کیمیکل اور پٹرو کیمیکل کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

گزشتہ 12 برسوں کے دوران ہندوستان میں کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے


پیٹرولیم، کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکلانویسٹمنٹ ریجنز (پی سی پی آئی آر)نے 3.4 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے، جس کے نتیجے میں 3.7 لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں

مرکزی کابینہ نے تین نئے کیمیکل پارکس کے لیے ایک میگا کیمیکل پروجیکٹ کی منظوری دی ہے

प्रविष्टि तिथि: 05 AUG 2026 3:52PM by PIB Delhi

پچھلے بارہ برسوں کے دوران کیمیکلز اور کھادوں کی وزارت کے تحت کیمیکلز اور پیٹروکیمیکلز کے محکمے (ڈی سی پی سی) نے کیمیکل اور پیٹروکیمیکل شعبے کے لیے پالیسی اصلاحات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صلاحیت سازی، ہنرمندی کے فروغ، معیار میں بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ کے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات نے گھریلو مینوفیکچرنگ، اختراع، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، سرمایہ کاری میں اضافے اور وکست بھارت @2047 اور آتم نربھر بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

کیمیائی فروغ و ترقی کی اسکیم (سی پی ڈی ایس)، نئی پیٹروکیمیکل اسکیم (این ایس پی) کے تحت ایک ذیلی اسکیم ہے، جو محکمے کی مرکزی شعبے کی اسکیم کا حصہ ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے کانفرنسوں، نمائشوں، تربیتی پروگراموں، مطالعات اور بیداری کی سرگرمیوں کے ذریعے کیمیکل اور پیٹروکیمیکل شعبے کی ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

ڈی سی پی سی اپنے تحت کام کرنے والے سرکاری شعبے کے ادارے ایچ آئی ایل (انڈیا) لمیٹڈ اور خود مختار ادارے انسٹی ٹیوٹ آف پیسٹیسائڈ فارمولیشن ٹیکنالوجی (آئی پی ایف ٹی) کے ذریعے منعقد کیے جانے والے بیداری پروگراموں کے ذریعے فصلوں میں کیڑے مار ادویات کے محفوظ اور دانشمندانہ استعمال کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ سی پی ڈی ایس کے تحت دونوں ادارے کسانوں کے لیے تربیتی پروگرام منعقد کر رہے ہیں اور غذائی اجناس، خوردنی تیل، پھلوں اور سبزیوں میں کیڑے مار ادویات کی باقیات کم کرنے کے لیے مربوط انسدادِ آفاتِ زرعی (انٹیگریٹڈ پیسٹ مینجمنٹ) طریقوں کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ اب تک 250 سے زائد پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں، جن سے ملک بھر کے ایک لاکھ سے زیادہ کسان مستفید ہوئے ہیں۔

محکمے نے وکست بھارت @2047 ایکشن پلان کے تحت ’’کام کی جگہ پر خطرناک کیمیکلز کی محفوظ ہینڈلنگ اور ان سے وابستہ خطرات میں کمی‘‘ کے موضوع پر بڑے حادثاتی خطرات والی (ایم اے ایچ) اکائیوں کے افرادی قوت کے لیے ملک گیر تربیتی پروگرام شروع کیا ہے۔ یہ پروگرام پانچ برسوں میں تمام 2,393 ایم اے ایچ اکائیوں کا احاطہ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ ہر پروگرام میں 50 اکائیوں سے 100 شرکاء حصہ لیتے ہیں، یعنی ہر اکائی سے دو ملازمین۔ اب تک ملک بھر میں ایسے 21 تربیتی پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں، جن میں 1,376 صنعتی اکائیوں کے 2,441 اہلکار تربیت حاصل کر چکے ہیں۔

دہیج (گجرات)، وشاکھاپٹنم-کاکیناڈا (آندھرا پردیش) اور پارادیپ (اڈیشہ) میں قائم تین فعال پیٹرولیم، کیمیکلز اور پیٹروکیمیکلز سرمایہ کاری خطوں (پی سی پی آئی آر) نے 3.4 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا، 3.7 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کیے اور 2,200 سے زائد کیمیائی مینوفیکچرنگ اکائیوں کے قیام میں سہولت فراہم کی۔

صارفین کے تحفظ، معیاری مینوفیکچرنگ کے فروغ اور غیر معیاری درآمدات کی روک تھام کے لیے محکمہ وقتاً فوقتاً کوالٹی کنٹرول آرڈرز (کیو سی او) جاری کرتا رہا ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر 37 کوالٹی کنٹرول آرڈرز نافذ ہیں۔

ہندوستان کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی پالیسی کے تحت بیشتر کیمیائی شعبوں میں خودکار راستے سے 100 فیصد ایف ڈی آئی کی اجازت ہے، جس سے اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ ملا ہے۔ 2014 سے 2026 کے دوران اس شعبے میں 1,04,895 کروڑ روپے کی ایف ڈی آئی موصول ہوئی، جو 2004 سے 2014 کے دوران موصول ہونے والی 45,240 کروڑ روپے کی ایف ڈی آئی سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔

کیمیکلز اور پیٹروکیمیکلز کے محکمے نے ڈاؤن اسٹریم پلاسٹک پروسیسنگ صنعتوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی معاونت میں بھی توسیع کی ہے۔ ملک بھر میں 10 پلاسٹک پارکوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ان میں سے چار پلاسٹک پارکوں میں بنیادی ڈھانچہ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ ان میں سے تین 2025-26 کے دوران مکمل ہوئے۔ مزید برآں، تحقیق اور اختراع کے فروغ کے لیے سینٹرز آف ایکسی لینس کے نیٹ ورک کو بھی وسعت دی گئی ہے۔ ان 18 مراکز نے 85 پیٹنٹس دائر کیے، 600 سے زائد تحقیقی مقالات شائع کیے اور 105 نئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات تیار کیں۔

سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پیٹروکیمیکلز انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (سی آئی پی ای ٹی) نے سینٹر فار اسکلنگ اینڈ ٹیکنیکل سپورٹ، پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ سینٹر، اسکول آف ایڈوانس ریسرچ اِن پیٹروکیمیکلز، ایڈوانس ریسرچ اسکول فار ٹیکنالوجی اینڈ پروڈکٹ سمیولیشن اور ایڈوانس پولیمر ڈیزائن اینڈ ڈیولپمنٹ ریسرچ لیبارٹری قائم کرکے اپنے مراکز اور سہولیات میں نمایاں توسیع کی ہے۔ سی آئی پی ای ٹی کا نیٹ ورک اب 51 مراکز پر مشتمل ہے، جن میں سے 19 مراکز 2014 کے بعد قائم کیے گئے، جبکہ ان میں تین پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ سینٹر بھی شامل ہیں۔ ادارے نے مجموعی طور پر تقریباً 6.72 لاکھ ہنر مند افراد کو تربیت دی، جن میں 2014 سے 2024 کے دوران 5.21 لاکھ سے زائد افراد شامل ہیں، اور اسی عرصے میں 8.53 لاکھ ٹیکنالوجی سپورٹ سروس اسائنمنٹس مکمل کیے۔

مرکزی بجٹ 2026-27 میں حکومت نے گھریلو مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے، درآمدی انحصار کم کرنے اور عالمی مسابقت میں اضافہ کرنے کے لیے کلسٹر پر مبنی ’’پلگ اینڈ پلے‘‘ ماڈل کے تحت تین کیمیائی پارک قائم کرنے کی اسکیم کا اعلان کیا۔ بعد ازاں مرکزی کابینہ نے 3,030 کروڑ روپے سے زائد کے مالی التزام کے ساتھ ’’بھاویا رسائن اسکیم‘‘ (بھارت آدیوگک وکاس یوجنا رسائن) کی منظوری دی، جس کے تحت تین کیمیائی پارک قائم کیے جائیں گے۔ توقع ہے کہ یہ پارک کیمیائی صنعت کے فروغ اور مربوط سرکلر اکانومی کے اصولوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

گزشتہ بارہ برسوں کے دوران انسٹی ٹیوٹ آف پیسٹیسائڈ فارمولیشن ٹیکنالوجی (آئی پی ایف ٹی)، گروگرام نے پائیدار فصلوں کے تحفظ، زرعی کیمیائی فارمولیشن اور جدید تجزیاتی علوم کے شعبوں میں نمایاں صلاحیتیں فروغ دی ہیں۔ جدید تجربہ گاہوں اور پائلٹ پیمانے کی سہولیات سے آراستہ اس ادارے نے کیڑے مار ادویات کی تیاری سے متعلق 64 ٹیکنالوجیز تیار کرکے صنعت کو منتقل کی ہیں۔ یہ ادارہ نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ٹیسٹنگ اینڈ کیلیبریشن لیبارٹریز (این اے بی ایل) سے منظور شدہ ہے اور او ای سی ڈی-جی ایل پی معیارات کے مطابق جانچ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ بایو ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی بی ٹی) نے حیاتیاتی کیڑے مار ادویات اور جدید حیاتیاتی فارمولیشنز کے لیے بایو فاؤنڈری سہولت کے قیام کی خاطر 28.69 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ مزید برآں، آئی پی ایف ٹی کو فرٹیلائزر کنٹرول آرڈر (ایف سی او)، 1985 کے تحت بایو اسٹیمولینٹس کی جانچ کے لیے ایک مجاز تجربہ گاہ کے طور پر بھی نامزد کیا گیا ہے۔

آئی پی ایف ٹی کے ذریعے محکمہ نے کیڑے مار ادویات کے محفوظ اور دانشمندانہ استعمال اور حیاتیاتی کیڑے مار ادویات کے فروغ سے متعلق ملک بھر میں 45 کسان بیداری پروگرام منعقد کیے، جن سے 16,436 کسان مستفید ہوئے۔ آئی پی ایف ٹی نے کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے 59 ویں مہارتی امتحان میں "اے" درجہ حاصل کیا، اور اسے بین الاقوامی سطح پر نامزد شرکاء کے لیے جدید تجزیاتی تربیت فراہم کرنے کا عالمی او پی سی ڈبلیو معاہدہ بھی حاصل ہوا۔

گزشتہ بارہ برسوں کے دوران کیمیکلز اور پیٹروکیمیکلز کے محکمے نے کیمیکل اور پیٹروکیمیکل شعبے کی معاونت کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، پالیسی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ، ہنرمندی کے فروغ اور تحقیق کے میدان میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان کوششوں نے مینوفیکچرنگ، روزگار، برآمدات اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

***

UR-1415

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2295212) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Kannada