 1:2,50,000 پیمانے پر زمین کے استعمال اور زمین کے احاطے کا سالانہ جائزہ مکمل کیا گیا ہے، جبکہ 2020-21 کے لیے 1:50,000 پیمانے پر پانچ سالہ جائزہ بھی انجام دیا گیا ہے۔

منظور شدہ فنڈز، جاری کیے گئے فنڈز اور استعمال کیے گئے فنڈز کی سال کے لحاظ سے تفصیلات، نیز استفادہ حاصل کرنے والے محکموں  اور  عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

Sl. No.

Project

Year

Funds Sanctioned

Funds Released

Funds Utilized

Beneficiary/Implementing Agency

1

Land Cover Land Use project (1:50,000 scale) – Ongoing

2025-28

Rs. 75.78 lakhs

Rs. 30.31 lakhs

Rs. 30.31 lakhs

Department of Ecology, Environment & Remote Sensing, SDA Colony, Bemina, Srinagar

2

SILAAS (ISRO-DMSP budget head) -Ongoing

2023-28

Rs. 50.16 lakhs

Rs. 23.36 lakhs

Rs. 23.36 lakhs

University of Jammu

3

WDC-PMKSY 2.0 Monitoring
-Ongoing

2023-29

Rs. 4.95 lakhs

Rs. 3.7 lakhs

Rs. 3.7 lakhs

University of Jammu

4

Space based Information Support for Decentralised Planning - Update (SISDP-U)

2019-24

Rs. 220 lakhs

Rs. 220 lakhs (total)

Rs. 220 lakhs

Directorate of Ecology, Environment & Remote Sensing (DEERS), Jammu & Kashmir

5

IWMP Watershed Monitoring

2022-23

Rs. 27.62 lakhs

Rs. 27.62 lakhs

Rs. 27.62 lakhs

University of Jammu

6

National Wetland Inventory and Assessment

2018-22

Rs. 11.43 lakhs

Rs. 5. lakhs

Rs. 5. lakhs

University of Jammu

7

Desertification and Land Degradation: Monitoring, Vulnerability Assessment and Combating Plan

2017-21

Rs. 5.91 lakhs

Rs. 5.91 lakhs

Rs. 5.91 lakhs

University of Kashmir, Srinagar

 

اِسرو  اور خلائی امور کا  محکمہ جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں سیٹلائٹ انٹیگریٹڈ لینڈ سلائیڈ اسیسمنٹ اینڈ الرٹ سسٹم (ایس آئی ایل اے اے ایس)پروجیکٹ  کے تحت زمین کھسکنے کے واقعات کی پیش گوئی کے لیے تجرباتی کام کر رہا ہے۔ اِسرو وقتاً فوقتاً ریاستی اور مرکزی آفات سے نمٹنے والی تنظیموں کے لیے قومی اور علاقائی سطح پر ورکشاپس اور تربیتی پروگرام منعقد کرتا ہے۔ ان میں نیشنل ڈیٹا بیس فار ایمرجنسی مینجمنٹ (این ڈی ای ایم) سے متعلق علاقائی تربیت بھی شامل ہے، جس میں جموں و کشمیر کے شرکاء نے بھی حصہ لیا ہے۔

اِسرو نے جموں کی سینٹرل یونیورسٹی میں ستیش دھون سینٹر فار اسپیس سائنس (ای ڈی سی ایس ایس) قائم کیا ہے، جہاں اساتذہ اور تحقیقی طلبہ کو خلائی ٹیکنالوجی کے بارے میں سیکھنے اور اپنی معلومات و سمجھ  بوجھ کو بہتر بنانے کے لیے اِسرو کی سہولیات تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔

وزیر اعظم ای-ودیا (پی ایم ای- ویدیا) پروگرام کے تحت سیٹلائٹ کے ذریعے فاصلاتی تعلیم کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ٹیلی میڈیسن پروگرام کے تحت جموں و کشمیر کے علاقوں میں ٹیلی میڈیسن مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ سال 2024 میں جی ایس اے ٹی-این2 نامی ہائی تھرو پٹ سیٹلائٹ (ایچ ٹی ایس) شامل کیا گیا، جس سے مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر سمیت براڈ بینڈ رابطے کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

یہ معلومات سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی  علوم  کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ، وزیر اعظم  کے دفتر ، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے  وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

*******

ش ح۔  م م ع۔ خ م

UN-NO-1485


(रिलीज़ आईडी: 2295517) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil