نیتی آیوگ
azadi ka amrit mahotsav

نیتی آیوگ نے ‘‘وکست بھارت@2047 میں نگہداشت کی از سرنوتشکیل: نگہداشت فراہم کرنے والوں کو بااختیار بنانے کی حکمت عملیاں’’کے عنوان سے رپورٹ جاری کی

प्रविष्टि तिथि: 05 AUG 2026 9:43PM by PIB Delhi

نیتی آیوگ نے آج اپنے صدر دفتر ،نیتی آیوگ میں‘‘ وکست بھارت@2047 میں نگہداشت کی از سرنوتشکیل: نگہداشت فراہم کرنے والوں کو بااختیار بنانے کی حکمتِ عملیاں’’ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔

یہ رپورٹ ہندوستان کے نگہداشت کے موجودہ نظام کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے اور ایک ایسے منظم، پیشہ ورانہ، آسانی سے قابلِ رسائی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ نگہداشت کے نظام کے قیام کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔رپورٹ میں نگہداشت فراہم کرنے والوں کو پورےنگہداشت کے نظام کا مرکزی ستون قرار دیتے ہوئے نگہداشت کے پیشے کو ایک باصلاحیت، باوقار اور قابلِ قدر پیشہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معیاری نگہداشت کی فراہمی، پیشہ ورانہ شناخت، نگہداشت فراہم کرنے والے کارکنوں کی فلاح و بہبود، ادارہ جاتی معاونت اور خاندانوں و برادریوں کے لیے قابلِ اعتماد اور کم لاگت نگہداشت کی سہولیات تک رسائی کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔رپورٹ اس امر پر بھی زور دیتی ہے کہ ملک میں نگہداشت کی خدمات کی موجودہ اور مستقبل کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تربیت یافتہ نگہداشت فراہم کرنے والوں کی ایک مضبوط افرادی قوت تیار کرنا ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارتی نگہداشت کے پیشہ ور افراد کے لیے عالمی سطح پر روزگار اور خدمات کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

یہ رپورٹ نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین جناب اشوک کمار لاہڑی نے نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر آر بالاسبرامنیم، چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ ندھی چھبر اور نیتی آیوگ کے دیگر سینئر افسران کی موجودگی میں جاری کی۔

اجراء کی تقریب  میں مرکزی حکومت کی مختلف وزارتوں اور محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں محکمہ سماجی انصاف اور تفویض اختیارات،معذور افراد کو بااختیاربنانے کا محکمہ،ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت، وزارت خارجہ، صحت اور خاندانی بہبودکی وزارت، قومی اداروں ،یو این ایف پی اے، ڈبلیو ایچ او،یو این آر سی ، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، آئی ایل او جیسے اقوام متحدہ کے اداروں اور نگہداشت فراہم کرنے والوں  کی تربیت سے متعلق کورسز اور پروگرام چلانے والے دیگر اداروں کے نمائندے بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین  جناب  اشوک کمار لاہڑی نے کہا کہ دنیا بھر میں نگہداشت فراہم کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی  مانگ ہندوستان کے لیے ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ روایتی نگہداشت کے شعبے میں عالمی رہنما کے طور پر اپنی شناخت قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف ملک کے لیے نمایاں اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، بلکہ نگہداشت فراہم کرنے والوں کی پیشہ ورانہ شناخت اور سماجی تحفظ کو بھی تقویت ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی ثقافتی اور علمی سافٹ پاور بھی مزید مستحکم ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ رپورٹ ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دینے، خاندانی اور پیشہ ورانہ نگہداشت فراہم کرنے والوں کو بااختیار بنانے اور بھارت کو تربیت یافتہ نگہداشت کی خدمات کا عالمی مرکز بنانے کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل پیش کرتی ہے۔

نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر آر بالاسبرامنیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیوا اور سمویدنا  ہمیشہ سے ہندوستانی تہذیب و تمدن کی بنیادی اقدار رہی ہیں اور نگہداشت کا عمل انہی دائمی اقدار کی عملی تعبیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک مضبوط اور مؤثر نگہداشت کا نظام قائم کیا جائے تو اس سے سماجی شمولیت کو فروغ ملے گا، ایک ہمدرد اور باہم تعاون کرنے والا معاشرہ تشکیل پائے گا، مقامی لوگ  بااختیار ہوں گے، معیاری روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور وکست بھارت@2047 کے وژن کے حصول میں نمایاں مدد ملے گی۔

نیتی آیوگ کے سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے ڈویژن کی تیار کردہ یہ رپورٹ متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ وسیع پیمانے پر مشاورت، بین الاقوامی تجربات اور معیارات کے تقابلی جائزے، سرویز اور مختلف مقامات کے دوروں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ رپورٹ میں ان مواقع کی نشاندہی کی گئی ہے جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئےہندوستان نگہداشت  کی خدمات کے شعبے میں عالمی رہنما کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں نگہداشت کے شعبے کو ہندوستان کی سماجی اور اقتصادی تبدیلی کا ایک اہم ستون قرار دیا گیا ہے اور اسے وکست بھارت@2047 کے وژن کی جانب پیش رفت میں جامع اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر عنصر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہمدردی اور خدمت پر مبنی نگہداشت کی مضبوط روایات اور دنیا بھر میں تربیت یافتہ نگہداشت فراہم کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث ہندستان  ایک منفرد مقام رکھتا ہے، جہاں وہ اپنی آبادی سے حاصل ہونے والے آبادی کے وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی نگہداشت کی خدمات کے دائرۂ کار کو وسعت دے سکتا ہے، تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کر سکتا ہے اور عالمی سطح پر دستیاب مواقع سے بھرپور استفادہ کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں اپنی سفارشات کو کئی اہم اور اسٹریٹجک شعبوں کے تحت ترتیب دیا گیا ہے، جن میں پالیسی سازی، نگہداشت فراہم کرنے والوں کی پیشہ ورانہ شناخت، افرادی قوت کی استعداد میں اضافہ، بین الاقوامی تعاون، سماجی تحفظ، خاندان اور برادری کی سطح پر نگہداشت کے نظام کو فروغ دینا اور دیگر متعلقہ امور شامل ہیں۔

رپورٹ میں ایک منظم، پیشہ ورانہ اور مؤثر نظامِ نگہداشت کے قیام کے لیے قومی نگہداشت پالیسی اور قومی نگہداشت کونسلکے قیام پر مبنی ایک جامع روڈ میپ بھی پیش کیا گیا ہے۔

مکمل رپورٹ درج ذیل لنک پر دستیاب ہے:


https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2026-08/Reimagining-Care-Strategies-for-Empowering-Caregivers-in-Viksit-Bharat-2047.pdf

********

ش ح۔م ش۔ ج ا

U-1457


(रिलीज़ आईडी: 2295334) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati