سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: سائنسی تحقیق میں جانوروں کے بغیر متبادل طریقوں کا فروغ

प्रविष्टि तिथि: 06 AUG 2026 2:54PM by PIB Delhi

حکومت اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ انسانوں سے متعلق اور جانوروں کے بغیر آزمودہ متبادل نمونوں کی محدود دستیابی ادویات کی دریافت اورما قبل  طبی آزمائش  تحقیق کی رفتار اور مؤثریت کو متاثر کر سکتی ہے، روایتی حیوانی تجربات پر انحصار بڑھا سکتی ہے، نیز تحقیقی لاگت اور نتائج کے عملی طبی استعمال پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔اسی لیے مختلف وزارتوں کے تحت کام کرنے والے ادارے، جن میں سائنسی و صنعتی تحقیق کے کونسل (سی ایس آئی آر)، طبی تحقیق کے بھارتی کونسل (آئی سی ایم آر) اور محکمہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) شامل ہیں، ادویات کی دریافت، زہریلے اثرات کے جائزے اور حیاتیاتی طبی تحقیق کے لیے جدید خلیاتی تجربات ، 3ڈی بافتی اور آرگینائڈ ماڈلز، خلیہ جاتی نظام اور کمپیوٹر پر مبنی طریقۂ کار کے استعمال کو فروغ اور مضبوط بنا رہے ہیں۔ تاہم، فی الحال یہ طریقے مکمل طور پر حیوانی نمونوں کا متبادل نہیں بلکہ ان کے معاون ہیں، خصوصاً پیچیدہ حیاتیاتی مطالعات میں۔ تفصیلات درج ذیل ہیں:

  1. طبی تحقیق کے بھارتی کونسل (آئی سی ایم آر) نے جانوروں کے بغیر جانچ کے طریقوں، جن میں آرگن آن چِپ، 3ڈی بافتی ماڈلز اور کمپیوٹر پر مبنی طریقۂ کار شامل ہیں، کے شعبے میں اپنی مختلف تحقیقی اسکیموں کے تحت مجموعی طور پر 109 تحقیقی  پروجیکٹوں کی معاونت کی ہے۔ یہ پروجیکٹس ملک بھر کے 71 اداروں اور تجربہ گاہوں میں جاری ہیں۔
  2. سائنسی و صنعتی تحقیق کا کونسل (سی ایس آئی آر) نئے طریقہ کار پرمبنی تحقیقی حکمت عملی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے، جن میں جدید اِن وِٹرو اور خلیہ جاتی نظام، 3ڈی بافتی ماڈلز/آرگینائڈز، آرگن آن چِپ پلیٹ فارم اور کمپیوٹر پر مبنی (اِن سِلیکو) طریقے شامل ہیں، جو حیوانی تجربات کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ سی ایس آئی آر کی آٹھ تجربہ گاہوں نے ایسے ایک یا ایک سے زیادہ متبادل طریقوں میں اپنی صلاحیتوں اور سرگرمیوں کی اطلاع دی ہے، اگرچہ مختلف تجربہ گاہوں میں سہولیات کا دائرہ مختلف ہے۔
  3. محکمہ برائے بایو ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کے تحت طبی تحقیق سے وابستہ خود مختار ادارے جدید بنیادی ڈھانچے اور عالمی معیار کی سہولیات سے لیس ہیں، جو بایو ٹیکنالوجی میں جدید ترین تحقیق، بالخصوص جانوروں کے بغیر متبادل طریقوں اور نمونوں کی تیاری اور توثیق کے لیے معاونت فراہم کرتے ہیں۔
  4. ڈی بی ٹی کے خود مختار اداروں میں سے ایک بنگلورو میں قائم بی آر آئی سی – انسٹی ٹیوٹ فار اسٹیم سیل سائنس اینڈ ری جینریٹو میڈیسن (اِن اسٹیم) میں جانوروں کے بغیر تحقیق کے لیے خصوصی بنیادی ڈھانچہ موجود ہے، جس میں خلیاتی افزائش اور آرگینائڈز کے حیاتیاتی پلیٹ فارم، 2ڈی اور 3ڈی کلچر اور مشترکہ کلچر کی تجربہ گاہیں، مائیکرو فزیولوجیکل نظام (آرگن آن چِپ)، بایو ری ایکٹرز، تجزیاتی اور پیمائشی آلات، تیز رفتار جانچ اور خودکار نظام نیز ڈیٹا ذخیرہ کرنے اور مربوط تجزیے کے کمپیوٹر وسائل شامل ہیں۔
  5. بنیادی ڈھانچے کے علاوہ اِن اسٹیم نے خواتین کی تولیدی صحت پروگرام اور اسٹیم سیل و آرگینائڈ تحقیق و تربیت کے فروغ کا پلیٹ فارم  جیسے ادارہ جاتی پروگرام بھی قائم کیے ہیں، جن کا مقصد اس شعبے میں مہارت اور صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔
  6. اِن اسٹیم میں ابتدائی جنینی (ایمبریونک) نمونے بھی تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ ادویات کے ارتقائی زہریلے اثرات کی اِن وِٹرو جانچ کی جا سکے، جس سے حیوانی تجربات کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
  7. ایک اور ادارے بی آر آئی سی – ٹرانسلیشنل ہیلتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (ٹی ایچ ایس ٹی آئی)، فرید آباد نے حال ہی میں آرگینائڈ پلیٹ فارم تیار کیا ہے، جسے ادویات کی جانچ، بیماریوں کے نمونے تیار کرنے اور جگر کی بیماریوں کے علاج کی نئی حکمت عملی کی تیاری میں حیوانی تجربات کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  8. بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بائراک)، جو محکمہ برائے بایو ٹیکنالوجی کے تحت قائم ایک غیر منافع بخش سیکشن 8، شیڈول بی سرکاری سیکٹر کا ادارہ ہے، حیدرآباد میں واقع سینٹر فار سیلولر اینڈ مولیکولر بایولوجی (سی سی ایم بی) میں مرکز برائے پیش گوئی پر مبنی انسانی نمونہ جاتی نظام (سی پی ایچ ایم ایس) کی معاونت کرتا ہے۔ یہ مرکز انسانوں سے مطابقت رکھنے والے، جانوروں کے بغیر جانچ کے پلیٹ فارم، جن میں آرگینائڈز، اسٹیم سیل پر مبنی نمونے اور دیگر جدید خلیہ جاتی نظام شامل ہیں، کی تیاری اور ترقی میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

حکومت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ جانوروں کے بغیر آزمودہ متبادل نمونوں کی محدود دستیابی ادویات کی دریافت، تحقیقی لاگت اور تحقیقی نتائج کے عملی طبی استعمال پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی لیے حکومت ملک میں ایسی ٹیکنالوجیز کی تیاری، فروغ اور ان کے استعمال کے لیے تحقیق، اختراع اور صلاحیت سازی کی مسلسل حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

حکومت جانوروں پر مبنی روایتی طریقوں پر انحصار کم کرنے، ادویات کی جانچ اور قبل از طبی تحقیق کی مؤثریت بڑھانے کے لیے جانوروں کے بغیر جانچ کے متبادل طریقوں کی تیاری اور فروغ سے متعلق تحقیق اور اختراع کی مسلسل معاونت کر رہی ہے۔ تفصیلات درج ذیل ہیں:

  1. محکمہ برائے بایو ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) اپنے طبی شعبے اور بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر ا ے سی) کے ذریعے طبی بایو ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں جدید ترین تحقیق کی معاونت کرتا ہے، جس میں جانوروں کے بغیر جانچ کے طریقوں اور نمونوں کی تیاری اور توثیق سے متعلق تحقیق بھی شامل ہے۔ اس وقت کئی پروجیکٹوں پر کام جاری ہے، جن میں مونوکلونل اینٹی باڈیز کے جائزے کے لیے پھیپھڑا-آن-چِپ پلیٹ فارم اور انسانی گردے کے افعال کی نقل کرنے والا لیب-آن-چِپ آلہ جیسے جانوروں کے بغیر متبادل نمونوں کی تیاری اور توثیق شامل ہے۔
  2. بی آئی آر ا ے سی نے حالیہ برسوں میں "ادویات کی دریافت کے لیے قبل از طبی نمونوں کے قیام" کے عنوان سے ایک خصوصی دعوتِ تجاویز جاری کی، جس کے تحت مضبوط قبل از طبی نمونوں، بشمول آرگینائڈز، آرگن-آن-چِپ پلیٹ فارمز اور دیگر جدید اِن وِٹرو طریقۂ کار کی تیاری کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
  3. بی آر آئی سی – انسٹی ٹیوٹ فار اسٹیم سیل سائنس اینڈ ری جینریٹو میڈیسن (اِن اسٹیم)، بنگلورو ملک بھر کے محققین کو اس شعبے میں عملی اور معیاری تربیت فراہم کرنے کے لیے باقاعدگی سے اسٹیم سیل ورکشاپس کا انعقاد کرتا ہے۔
  4. حیدرآباد میں واقع سینٹر فار سیلولر اینڈ مولیکولر بایولوجی (سی سی ایم بی) کے تحت قائم سینٹر فار پری ڈکٹیوہیومن ماڈل سسٹمز ایک ایسا عوامی ڈیٹا بیس برقرار رکھتا ہے، جس میں پورے ملک کے اُن محققین کی معلومات موجود ہیں جو آرگینائڈز، آرگن-آن-چِپ، تین جہتی (3ڈی) بافتی نمونوں اور اس سے متعلقہ ٹیکنالوجیز پر کام کر رہے ہیں۔ یہ ڈیٹا بیس تحقیقی برادری کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے عوامی طور پر دستیاب ہے۔

یہ معلومات سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

***

ش  ح۔م  ع - ف ر

Uno-1480                                                                                                                                                


(रिलीज़ आईडी: 2295486) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil