وزارتِ تعلیم
اعلیٰ تعلیم میں مالی اعانت کا نظام
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 5:52PM by PIB Delhi
چونکہ تعلیم آئین کی مشترکہ فہرست کا موضوع ہے، اس لیے تعلیم پر اخراجات میں اضافہ کرنا مرکزی اور ریاستی حکومتوں، دونوں کی ذمہ داری ہے۔ مرکزی حکومت نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بجٹ مختص رقم میں مسلسل اضافہ کیا ہے، جو 2021-22 میں 34,006.39 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2025-26 میں 50,747.66 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔
2021-22 سے 2025-26 تک تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حقیقی اخراجات، جن میں عالمی معیار کے انسٹی ٹیوشنز، پردھان منتری اُچّتر شکشا پروتساہن (پی ایم-یو ایس پی)، نیشنل اپرنٹس شپ ٹریننگ اسکیم (این اے ٹی ایس)، پردھان منتری اُچّتر شکشا ابھیان (پی ایم-اوشا) اور پی ایم ون نیشن ون سبسکرپشن (پی ایم-او این او ایس) جیسی اہم اسکیمیں شامل ہیں، کی تفصیلات ذیل کی جدول میں دی گئی ہیں۔
|
Actual Expenditure of D/o Higher Education (Rs. in Crore)
|
|
2021-22
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
34,006.39
|
38,994.90
|
43,436.11
|
46,055.44
|
50,747.66
|
محکمہ اعلیٰ تعلیم راشٹریہ اُچّتر شکشا ابھیان (روسا) نافذ کر رہا ہے، جو ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ہے۔ اس کا مقصد ریاستی حکومتوں کی مخصوص جامعات اور کالجوں کو مالی معاونت فراہم کرکے مقررہ معیارات اور ضابطوں کے مطابق ان کا معیار بہتر بنانا ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مطابق حکومت نے جون 2023 میں راشٹریہ اُچّتر شکشا ابھیان کے تیسرے مرحلے کو پردھان منتری اُچّتر شکشا ابھیان (پی ایم-اوشا) کی شکل میں شروع کیا، جس کے لیے 2023-24 سے 2025-26 کی مدت کے دوران 12,926.10 کروڑ روپے مختص کیے گئے، تاکہ تعلیمی طور پر محروم یا کم سہولت یافتہ علاقوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ اس اسکیم کی مدت میں مزید توسیع کرتے ہوئے اسے 31 مارچ 2028 تک جاری رکھنے کی منظوری دی گئی ہے۔
پروجیکٹ منظوری بورڈ کے اجلاسوں میں منصوبوں کی منظوری کی بنیاد پر، وزارت خزانہ کی ہدایات پر عمل درآمد اور فنڈز کے استعمال میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی فنڈز جاری کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران روسا/پی ایم-اوشا کے تحت جاری کیے گئے مرکزی فنڈز کی ریاست وار اور سال وار تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔
پی ایم-اوشا کے تحت فوکس اضلاع کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ان اضلاع کی نشاندہی متعلقہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کم مجموعی داخلہ شرح، صنفی مساوات، خواتین، خواجہ سرا افراد، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کی آبادی اور داخلہ کے تناسب، ترقیاتی خواہش مند اضلاع، سرحدی علاقوں اور بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ اضلاع سمیت مختلف معیارات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
اس اسکیم کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اعلیٰ تعلیم میں رسائی اور معیار بہتر بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی غرض سے طلبہ کے ہاسٹل، تعلیمی و انتظامی عمارتوں، تجربہ گاہوں اور دیگر ضروری سہولیات کی تعمیر کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پی ایم-اوشا کے تحت ریاستیں، مرکز کے زیر انتظام علاقے، یونیورسٹیوں اور کالج تعلیم میں رسائی، مساوات اور عمدگی کو فروغ دینے کے لیے مختلف سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں، جن میں فاصلاتی آن لائن تعلیم اور آن لائن پروگرام جیسے سویم/ایم او او سیز کو فروغ دینا، اسمارٹ کلاس روم، کمپیوٹر لیب، تحقیقی تجربہ گاہیں، ممتاز جرائد کی رکنیت کے ساتھ ڈیجیٹل لائبریریوں کا قیام، اور اکیسویں صدی کی مہارتوں کی تربیت شامل ہے۔
مزید برآں، بجٹ 2025-26 کے اعلان کے مطابق حکومت نے پانچ نئے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)، جو آندھرا پردیش (آئی آئی ٹی تروپتی)، کیرالہ (آئی آئی ٹی پالکڑ)، چھتیس گڑھ (آئی آئی ٹی بھلائی)، جموں و کشمیر (آئی آئی ٹی جموں) اور کرناٹک (آئی آئی ٹی دھارواڑ) میں قائم کیے گئے ہیں، کی تعلیمی اور بنیادی ڈھانچے کی صلاحیت میں توسیع، بشمول ریسرچ پارک کے قیام، کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے پر 11,828.79 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، جس سے اضافی 6,500 طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے کی سہولت ملے گی۔
مرکزی بجٹ 2026-27 میں بڑے صنعتی اور لاجسٹک راہداریوں کے قریب پانچ یونیورسٹی ٹاؤن شپ قائم کرنے اور ہر ضلع میں ایک طالبات کا ہاسٹل بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وائبیلٹی گیپ فنڈنگ اور سرمایہ جاتی معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی سے متعلق اداروں اور کورسز میں طالبات کے داخلوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر سکانت مجمدار نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
ANNEXURE-I
ANNEXURE REFERRED TO IN REPLY TO PART (A) TO (D) OF RAJYA SABHA UNSTARRED QUESTION NO. 1939 ANSWERED ON 05.08.2026 REGARDING “FUNDING PATTERN IN HIGHER EDUCATION” ASKED BY HON’BLE MP SHRI SANDOSH KUMAR P.
State-wise/UT-wise Central Share Releases in last 5 FY under RUSA/ PM-USHA
(All amount Rs. in Crore)
|
S. No.
|
States/ UTs
|
2021-
22
|
2022-
23
|
2023-
24
|
2024-
25
|
2025-26
|
|
1
|
Andaman &
Nicobar Islands
|
|
|
|
10.00
|
|
|
2
|
Andhra Pradesh
|
|
|
|
2.15
|
37.36
|
|
3
|
Arunachal
Pradesh
|
|
27.73
|
14.38
|
|
10.00
|
|
4
|
Assam
|
9.90
|
68.43
|
17.15
|
40.82
|
64.34
|
|
5
|
Bihar
|
6.45
|
|
|
|
3.92
|
|
6
|
Chandigarh
|
|
|
|
16.23
|
5.00
|
|
7
|
Chhattisgarh
|
|
32.79
|
3.14
|
8.02
|
11.56
|
|
8
|
The Dadar & Nagar Haveli Daman & Diu
|
|
|
|
|
|
|
9
|
Goa
|
4.65
|
|
5.00
|
0.06
|
15.62
|
|
10
|
Gujarat
|
|
|
|
14.30
|
45.00
|
|
11
|
Haryana
|
|
|
|
0.00
|
3.09
|
|
12
|
Himachal Pradesh
|
16.07
|
|
12.67
|
17.90
|
39.45
|
|
13
|
Jammu &
Kashmir
|
|
|
|
45.06
|
27.66
|
|
14
|
Jharkhand
|
23.49
|
|
4.31
|
27.50
|
29.50
|
|
15
|
Karnataka
|
4.50
|
|
5.62
|
40.36
|
41.26
|
|
16
|
Kerala
|
8.70
|
67.40
|
|
2.40
|
42.66
|
|
17
|
Ladakh
|
|
|
1.25
|
|
9.16
|
|
18
|
Madhya Pradesh
|
12.30
|
26.40
|
17.50
|
5.30
|
29.32
|
|
19
|
Maharashtra
|
39.50
|
31.22
|
21.25
|
5.85
|
92.49
|
|
20
|
Manipur
|
20.08
|
|
12.04
|
|
7.05
|
|
21
|
Meghalaya
|
|
26.33
|
|
|
13.39
|
|
22
|
Mizoram
|
5.40
|
|
|
11.66
|
14.80
|
|
23
|
Nagaland
|
|
|
|
23.40
|
10.01
|
|
24
|
Odisha
|
20.90
|
|
13.68
|
17.50
|
11.72
|
|
25
|
Puducherry
|
|
|
|
|
8.97
|
|
S. No.
|
States/ UTs
|
2021-
22
|
2022-
23
|
2023-
24
|
2024-
25
|
2025-26
|
|
26
|
Punjab
|
14.65
|
|
|
3.34
|
8.93
|
|
27
|
Rajasthan
|
|
|
9.89
|
22.82
|
37.64
|
|
28
|
Sikkim
|
|
|
21.99
|
|
19.57
|
|
29
|
Tamil Nadu
|
14.45
|
43.37
|
|
5.12
|
33.00
|
|
30
|
Telangana
|
|
|
15.99
|
18.10
|
36.83
|
|
31
|
Tripura
|
|
12.35
|
|
0.03
|
7.35
|
|
32
|
Uttar Pradesh
|
5.40
|
|
|
|
98.99
|
|
33
|
Uttarakhand
|
30.46
|
23.50
|
5.21
|
9.60
|
41.93
|
|
34
|
West Bengal
|
12.25
|
|
|
3.33
|
6.69
|
|
|
Total
|
249.13
|
359.50
|
181.06
|
350.83
|
864.25
|
|
|
Grand Total
|
249.13
|
359.50
|
181.06
|
350.83
|
864.25
|
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 1434 )
(रिलीज़ आईडी: 2295165)
आगंतुक पटल : 5