وزارتِ تعلیم
گمراہ کن ایڈ ٹیک پلیٹ فارمز اور جعلی یونیورسٹیاں
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 6:18PM by PIB Delhi
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ بعض ایڈ ٹیک کمپنیاں اخبارات، سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن پر ایسے اشتہارات دے رہی ہیں، جن میں یو جی سی سے منظور شدہ یا مجاز بعض جامعات اور اداروں کے ساتھ اشتراک میں فاصلاتی تعلیم یا آن لائن طریقہ تعلیم کے تحت ڈگری اور ڈپلومہ پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں۔ یو جی سی نے ایک عوامی نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام طلبہ اور متعلقہ فریقوں کو مطلع کیا ہے کہ اس طرح کے فرنچائز انتظامات کی اجازت نہیں ہے اور ایسے کسی بھی پروگرام یا ڈگری کو یو جی سی کی منظوری حاصل نہیں ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والی ایڈ ٹیک کمپنیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے خلاف متعلقہ قوانین، قواعد اور ضوابط کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ یو جی سی نے عوامی نوٹس کے ذریعے طلبہ اور دیگر متعلقہ فریقوں کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی کورس میں داخلہ لینے سے پہلے یو جی سی (ڈی ای بی) کی ویب سائٹ پر متعلقہ پروگرام کی منظوری یا مجاز حیثیت ضرور جانچ لیں۔
جب بھی کسی غیر مجاز ادارے کی جانب سے ڈگری پروگرام پیش کرنے کی شکایت موصول ہوتی ہے، یو جی سی اس ادارے کو نوٹس جاری کرکے مطلع کرتا ہے کہ اسے ڈگری دینے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور اس سے وضاحت طلب کی جاتی ہے۔ اگر موصولہ وضاحت غیر تسلی بخش ہو تو اس ادارے کا نام یو جی سی کی جعلی یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ فروری 2026 میں شائع ہونے والی تازہ ترین فہرست کے مطابق 32 اداروں کو جعلی یونیورسٹی قرار دیا گیا ہے۔ جعلی یونیورسٹیوں کی فہرست یو جی سی کی ویب سائٹ https://www.ugc.gov.in/universitydetails/Fake-university پر دستیاب ہے۔
جعلی یونیورسٹیوں اور غیر مجاز اداروں کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پانے کے لیے یو جی سی نے 30 مئی 1996 کو اینٹی مال پریکٹس سیل (اے ایم پی سی) قائم کیا تھا۔ یہ سیل ملک میں ایسی جعلی یا غیر منظور شدہ یونیورسٹیوں اور اداروں سے متعلق معاملات دیکھتا ہے، جو یو جی سی ایکٹ 1956 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پروگرام چلاتے ہیں یا ڈگریاں جاری کرتے ہیں۔
مزید برآں، طلبہ اور عام لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے یو جی سی نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
i. غیر مجاز اداروں کی جانب سے غیر معتبر ڈگریاں جاری کرنے کے معاملے میں ان سے تبصرہ یا وضاحت طلب کرنے کے لیے شوکاز نوٹس، انتباہی نوٹس اور خطوط جاری کیے۔
ii. جعلی یونیورسٹیوں کی ریاست وار فہرست وقتاً فوقتاً یو جی سی کی ویب سائٹ (www.ugc.ac.in) پر شائع اور اپ لوڈ کی۔
iii. جعلی یونیورسٹیوں کے بارے میں عام لوگوں، طلبہ، والدین اور دیگر متعلقہ فریقوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً یو جی سی کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر عوامی نوٹس جاری کیے۔ طلبہ کو مشورہ دیا گیا کہ داخلے کے لیے درخواست دینے سے قبل اعلیٰ تعلیمی اداروں کی حیثیت کی تصدیق یو جی سی کی سرکاری ویب سائٹ سے ضرور کریں۔
iv. تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں کام کرنے والی جعلی یونیورسٹیوں اور اداروں کے خلاف مناسب کارروائی کریں اور جہاں ضرورت ہو ان اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں۔
یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر جناب سکانت مجمدار نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 1430 )
(रिलीज़ आईडी: 2295172)
आगंतुक पटल : 3