قومی انسانی حقوق کمیشن
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے مدھیہ پردیش کے ضلع شیو پوری کے ایک سرکاری پرائمری اسکول میں چوتھی جماعت کے ایک طالب علم، جو دلت برادری سے تعلق رکھتا ہے، کو استاد کی جانب سے مبینہ طور پر پیٹے جانے اور ذات پات پر مبنی توہین آمیز الفاظ کہے جانے کی خبر کا ازخود نوٹس لیا
اطلاعات کے مطابق استاد اس وقت غصے میں آ گیا جب اس نے لڑکے کو اپنی بوتل سے پانی پیتے ہوئے دیکھا
مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری اور شیو پوری کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی
رپورٹ میں متاثرہ بچے کو فراہم کی جانے والی قانونی امداد کی صورتحال بھی شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے
प्रविष्टि तिथि:
06 AUG 2026 1:35PM by PIB Delhi
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق(این ایچ آر سی) نے مدھیہ پردیش کے ضلع شیو پوری کے گاؤں اوکاول کے ایک سرکاری پرائمری اسکول میں28 جولائی 2026 کو چوتھی جماعت کے ایک طالب علم کو استاد کی جانب سے مبینہ طور پر مارے جانے اور ذات پات پر مبنی توہین آمیز الفاظ کہے جانے سے متعلق ایک میڈیا رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق استاد اس وقت مشتعل ہو گیا جب اس نے دلت برادری سے تعلق رکھنے والے بچے کو اپنی بوتل سے پانی پیتے ہوئے دیکھا۔
کمیشن نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگر خبر میں بیان کی گئی تفصیلات درست ہیں تو یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔ چنانچہ کمیشن نے مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری اور شیو پوری کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ رپورٹ میں متاثرہ بچے کو فراہم کی جانے والی قانونی امداد کی صورتحال بھی شامل ہونے کی توقع ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق جو یکم اگست 2026 کو شائع ہوئی تھی۔ بچے نے واقعے کے بارے میں اپنے والدین کو بتایا، جس کے بعد معاملے کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔
*********
ش ح۔م ح۔ش ت
Urdu No-1469
(रिलीज़ आईडी: 2295405)
आगंतुक पटल : 11