شہری ہوابازی کی وزارت
شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے ملک میں 11 نئے ایف ٹی او کے قیام کے لیے لیٹر آف انٹینٹ سے نوازا
رام موہن نائیڈو نے تمام موجودہ ایف ٹی او کے ساتھ گول میز بات چیت کی صدارت کی اور ایف ٹی او سلاٹ ایپ کا آغاز کیا
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 9:51PM by PIB Delhi
ملک میں پائلٹوں کی تربیت کے نظام کو مضبوط بنانے اور تیزی سے فروغ پانے والے شہری ہوابازی کے شعبے کی ضروریات پوری کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت کے تحت مرکزی وزیرشہری ہوابازی جناب کنجراپو رام موہن نائیڈو نے آج ہندوستانی ہوائی اڈہ جات اتھارٹی (اے اے آئی) کے سات ہوائی اڈوں پر 11 نئے فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشنز (ایف ٹی اوز) کے قیام کے لیے لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئی) جاری کیے۔
اس وقت ملک بھر میں63 فلائنگ بیسز سے 41 فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشنز کام کر رہی ہیں۔ ہندوستانی ہوائی اڈہ جات اتھارٹی کے سات ہوائی اڈوں پر ان 11 نئے ایف ٹی اوز کے قیام سے ہندوستان میں ہر سال 750 مزید تربیتی پائلٹوں (کیڈٹس) کو تربیت دینے کی صلاحیت پیدا ہوگی، جس سے ملک کے اندر پائلٹوں کی تربیت کے نظام کو نمایاں تقویت ملے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب رام موہن نائیڈو نے کہا‘‘وزیراعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں ہندوستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی ہوابازی منڈیوں میں شامل ہو چکا ہے۔ ‘ وکست بھارت’‘ اور ' آتم نربھربھارت’ کے ویژن کے تحت ہم ایک جانب ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دے رہے ہیں اور دوسری جانب اس شعبہ کی طویل مدتی ضروریات پوری کرنے کے لیے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کر رہے ہیں۔’’
وزیرموصوف نے گزشتہ دو برسوں میں فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشنز کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا-‘‘گزشتہ دو برسوں کے دوران ہندوستان میں چھ نئے ایف ٹی اوز قائم ہوئے ہیں۔ اس عرصے میں بھارتی ایف ٹی اوز کے زیر استعمال تربیتی طیاروں کی تعداد 324 سے بڑھ کر 385 ہو گئی، جس کے نتیجے میں پائلٹوں کی تربیت کے نظام میں سالانہ پروازی اوقات میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ محض تعداد میں اضافہ نہیں بلکہ تربیتی صلاحیت اور عملی استعمال میں واضح بہتری کا مظہر ہے۔’’
اس توسیع کے نتیجے میں تربیت یافتہ پائلٹوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کمرشل پائلٹ لائسنس (سی پی ایل) حاصل کرنے والوں کی تعداد 2024 میں 1,347 تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 1,652 ہو گئی۔ یہ گزشتہ ایک دہائی میں جاری کیے جانے والے سی پی ایل کی سب سے زیادہ تعداد ہے، جبکہ 2026 میں اس میں مزید اضافے کی توقع ہے۔
جناب رام موہن نائیڈو نے مزید کہا‘‘ ہندوستانی فضائی کمپنیوں نے اس وقت 1,640 طیاروں کے آرڈر دے رکھے ہیں، جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً 500 نئے طیارے اپنے بیڑے میں شامل کیے جائیں گے۔ اس غیر معمولی توسیع کے لیے ملک کے اندر تربیت یافتہ ہوابازی کے ماہرین کی مضبوط کھیپ تیار کرنا ناگزیر ہے۔ ہمارا واضح عزم ہے-‘بھارت میں تربیت حاصل کریں، بھارت میں پرواز کریں’’۔
وزیر نے پائلٹوں کی تربیت کے فروغ کے لیے حکومت کی پالیسی اصلاحات کا بھی ذکر کیا، جن میں فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشنز کی پالیسی کو زیادہ سہل بنانا، ہوائی اڈوں پر عائد رائلٹی ختم کرنا اور زمین کے کرایوں کو معقول بنانا شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمرشل پائلٹ لائسنس کے امتحانات کا عمل بھی مکمل طور پر ڈجیٹل کر دیا گیا ہے، اور اب طلبہ کے امتحانی درخواستوں کا انتظام ‘پریکشا پورٹل’ سے جاری ہونے والے کمپیوٹر نمبر کے ذریعے آسانی سے کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، ہندوستان الیکٹرانک پائلٹ لائسنس جاری کرنے والا دنیا کا دوسرا ملک بن چکا ہے، جس سے ہندوستانی پائلٹ عالمی سطح پر مزید مسابقتی بن گئے ہیں۔
وزیر موصوف کی تقریر کا ایک اہم موضوع ڈی جی سی اے کا فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشنز کی درجہ بندی کا فریم ورک بھی تھا۔ انہوں نے کہا، ‘‘یہ درجہ بندی کا نظام اس لیے متعارف کرایا گیا تاکہ پائلٹوں کی تربیت کو زیادہ شفاف، اعداد و شمار پر مبنی اور نوجوان امیدواروں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس نظام کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ‘کیٹیگری سی’ کے ایف ٹی اوز کی تعداد میں کمی اور ‘کیٹیگری بی’ کے اداروں میں اضافہ اس کی واضح مثال ہے۔’’
انہوں نے مزید بتایا کہ اندرا گاندھی راشٹریہ اُڑان اکیڈمی (آئی جی آر یو اے) نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران فی طیارہ سالانہ اوسط 1,765 پرواز گھنٹے ریکارڈ کیے، جو عالمی اوسط تقریباً 1,500 گھنٹوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ اسی طرح، مالی سال 2025–26 میں اکیڈمی کی آمدنی میں ستائیس فیصد اضافہ ہوا اور دو دہائیوں سے زائد عرصے تک مسلسل خسارے کے بعد اس نے مالی سال کا اختتام بجٹ سرپلس کے ساتھ کیا۔
جناب رام موہن نائیڈو نے ‘ہنسا-3 (این جی)’کے ذریعے ملک میں تیار کیے جانے والے مقامی تربیتی طیارے کی پیش رفت کا بھی ذکر کیا اور اسے بھارت کے خود کفیل ہوابازی تربیتی نظام کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر موصوف نے کہا‘‘ہماری تمام کوششوں کا محور ایک ہی لفظ ہونا چاہیے، اور وہ ہے‘حفاظت’۔ ہمیں تربیت کاروں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانا ہوگا، معیاری عملی طریق کار (ایس او پیز) پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا اور تمام فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشنز میں حفاظتی ثقافت کو مضبوط بنیادوں پر فروغ دینا ہوگا۔’’
اس موقع پر وزیر رام موہن نائیڈو نے فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشنز کے لیے آئی ایف آر سلاٹ بکنگ ایپ کا بھی افتتاح کیا۔انسٹرومنٹ فلائٹ رولز (آئی ایف آر) کے تحت تربیت کو آسان بنانے اور ہوائی اڈوں پر دستیاب بنیادی ڈھانچے کے منصفانہ اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے یہ موبائل ایپ تیار کی گئی ہے۔ اس کے ذریعے فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشنز ہندوستانی ہوائی اڈہ جات اتھارٹی کے مختلف ہوائی اڈوں پر دستیاب آئی ایف آر تربیتی سلاٹس کی معلومات حاصل کر سکیں گی اور سلاٹ کی بکنگ کے لیے اپنی درخواستیں ڈجیٹل طریقے سے جمع کرا سکیں گی۔
اس تقریب میں شہری ہوابازی کی وزارت کے سکریٹری جناب سمیر کمار سنہا، وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری جناب پونیت کنسل، ہندوستانی ہوائی اڈہ جات اتھارٹی کے چیئرمین جناب وپن کمار، شہری ہوابازی کی وزارت،ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) ، ہندوستانی ہوائی اڈہ جات اتھارٹی کے سینئر افسران اور ملک بھر کی فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔







*****
ش ح- ظ الف
UR-1455
(रिलीज़ आईडी: 2295310)
आगंतुक पटल : 10