وزارات ثقافت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کے غیر محسوس ثقافتی ورثے کی حفاظت

प्रविष्टि तिथि: 06 AUG 2026 2:54PM by PIB Delhi

غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق بین الحکومتی کمیٹی کا 20 واں اجلاس، حکومتِ ہند کی میزبانی میں یونیسکو کے 2003 کے کنونشن کے تحت 8سے 13 دسمبر 2025 تک نئی دہلی کے لال قلعہ میں منعقد کیا گیا۔ یہ اجلاس کئی اعتبار سے تاریخی اہمیت کا حامل تھا، کیونکہ پہلی بار بھارت نے یونیسکو کے 2003 کے کنونشن کے تحت اس بین الحکومتی کمیٹی کی میزبانی کی۔ یہ موقع اس کنونشن کی بھارت کی جانب سے توثیق کے بیس برس مکمل ہونے کے ساتھ بھی ہم آہنگ تھا، جس نے زندہ ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بین الاقوامی ثقافتی تعاون کے فروغ کے لیے بھارت کے دیرینہ عزم کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔

اس اجلاس میں تقریباً 130 ممالک سے 1,200 کے مندوبین نے شرکت کی، جن میں رکن ممالک کے نمائندے، بین الحکومتی کمیٹی کے ارکان، یونیسکو کے عہدیدار، منظور شدہ غیر سرکاری تنظیمیں، ثقافتی اداروں کے نمائندے، ماہرین اور مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے ثقافتی روایتوں کے امین شامل تھے۔ یہ اجلاس غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے پالیسی سطح پر تبادلۂ خیال، کامیاب تجربات کے اشتراک اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم عالمی پلیٹ فارم ثابت ہوا۔

اس اجلاس کی میزبانی کے بنیادی مقاصد میں بھارت کے متنوع اور مالا مال زندہ ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر نمایاں کرنا،  مختلف طبقات کی شمولیت پر مبنی تحفظ کے کامیاب نمونوں کو پیش کرنا، غیر مادی ثقافتی ورثے اور پائیدار ترقی سے متعلق بین الاقوامی مباحث میں مؤثر کردار ادا کرنا، اور یونیسکو کے 2003 کے کنونشن کے تحت بین الاقوامی ثقافتی تعاون میں بھارت کی قائدانہ حیثیت کو مزید مستحکم کرنا شامل تھا۔

اس اجلاس کا ایک تاریخی اور نمایاں نتیجہ دیپاولی کو یونیسکو کی انسانیت کے نمائندہ غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا جانا تھا۔ اس اندراج کے ساتھ ہی دیپاولی، بھارت کا 16 واں غیر مادی ثقافتی ورثہ بن گیا جسے یونیسکو کی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرستوں میں جگہ ملی۔ اس فیصلے نے بھارت کے سب سے اہم تہواروں میں سے ایک کو عالمی سطح پر باضابطہ شناخت عطا کی، جو ہم آہنگی، ثقافتی تسلسل، سماجی یکجہتی اور مشترکہ روایات جیسے عالمگیر اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ امر بھی ایک بار پھر واضح ہوا کہ بھارت یونیسکو کے 2003 کے کنونشن کے اصولوں کے مطابق اپنے گراں قدر زندہ ثقافتی ورثے کے تحفظ، فروغ اور آئندہ نسلوں تک اس کی منتقلی کے لیے مسلسل پُرعزم ہے۔

دسمبر 2025 میں دیپاولی کے اندراج کے بعد، یونیسکو کی انسانیت کے نمائندہ غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھارت کے 16 غیر مادی ثقافتی ورثوں کو شامل کیا جا چکا ہے۔ نامزدگی کی دستاویزات تیار کرنے کا تفصیلی طریقۂ کار اور ضابطہ یونیسکو کے 2003 کے کنونشن کی عملی ہدایات میں درج ہے۔  جس  کا لنک   ہے: https://ich.unesco.org/en/directives.

حکومت نے چھٹھ مہاپرو کو کثیر ملکی نامزدگی کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ ماریشس سے بھی رابطہ کیا گیا، جس نے اس مشترکہ نامزدگی میں شامل ہونے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ اس کے بعد نامزدگی کا مکمل مسودہ تیار کیا گیا، جس میں آئی سی ایچ-01 فارم، دستاویزی فلم، رضامندی کے خطوط اور دیگر ضروری دستاویزات شامل تھیں۔ یہ مکمل نامزدگی یونیسکو کو ارسال کر دی گئی۔

سنگیت ناٹک اکادمی (ایس این اے)، جو یونیسکو کے لیے غیر مرئی ثقافتی ورثے کے عناصر کی نامزدگی کی نَوڈل ایجنسی ہے، غیر مرئی ثقافتی ورثے کی قومی فہرست بھی مرتب کرتی ہے۔ اس وقت اس فہرست میں 54 نام  شامل ہیں، جو آئندہ یونیسکو میں نامزدگی کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، یونیسکو کے ضوابط کے مطابق ہر دو سالہ دورانیے میں صرف ایک ہی نامزدگی پیش کی جا سکتی ہے۔

یہ معلومات مرکزی وزیر برائے ثقافت و سیاحت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

*****

ش ح۔ ع و –ت ع

U.No. 1481


(रिलीज़ आईडी: 2295473) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil