سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: بایو ای تھری پالیسی کا کردار

प्रविष्टि तिथि: 06 AUG 2026 2:56PM by PIB Delhi

بایو ای3 (بایو ٹیکنالوجی برائے اقتصاد ،ماحولیات اور ملازمت)پالیسی کے تحت محکمہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) نے بایو مینوفیکچرنگ مراکز اور بایو فاؤنڈریز کے قیام کے  واسطے درج ذیل چھ موضوعاتی شعبوں کی نشاندہی کی ہے:

  1. حیاتیاتی بنیاد پر تیار ہونے والے کیمیکلز،  بایو پلاسٹک، ایکٹو فارما سیوٹیکل انگریڈینٹس (اے پی آئی) اور انزائمز
  2. فنکشنل فوڈ اور  اسمارٹ پروٹین
  3. پریسیزن بایو تھراپیو ٹکس (مونوکلونل اینٹی باڈیز، ایم آر این اے  تھراپی، خلیاتی اور جینیاتی تھراپی(
  4.  ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت (ایگری بایو لوجیکلس)
  5. حیاتیاتی ایندھن اور کاربن  کیپچر
  6.  مستقبل رخی سمندری اور خلائی تحقیق

بایو-اے آئی  کےمراکز کے قیام کے لیے پانچ ترجیحی شعبوں کی  بھی نشاندہی کی گئی  ہے:

  • آیوروید
  • زراعتی اختراعات
  • جینومی تشخیص
  • مصنوعی حیاتیات
  • حیاتی سالماتی ڈیزائن

بایو ای3 پالیسی کے تحت بایو مینوفیکچرنگ مراکز، بایو فاؤنڈریز اور بایو-اے آئی  کے مراکز کا قیام ملک گیر سطح پر اشتہارات کے ذریعے تجاویز طلب کرنے کے بعد سخت اور کثیر مرحلہ  وار جانچ کے بعد کیا جاتا ہے۔ اس کے انتخاب کے لیے درج ذیل طریقۂ کار اپنایا گیا ہے:

  • قومی سطح پر اعلانات کے ذریعے  لیٹر آف انٹینٹ اور تجاویز طلب کی جاتی ہیں۔
  • اسکریننگ کمیٹی مقررہ اہلیت کے معیار کی بنیاد پر تجاویز کی ابتدائی جانچ کرتی ہے۔ اس کے بعد تکنیکی اور پھر مالیاتی  معائنہ انجام دیا جاتا ہے۔
  • انتخابی کمیٹی ماہرین کی آرا اور سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تجاویز کا تکنیکی جائزہ لیتی ہے۔
  • مالیاتی جائزہ کمیٹی مشترکہ سرمایہ کاری، ایکویٹی فائنانسنگ، انتظامی ڈھانچے، رائلٹی کی تقسیم اور دیگر مالیاتی پہلوؤں کا جائزہ لیتی ہے۔
  • اعلیٰ اختیاریافتہ کمیٹی واضح اہداف، سنگ میل، متوقع نتائج، مدت، لاگت اور فنڈ کی فراہمی کے طریقۂ کار کی بنیاد پر تجاویز کی منظوری کی سفارش کرتی ہے۔

بایو ای 3 پالیسی پر عمل درآمد سے آئندہ پانچ برسوں  کے دوران ٹائر 2 اور ٹائر 3کے شہروں میں تقریباً 1,500 براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

مقامی حیاتیاتی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور نئے کاروباری اداروں، چھوٹی، خورد اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے اس پالیسی کے تحت حکومت متعلقہ منصوبے کی لاگت کا 70 فیصد تک مالی  امداد فراہم کرتی ہے، جبکہ باقی 30 فیصد سرمایہ نجی شعبے کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔

یہ پالیسی اختراع پر مبنی ترقی کو فروغ دینے، مقامی حیاتیاتی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت مضبوط بنانے اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے نظام کو وسعت  دے کر 2030 تک 300 ارب امریکی ڈالر کی حیاتیاتی معیشت کے ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

پالیسی کا مقصد بایو فاؤنڈریز اور بایو مینوفیکچرنگ کے  مراکز کے قیام کے ذریعے اعلیٰ معیار کی حیاتیاتی پیداوار کو فروغ دینا ہے، تاکہ نئے کاروباری اداروں، اختراعات اور صنعتوں کی حیاتیاتی ٹیکنالوجیوں کی توسیع اور جانچ ممکن ہو سکے۔ اب تک 600 سے زائد مستفیدین ان سہولیات سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔اس کے علاوہ حیاتیاتی بنیاد پر کیمیکلز اور  انزائم،  ایکٹو فوڈ اور  اسمارٹ پروٹین، پریسیزن بایو تھراپیو ٹکس،  ماحولیاتی موافق زراعت، کاربن کے حصول اور استعمال، نیز سمندری اور خلائی حیاتیاتی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تحقیق و ترقی کے متعدد منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ یہ تمام اقدامات ‘‘میک اِن انڈیا‘‘مہم کا دائرہ  حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے تک وسیع کرنے اور حیاتیاتی معیشت کی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔اس اقدام کے تحت اب تک نجی شعبے سے 602.09 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے جا چکے ہیں۔

یہ معلومات سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی ہیں۔

***

(ش ح ۔م ش ع۔ م ذ)

UR.No.1479


(रिलीज़ आईडी: 2295468) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil