قبائیلی امور کی وزارت
پروجیکٹوں میں قبائلی اراضی کے حقوق اور رضامندی
प्रविष्टि तिथि:
06 AUG 2026 12:34PM by PIB Delhi
قبائلی امور کے وزیر مملکت جناب درگا داس اویکے نےبدھ کے روز لوک سبھا میں بتایا کہ دیہی ترقی کی وزارت کے تحت محکمہ اراضی وسائل ملک میں اراضی سے متعلق معاملات کے لیے مرکزی سطح پر نوڈل وزارت ہے۔ اس محکمے کے مطابق، ہندوستان کے آئین کے ساتویں شیڈول کی ریاستی فہرست کے اندراج نمبر 18 کے تحت اراضی اور اس کا انتظام ریاستوں کے خصوصی قانون سازی اور انتظامی اختیار میں آتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اراضی کے حصول اور اس سے متعلق بازآبادکاری کا عمل مرکزی اور ریاستی حکومتیں مختلف مرکزی اور ریاستی قوانین کے تحت انجام دیتی ہیں۔
ماحولیات ، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایف اینڈ سی سی) نے اطلاع دی ہے کہ جنگلاتی اراضی کو غیر جنگلاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے متعلق تجاویز کی کارروائی پریویش پورٹل کے ذریعے آن لائن کی جاتی ہے۔ اس پورٹل پر جنگلاتی اراضی کی مجوزہ منتقلی، تجویز کی نوعیت، استعمال کنندہ ادارے کی تفصیلات، تجاویز کی موجودہ صورت حال، منصوبے سے متاثر ہونے والے درختوں اور دیگر متعلقہ معلومات دستیاب ہیں۔
درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندے (جنگلات کے حقوق کی پہچان) ایکٹ، 2006 کی دفعہ 3(2) کے تحت حکومت کے زیر انتظام مخصوص ترقیاتی سہولتوں کے لیے جنگلاتی اراضی کی محدود حد تک منتقلی کی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ ہر معاملے میں منتقل کی جانے والی اراضی کا رقبہ ایک ہیکٹر سے زیادہ نہ ہو اور اس کے لیے متعلقہ گرام سبھا کی سفارش لازمی ہو۔قبائلی اراضی کی منتقلی سے متعلق تفصیلات قبائلی امور کی وزرات کے پاس مرکزی سطح پر محفوظ نہیں رکھی جاتی ہیں۔
مزید برآں ، پنچایتی راج کی وزارت (ایم او پی آر) پنچایتوں (درج فہرست علاقوں تک توسیع) ایکٹ ، 1996 کے نفاذ کی انتظامی وزارت ہونے کے ناطے مطلع کیا ہے کہ پنچایتوں سے متعلق تمام معاملات ، بشمول دیہی علاقوں کے زمین سے متعلق معاملات ، متعلقہ ریاستی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور نہ ہی ریاستی حکومتوں نے ایسے معاملات کی تفصیلات ایم او پی آر کو فراہم کی ہیں اور نہ ہی ایم او پی آراس نوعیت کی تفصیلات کو محفوظ رکھتی ہے ۔
ایم او ای ایف اینڈ سی سیکے مطابق ون (سنرکشن ایوم سموردھن) قواعد، 2023 کے قاعدہ 11(7) میں یہ انتظام کیا گیا ہے کہ ریاستی حکومت یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ جنگلاتی اراضی کی منتقلی، لیز پر دینے یا جنگلاتی تحفظ ختم کرنے سے متعلق حکم صرف اسی صورت میں جاری کر سکتی ہے جب اسے ون (تحفظ و فروغ) ایکٹ کی دفعہ 2 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت مرکزی حکومت کی حتمی منظوری حاصل ہو جائے، اور اس کے ساتھ تمام متعلقہ قوانین اور ان کے تحت بنائے گئے قواعد کی شرائط پوری کر دی گئی ہوں۔ ان میں شیڈول قبائل اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندگان (جنگلاتی حقوق کی شناخت) ایکٹ، 2006 کے تحت جنگلاتی حقوق کے تصفیے کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔مزید برآں، قبائلی امور کی وزرات مسلسل ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر زور دے رہی ہے کہ جنگلاتی حقوق کے کسی بھی جائز مستحق کو اس کے حق سے محروم نہ رکھا جائے۔ اس سلسلے میں جنگلاتی حقوق ایکٹ کی دفعہ 4(5) پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے، جس کے مطابق کسی بھی دعویدار کو اس کے زیرقبضہ جنگلاتی اراضی سے اس وقت تک بے دخل یا ہٹایا نہیں جا سکتا جب تک اس کے جنگلاتی حقوق کی شناخت اور تصدیق کا عمل مکمل نہ ہو جائے۔
پروجیکٹوں سے متاثرہ خاندانوں کے لیے اراضی کے حصول، بازآبادکاری اور ازسرنو آبادکاری (آر اینڈ آر) سے متعلق تمام امور، جن میں ان پر عمل درآمد اور معاوضے کی ادائیگی بھی شامل ہے، متعلقہ ریاستی حکومت یا منصوبہ نافذ کرنے والا ادارہ انجام دیتا ہے۔اسی لیے کان کنی اور دیگر پروجیکٹوں کے لیے اراضی کی منتقلی سے متعلق معاملات میں اراضی کے حصول، بازآبادکاری اور گرام سبھا کی رضامندی سے متعلق ضوابط پر عمل درآمد کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات کی تفصیلات قبائلی امور کی وزارت کے پاس مرکزی سطح پر محفوظ نہیں رکھی جاتی ہیں ۔
ایم او ای ایف اینڈ سی سی نے بتایا ہے کہ ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں سے موصول ہونے والی جنگلاتی اراضی کی منتقلی سے متعلق تجاویز کا جائزہ ون (سنرکشن ایوم سموردھن) ایکٹ، 1980 اور اس کے تحت وضع کردہ قواعد و رہنما ہدایات کے مطابق لیا جاتا ہے۔
جب بھی ایف آر اےکی دفعات کی خلاف ورزی سے متعلق کوئی شکایت یا عرضداشت وزارت کو موصول ہوتی ہے تو اسے ازالۂ شکایت کے لیے متعلقہ ریاستی حکومت یا مرکز کے زیرانتظام علاقے کی انتظامیہ کو بھیج دیا جاتا ہے، کیونکہ اس ایکٹ پر عمل درآمد کی ذمہ داری ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی ہے۔مزید برآں، ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آئینی دفعات اور درج فہرست قبائل کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے مختلف قوانین کے مطابق قبائلی برادریوں کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنائیں۔
مزید برآں، شیڈول علاقوں میں قبائلی اراضی کی منتقلی سے متعلق چھ قانونی معاملات زیرالتوا ہیں۔ ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
تین معاملات ریاست اڈیشہ میں کان کنی کے منصوبوں سے متعلق ہیں، جو تحریری درخواستوں کے ذریعے معزز اڈیشہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔
دو معاملات ریاست گجرات میں قومی شاہراہوں کی تعمیر/توسیع سے متعلق ہیں، جو تحریری درخواستوں کے ذریعے معزز گجرات ہائی کورٹ، احمد آباد میں زیرسماعت ہیں۔
ایک معاملہ ریاست ہماچل پردیش کے چمبا ڈویژن میں ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ سے متعلق ہے، جو دیوانی مقدمے کے طور پر معزز سینئر سول جج کی عدالت، چمبا، ہماچل پردیش میں زیرسماعت ہے۔
***
) ش ح ۔ ش آ۔ ج)
U.No. 1472
(रिलीज़ आईडी: 2295489)
आगंतुक पटल : 7