خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: خلائی ٹیکنالوجی کی ترقی

प्रविष्टि तिथि: 06 AUG 2026 2:46PM by PIB Delhi

حکومت کی جانب سے ہندوستان میں خلائی ٹیکنالوجی کی پیداوار اور مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے مندرجہ ذیل منصوبے اور اقدامات کیے گئے ہیں:

  1. خلائی شعبے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی آزادانہ پالیسی متعارف کرائی گئی۔
  2. غیر سرکاری اداروں (این جی ای) کو اسرو کی سہولیات رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے رعایتی  شرح کی پالیسی نافذ کی گئی۔
  3. خلائی شعبے کے نئے کاروباری اداروں (اسٹارٹ اپس) کی معاونت کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے کا وینچر کیپیٹل فنڈ قائم کیا گیا۔
  4. مقامی خلائی ٹیکنالوجی کی تیاری،  تجربے اور تجارتی استعمال کو تیز کرنے کے لیے 500 کروڑ روپے کا ٹیکنالوجی  ایڈپشن فنڈ قائم کیا گیا۔
  5. نجی شعبے کی ترقی کے لیے اسرو کے بنیادی ڈھانچے، تکنیکی مہارت اور رہنمائی کی رسائی فراہم کی گئی۔
  6. خلائی شعبے میں افرادی قوت کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے مہارتوں کی ترقی کے مختلف پروگرام شروع کیے گئے۔
  7. خلائی نظاموں کی کم لاگت پر جانچ، توثیق اور سِمیولیشن کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک تکنیکی مرکز قائم کیا گیا۔
  • viii. اسرو کی تیار کردہ ٹیکنالوجیوں کو تجارتی استعمال کے لیے صنعتوں کو منتقل کرنے کا بندوبست کیا گیا۔
  1. پی ایس ایل وی  فلکی تجرباتی ماڈیول (پی او ای ایم) کے ذریعے خلائی ٹیکنالوجیوں کے تجربے کے مواقع فراہم کیے گئے۔
  2. مقامی  ساختہ سٹیلائٹ پلیٹ فارم کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور  سیٹلائٹ سازی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ‘‘سٹیلائٹ بس بطور  سروس’’ (ایس بی اے اے ایس) کی پہل شروع کی گئی ۔
  3. ریاستی حکومتوں کو مینوفیکچرنگ کلسٹر اور مشترکہ  تجرباتی سہولیات قائم کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ خلائی صنعت کو فروغ ملے۔

ان-اسپیس کی تمام اسکیمیں اور اقدامات ملک گیر نوعیت کے ہیں، اس لیے ریاستوں کے لحاظ سے یا صنفی بنیاد پر ان سے متعلق الگ الگ اعداد و شمار نہیں رکھے جاتے ہیں۔

چونکہ  ہندوستان میں نجی خلائی شعبہ ابھی ابتدائی اور ترقی کے مرحلے میں ہے، اس لیے حکومت کی توجہ بنیادی ڈھانچے کی فراہمی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، نئی ٹیکنالوجیوں کی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ پر مرکوز ہے۔

ان-اسپیس مختلف ذرائع  سے اپنی اسکیموں، پالیسیوں اور اقدامات سے متعلق آگاہی پھیلاتا ہے۔ ان میں صنعتی اداروں کے ساتھ تبادلۂ خیال، خلائی ٹیکنالوجی اپنانے اور آگاہی کی ورکشاپس )ایس اے اے ڈبلیو)، موضوعاتی ویبینار، متعلقہ فریقوں سے مشاورت، کانفرنسیں، نمائشیں اور وقتاً فوقتاً شائع ہونے والی مطبوعات شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے غیر سرکاری اداروں، جامعات، نئے کاروباری اداروں، چھوٹی، خورد اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے کو فروغ دیا جاتا ہے، جبکہ پالیسی اصلاحات، مالی معاونت کے مواقع، ضابطہ جاتی نظام اور  صلاحیت سازی کے پروگراموں سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

یہ معلومات سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک  سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی ہیں۔

***

(ش ح ۔م ش ع۔ م ذ)

UR.No.1475


(रिलीज़ आईडी: 2295448) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil