ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں خواتین کے لیے ہنر مندی کے فروغ کے اقدامات

प्रविष्टि तिथि: 05 AUG 2026 4:13PM by PIB Delhi

حکومت ہند کے اسکل انڈیا مشن (سم) کے تحت ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) مختلف اسکیموں کے ذریعے ہنرمندی، دوبارہ ہنرمند بنانے (ری اسکلنگ) اور مہارتوں میں اضافہ (اپ اسکلنگ) کی تربیت فراہم کرتی ہے۔ یہ تربیت آندھرا پردیش سمیت ملک بھر میں ہنرمندی کے فروغ کے مراکز کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص خواتین، کو فراہم کی جاتی ہے۔ ان اسکیموں میں پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی)، جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس)، نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس) اور کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) کے تحت انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (آئی ٹی آئی) شامل ہیں۔ اسکل انڈیا مشن کا مقصد خواتین سمیت ملک کے نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور صنعت سے متعلق مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے، جن میں مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور قابلِ تجدید توانائی جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔

گزشتہ پانچ برسوں (2021-22 سے 2025-26) کے دوران مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر اور قابلِ تجدید توانائی جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں ایم ایس ڈی ای کی اہم ہنرمندی ترقیاتی اسکیموں کے تحت تربیت حاصل کرنے والی خواتین امیدواروں کی تفصیلات درج ذیل جدول میں دی گئی ہیں۔

سیکٹرز

پی ایم کے وی وائی

NAPS

سی ٹی ایس ،آئی ٹی آئیز

مصنوعی ذہانت

19,697

1,426

603

سیمی کنڈکٹر

4,537

-

12

قابل تجدید توانائی

57,681

17,557

1,260

 

ایم ایس ڈی ای کی اہم اسکیموں کے تحت تربیت یافتہ خواتین امیدواروں کی سال وار تفصیلات ضمیمہ-I میں، ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-II میں اور آندھرا پردیش میں ضلع وار تفصیلات ضمیمہ-III میں دی گئی ہیں۔

ایم ایس ڈی ای کی اسکیموں میں پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) کے قلیل مدتی تربیتی جزو کے تحت صرف پہلے تین مرحلوں (پی ایم کے وی وائی 1.0، 2.0 اور 3.0)، جو 2015-16 سے 2021-22 تک نافذ رہے، میں روزگار (پلیسمنٹ) کی نگرانی کی گئی۔ پی ایم کے وی وائی (1.0 تا 3.0) کے تحت آندھرا پردیش میں 55,040 خواتین امیدواروں کو روزگار فراہم کیا گیا۔ پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ تربیت یافتہ امیدواروں کو صنعت سے متعلق ہنرمندی کے کورسز اور ملازمت کے دوران تربیت (او جے ٹی) کے ذریعے اپنے لیے مختلف کیریئر کے راستوں کا انتخاب کرنے کے قابل بنایا جائے۔

اگرچہ ایم ایس ڈی ای کی اسکیموں کے تحت بجٹ کی فراہمی صنفی بجٹ سازی کے موجودہ ضابطوں کے مطابق کی جاتی ہے، تاہم ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے الگ سے کوئی مخصوص صنفی بجٹ مختص نہیں کیا گیا ہے۔ پی ایم کے وی وائی 4.0 ایک طلب پر مبنی (ڈیمانڈ ڈرِون) اسکیم ہے، اس لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے فنڈز کی پیشگی تقسیم کا کوئی التزام نہیں ہے۔ اس اسکیم کے تحت پہلے سے منظور شدہ معیارات کی بنیاد پر تربیتی اخراجات کی ادائیگی کے لیے عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کو فنڈز جاری کیے جاتے ہیں۔ جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس) اسکیم کے تحت بھی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو براہِ راست فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس) کے تحت اپرنٹس کو براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے ماہانہ 1,500 روپے بطور وظیفہ فراہم کیے جاتے ہیں۔ کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) کے تحت انتظامی اور مالیاتی اختیارات متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے دائرۂ اختیار میں قائم آئی ٹی آئیز کے ذریعے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ایم ایس ڈی ای کی مختلف اسکیموں کے تحت جاری کیے گئے فنڈز کی سال وار تفصیلات ضمیمہ-IV میں اور ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-V میں دی گئی ہیں۔

ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے نقل و حمل، قیام و رہائش کے اخراجات میں معاونت اور روزگار حاصل کرنے کے بعد فراہم کی جانے والی معاونت (پوسٹ پلیسمنٹ سپورٹ) میں اضافے جیسے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پی ایم کے وی وائی 4.0 ایسے منصوبوں کو ترجیح دیتی ہے جن میں خواتین، بالخصوص کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین، بنیادی مستفیدین ہوں۔ جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس) اسکیم میں بھی خواتین اور دیگر کمزور طبقات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، اور اس اسکیم کے مجموعی مستفیدین میں 80 فیصد سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 19 نیشنل اسکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (این ایس ٹی آئی) اور 300 سے زیادہ انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (آئی ٹی آئی) خصوصی طور پر خواتین کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔

ضمیمہ-I

گزشتہ پانچ سالوں میں ایم ایس ڈی ای کی بڑی سکیموں کے تحت تربیت یافتہ خواتین امیدواروں کی سال وار تفصیلات:

مالی سال

اسکیمیں

پی ایم کے وی وائی

این اے پی ایس

جے ایس ایس

سی ٹی ایس

22-2021

3,05,751

1,23,767

3,85,242

1,68,170

2022-23

1,10,997

1,49,191

5,74,811

1,76,062

2023-24

2,82,102

1,96,909

4,03,035

2,05,166

2024-25

11,39,225

2,24,465

4,29,588

1,85,527

2025-26

72,302

3,06,307

4,33,454

2,20,816

 

ضمیمہ II

ایم ایس ڈی ای کی بڑی اسکیموں کے تحت تربیت یافتہ خواتین امیدواروں کی ریاست وار  تفصیلات:

 

ریاستیں،یوٹیز

پی ایم کے وی وائی

(آغاز سے لے کر 30.06.2026 تک)

جے ایس ایس

19-2018 سے 30.06.2026 تک

NAPS

19-2018 سے 30.06.2026 تک

سی ٹی ایس / آئی ٹی آئی

19-2018 سے 30.06.2026

اے اینڈ این جزائر

2,294

6,403

174

1,438

آندھرا پردیش

2,36,625

73,016

24,989

17,316

اروناچل

60,209

718

221

1,408

آسام

5,18,305

63,065

20,542

7,561

بہار

2,84,794

2,04,285

7,191

53,183

چندی گڑھ

13,820

9,279

2,229

3,853

چھتیس گڑھ

1,01,157

1,26,165

5,550

48,921

دہلی

2,27,917

34,983

31,630

25,662

گوا

3,120

12,655

15,780

3,355

گجرات

1,98,183

1,13,780

1,06,073

132,853

ہریانہ

2,78,794

44,821

73,412

88,793

ہماچل

91,288

70,902

9,406

37,134

جموں و کشمیر

2,34,754

10,840

1,129

22,721

جھارکھنڈ

1,39,084

98,402

7,157

14,186

کرناٹک

2,58,277

1,31,251

1,07,876

27,041

کیرالہ

1,17,296

1,09,196

22,503

52,966

لداخ

2,699

1,295

121

1,215

لکشدیپ

114

4,780

24

963

مدھیہ پردیش

5,71,984

3,33,574

34,666

83,586

مہاراشٹر

4,63,076

2,42,158

2,89,705

160,975

منی پور

85,098

32,867

287

1,069

میگھالیہ

33,370

5,316

548

2,348

میزورم

27,490

4,335

198

740

ناگالینڈ

32,292

8,861

72

477

اوڈیشہ

2,22,846

2,70,506

11,408

60,065

پڈوچیری

22,121

--

5,110

1,072

پنجاب

2,95,306

21,899

23,658

95,728

راجستھان

5,96,415

81,127

18,190

75,661

سکم

10,943

--

672

1,011

تمل ناڈو

5,50,060

93,548

1,42,752

38,276

تلنگانہ

1,94,551

73,475

59,474

18,347

ڈی این ایچ اور ڈی اینڈ ڈی

5,887

15,191

3,126

970

تریپورہ

79,187

16,132

569

4,881

اتر پردیش

11,10,215

5,46,705

77,439

325,472

اتراکھنڈ

1,29,250

86,169

23,914

14,479

مغربی بنگال

2,85,591

82,916

47,508

37,337

مجموعی طور پر

74,84,412

30,30,615

11,75,303

14,63,063

 

ضمیمہ III

آندھرا پردیش میں ایم ایس ڈی ای کی بڑی اسکیموں کے تحت تربیت یافتہ خواتین امیدواروں کی ضلع وار تفصیلات:

ضلع (اضلاع)

پی ایم کے وی وائی

شروع سے لے کر 30.06.2026 تک

جے ایس ایس

19-2018 سے 30.06.2026 تک

NAPS

19-2018 سے 30.06.2026 تک

سی ٹی ایس / آئی ٹی آئی

19-2018 سے 30.06.2026

الوری سیتاراما راجو

27

-

3

510

اناکاپلی

444

-

50

349

اننت پورامو

22,095

11,429

1,585

1,096

انامایا

223

-

28

234

باپٹلا

164

-

31

312

چتور

16,645

-

4,267

921

ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کونسیما۔

111

-

111

65

مشرقی گوداوری

20,103

-

673

216

ایلورو

418

-

554

235

گنٹور

26,767

4,857

2,862

186

کاکیناڈا

600

-

578

334

کرشنا۔

17,865

-

1,957

205

کرنول

17,481

-

1,970

1,097

نندیال

155

-

43

414

این ٹی آر

201

12,487

300

379

پالناڈو

395

-

13

430

پاروتی پورم مانیم

192

-

23

705

پرکاسم

17,456

13,140

186

1,635

سری پوٹی سریرامولو نیلور

15,754

-

425

775

سری ستھیا سائی۔

165

-

380

202

سریکاکولم

9,313

-

781

716

تروپتی

618

12,222

2,076

623

وشاکھاپٹنم

29,068

12,806

4,062

2,741

وجیا نگرم

10,428

6,075

256

1,248

مغربی گوداوری

19,840

-

335

116

وائی ​​ایس آر کڑپہ

10,097

-

1,440

1,572

کل

2,36,625

73,016

24,989

17,316

 

ضمیمہ IV

2018-19 سے ایم ایس ڈی ای کی اسکیموں (روپے کروڑ میں) کے تحت جاری کردہ فنڈز کی سال وار تفصیلات:

مالی سال

اسکیمیں

پی ایم کے وی وائی

این اے پی ایس

جے ایس ایس

2018-19

1507.18

39.07

68.06

20-2019

1877.80

47.22

111.98

21-2020

1255.01

110.86

107.68

22-2021

643.77

177.07

137.64

2022-23

305.46

309.03

154.66

2023-24

839.18

594.30

154.38

2024-25

1553.13

585.96

139.55

2025-26

279.30

577.03

148.24

2026-27

(30 جون 2026)

31.54

178.87

36.33

مجموعی طور پر

8292.37

2619.41

1058.52

 

ضمیمہ V

ایم ایس ڈی ای کی اسکیموں کے تحت جاری کیے گئے فنڈز کی ریاست وار تفصیلات (روپے کروڑ میں):

 

ریاست، یو ٹی

پی ایم کے وی وائی

2015-16 سے 30.06.2026 تک

جے ایس ایس

19-2018 سے 30.06.2026 تک

این اے پی ایس

19-2018 سے 30.06.2026 تک

اے اینڈ این جزائر

4.77

2.64

0.12

آندھرا پردیش

423.63

24.13

92.07

اروناچل پردیش

82.64

0.67

0.82

آسام

418.73

21.63

42.39

بہار

574.68

71.76

80.13

چندی گڑھ

21.58

3.93

1.88

چھتیس گڑھ

173.45

46.20

18.99

دہلی

8.54

12.08

88.99

گوا

380.32

3.96

8.03

گجرات

5.23

36.40

212.36

ہریانہ

279.09

15.55

91.74

ہماچل پردیش

577.23

29.32

20.84

جموں و کشمیر

157.26

5.04

3.03

جھارکھنڈ

354.71

34.89

45.62

کرناٹک

193.23

43.17

177.84

کیرالہ

358.03

35.73

56.66

لداخ

154.26

1.78

0.02

لکشدیپ

2.32

2.16

0.02

مدھیہ پردیش

0.84

111.47

96.29

مہاراشٹر

997.46

82.87

626.36

منی پور

772.26

14.76

2.75

میگھالیہ

127.50

2.33

1.73

میزورم

63.64

2.52

1.14

ناگالینڈ

53.16

4.54

1.1

اوڈیشہ

66.60

98.67

58.21

پڈوچیری

329.78

--

5.98

پنجاب

32.83

7.59

25.18

راجستھان

561.03

29.24

46.58

سکم

1039.91

--

1.24

تمل ناڈو

21.56

30.72

297.37

تلنگانہ

565.01

23.79

83.1

ڈی این ایچ اور ڈی ڈی

373.13

6.01

2.82

تریپورہ

103.85

6.40

2.12

اتر پردیش

1803.08

187.00

267.95

اتراکھنڈ

234.15

28.95

45.95

مغربی بنگال

437.59

30.60

111.99

مجموعی طور پر

11753.08

1058.50

2,619.42

یہ معلومات ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب جینت چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

***

UR-1414

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2295209) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil