|
ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے ہنر مندی کافروغ
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 4:18PM by PIB Delhi
حکومت ہند کے اسکل انڈیا مشن (ایس آئی ایم) کے تحت ایم ایس ڈی ای مختلف اسکیموں پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس) نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس) اور کرافٹ مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (آئی ٹی آئی) کے ذریعے ملک بھر میں معاشرے کے تمام طبقوں کی خاطر ہنرمندی کے فروغ کے مراکز کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے ہنرمندی ، دوبارہ ہنرمندی اور اپ اسکلنگ کی تربیت فراہم کرتا ہے۔ اسکل انڈیا مشن (ایس آئی ایم) کا مقصد ہندوستان کے نوجوانوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنا ، مصنوعی ذہانت ، مشین لرننگ ، روبوٹکس ، سائبر سیکیورٹی ، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور گرین ٹیکنالوجیز سمیت صنعت سے متعلق مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے ۔
پچھلے پانچ سالوں (22-2021 سے 26-2025) کے دوران ایم ایس ڈی ای کی مختلف اسکیموں کے تحت تربیت یافتہ امیدواروں کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں ۔ مصنوعی ذہانت ، مشین لرننگ ، روبوٹکس ، سائبر سیکیورٹی ، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور گرین ٹیکنالوجیز سے متعلق ملازمت کے کرداروں میں ایم ایس ڈی ای کی مختلف اسکیموں کے تحت تربیت یافتہ امیدواروں کی تفصیلات ضمیمہII-میں دی گئی ہیں ۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ فراہم کی جانے والی مہارتیں صنعت کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ہوں اور اس طرح روزگار کو بہتر بنائیں ، ملک بھر میں ایم ایس ڈی ای کے ذریعے درج ذیل مخصوص اقدامات کیے گئے ہیں:
- نیشنل کونسل فار ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (این سی وی ای ٹی) کو تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت (ٹی وی ای ٹی) کے شعبے میں معیار کو یقینی بنانے کے لیے ضابطے اور معیارات قائم کرنے والے ایک وسیع انضباطی ادارےکے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ این سی وی ای ٹی صنعتی اداروں کو ایوارڈ دینے والے اداروں (اے بی) اور/یا تشخیصی ایجنسیوں (اے اے) کے طور پر تسلیم کرتا ہے ۔
- ایوارڈ دینے والے اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صنعت کی مانگ کے مطابق قابلیت تیار کریں گے اور پیشہ کی قومی درجہ بندی ، 2015 کے مطابق شناخت شدہ پیشوں کے ساتھ ان کا نقشہ بنائیں گے اور صنعت کی توثیق حاصل کریں گے ۔ این سی وی ای ٹی نے صنعت کی ضروریات کے مطابق 10209 مہارتوں کو منظوری دی ہے ، جن میں سے 2975 مہارت درست اور فعال ہیں ،جبکہ 7234 مہارت محفوظ ہیں ۔
- ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی) آئی ٹی آئی کے طلبا کو حقیقی صنعتی ماحول میں تربیت فراہم کرنے کے لیے صنعتوں کے تعاون سے فلیکسی ایم او یو اسکیم اور ڈوئل سسٹم آف ٹریننگ (ڈی ایس ٹی) نافذ کر رہا ہے ۔
- ڈی جی ٹی نے ریاستی اور علاقائی سطح پر اداروں کے لیے صنعتی روابط کو یقینی بنانے کے لیے آئی ٹی ٹیک کمپنیوں جیسے آئی بی ایم ، مائیکروسافٹ ، آٹوڈسک ، اے ڈبلیو ایس ، شیل وغیرہ کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ شراکت داریاں جدید ٹیکنالوجیز میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت کی فراہمی میں سہولت فراہم کرتی ہیں ۔
- ڈی جی ٹی نے 5 جی نیٹ ورک ، اے آئی پروگرامنگ ، سائبر سیکیورٹی ، ڈرون ٹیکنالوجی ، انٹرنیٹ آف تھنگز وغیرہ جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تربیت فراہم کرنے کے لیے سی ٹی ایس کے تحت نئے دور/مستقبل کے ہنر مندی کے کورسز متعارف کرائے ہیں ۔
- پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) کے تحت نئی اور مستقبل کی مہارتوں سے متعلق ملازمتوں کے کرداروں کو خاص طور پر انڈسٹری 4.0 کی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، جن میں مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ (اے آئی/ ایم ایل)، روبوٹکس، میکاٹرونکس، ڈرون ٹیکنالوجی وغیرہ کے شعبے شامل ہیں، تاکہ مستقبل کی مارکیٹ کی مانگ اور صنعتی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
- ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت(ایم ایس ڈی ای) نے اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ) کا آغاز کیا ہے، جو ایک متحدہ پلیٹ فارم ہے اور ہنرمندی، تعلیم، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کے نظام کو یکجا کرتا ہے تاکہ زندگی بھر مختلف خدمات فراہم کی جا سکیں۔ اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب کے ذریعے امیدوار ہنرمندی کی تربیت، روزگار اور اپرنٹس شپ کے مواقع تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ تربیت یافتہ امیدواروں کی تفصیلات ایس آئی ڈی ایچ پورٹل پر دستیاب ہیں، جس کے ذریعے انہیں ممکنہ آجر کمپنیوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔
- دو (02) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسکلز (آئی آئی ایس)احمد آباد اور ممبئی میں سرکاری و نجی ساجھے داری (پی پی پی) ماڈل کے تحت قائم کیے گئے ہیں، جن کا مقصد صنعت کے لیے تیار افرادی قوت کو ابھرتے ہوئے معاشی مواقع کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔
- 36 سیکٹر اسکل کونسلز (ایس ایس سی) قائم کی گئی ہیں، جن کی قیادت متعلقہ شعبوں کے صنعتی ماہرین کر رہے ہیں۔ ان کونسلز کو متعلقہ شعبوں میں ہنرمندی کے فروغ کی ضروریات کی نشاندہی کرنے اور ہنرمندی کے معیار اور اہلیت کے پیمانے طے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
- وزارت کی جانب سے ملک بھر میں توثیق شدہ امیدواروں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے روزگار میلوں اور پردھان منتری نیشنل اپرنٹس شپ میلوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔
- قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)، 2020 میں پیشہ ورانہ تعلیم کو عمومی تعلیم کے ساتھ زیادہ بہتر طور پر مربوط کرنے اور تعلیمی و پیشہ ورانہ راستوں کے درمیان آسان منتقلی کو فروغ دینے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اسی وژن کے مطابق، یو جی سی اور اے آئی سی ٹی ای کے تعاون سے تیار کیا گیا اپرنٹس شپ ایمبیڈڈ ڈگری پروگرام (اے ای ڈی پی)، ڈگری اور ڈپلومہ پروگراموں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو اپنے نصاب کے ایک لازمی حصے کے طور پر اپرنٹس شپ تربیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ پروگرام روزگار کے حصول کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے، نتائج پر مبنی سیکھنے کے عمل کو فروغ دیتا ہے، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط کرتا ہے اور صنعت سے متعلقہ مہارتوں کے حصول میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
- ملک میں پیشہ ورانہ تربیت کے مجموعی معیار اور افادیت کو بہتر بنانے کے لیے پردھان منتری اسکلنگ اینڈ ایمپلائبیلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈڈ آئی ٹیز(پی ایم سیتو)اسکیم شروع کی گئی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد دیگر امور کے ساتھ ساتھ ہب اور اسپوک ماڈل کے تحت 1,000 سرکاری انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (آئی ٹی آئی) کو اپ گریڈ کرنا ہے، جن میں 200 ہب آئی ٹیز اور 800 اسپوک آئی ٹیز شامل ہیں۔ اس کے تحت صنعت کی قیادت میں خصوصی مقصدی اداروں (ایس پی وی)کے ذریعے انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (آئی ٹی آئی) کو جدید بنایا جائے گا، جس کے نتیجے میں مقامی صنعتی ضروریات کے مطابق نصاب کی تیاری، تربیت کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے میں بہتری، صنعت سے عملی واقفیت اور روزگار و خود روزگاری کے مواقع فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔اس اسکیم کا مقصد سیکھنے والوں کو صنعت سے متعلقہ مہارتوں سے آراستہ کر کے ان کی روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا، اپرنٹس شپ اور عملی کام کے تجربے کے مواقع فراہم کرنا اور صنعت کی قیادت میں قائم حکومتی نظام کے ذریعے کیریئر رہنمائی، ملازمت کے حصول میں معاونت اور خود روزگاری کے مواقع تک رسائی فراہم کرنا ہے۔اس اسکیم کے تحت بھونیشور، چنئی، حیدرآباد، کانپور اور لدھیانہ میں واقع پانچ نیشنل اسکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس(این ایس ٹی آئی) کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کا بھی منصوبہ ہے، جس میں عالمی شراکت داری کے ذریعے تربیت کاروں کی جدید تربیت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ہنرمندی کے لیے شعبہ جاتی نیشنل سینٹرز آف ایکسی لینس کا قیام بھی شامل ہے۔
ضمیمہI-
پچھلے پانچ سالوں (22-2021 سے 26-2025) کے دوران ایم ایس ڈی ای کی مختلف اسکیموں کے تحت تربیت یافتہ امیدواروں کی ریاست وار تفصیلات
|
ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
پی ایم کے وی وائی
|
جے ایس ایس
|
این اے پی ایس
|
سی ٹی ایس / آئی ٹی آئی
|
|
انڈمان و نکوبارجزائر
|
2,510
|
8,097
|
474
|
3,129
|
|
آندھرا پردیش
|
90,011
|
60,263
|
1,02,147
|
2,50,950
|
|
اروناچل پردیش
|
23,882
|
-
|
395
|
3,270
|
|
آسام
|
1,52,512
|
52,376
|
47,640
|
22,354
|
|
بہار
|
1,87,902
|
1,97,653
|
31,851
|
5,59,901
|
|
چنڈی گڑھ
|
2,479
|
9,332
|
6,143
|
4,973
|
|
چھتیس گڑھ
|
39,178
|
1,29,809
|
24,937
|
1,13,569
|
|
دہلی
|
47,959
|
29,711
|
1,02,374
|
48,661
|
|
گوا
|
1,211
|
9,759
|
43,902
|
11,026
|
|
گجرات
|
1,02,190
|
86,745
|
4,29,570
|
4,33,939
|
|
ہریانہ
|
1,38,815
|
33,618
|
3,24,402
|
2,54,079
|
|
ہماچل پردیش
|
40,534
|
92,335
|
42,855
|
1,02,168
|
|
جموں و کشمیر
|
1,47,832
|
6,893
|
4,936
|
42,969
|
|
جھارکھنڈ
|
80,150
|
1,01,722
|
49,652
|
1,94,035
|
|
کرناٹک
|
1,21,413
|
1,14,745
|
3,88,244
|
3,54,316
|
|
کیرالہ
|
39,040
|
88,874
|
64,190
|
1,64,007
|
|
لداخ
|
1,734
|
1,529
|
181
|
1,661
|
|
لکشدیپ
|
240
|
5,177
|
41
|
1,588
|
|
مدھیہ پردیش
|
3,79,445
|
2,75,669
|
1,22,037
|
3,55,003
|
|
مہاراشٹر
|
1,73,609
|
2,03,879
|
11,76,491
|
6,09,589
|
|
منی پور
|
32,314
|
38,419
|
546
|
3,203
|
|
میگھالیہ
|
16,259
|
6,999
|
1,013
|
3,952
|
|
میزورم
|
17,692
|
7,057
|
446
|
1,574
|
|
ناگالینڈ
|
17,778
|
9,542
|
128
|
1,396
|
|
اوڈیشہ
|
74,638
|
2,67,840
|
52,682
|
2,93,410
|
|
پڈوچیری
|
7,609
|
-
|
15,123
|
3,621
|
|
پنجاب
|
1,54,901
|
17,883
|
82,940
|
2,08,592
|
|
راجستھان
|
3,62,319
|
79,759
|
97,483
|
4,83,608
|
|
سکم
|
7,379
|
-
|
1,755
|
1,701
|
|
تمل ناڈو
|
1,68,094
|
79,551
|
4,68,817
|
1,79,286
|
|
تلنگانہ
|
65,069
|
58,117
|
1,89,568
|
1,57,277
|
|
دادر و نگر حویلی اور دمن و دیو
|
2,066
|
14,447
|
12,836
|
3,680
|
|
تریپورہ
|
27,448
|
18,654
|
1,977
|
11,479
|
|
اتر پردیش
|
6,58,680
|
4,61,298
|
3,51,728
|
15,78,759
|
|
اتراکھنڈ
|
64,147
|
76,175
|
1,01,010
|
51,411
|
|
مغربی بنگال
|
1,09,870
|
71,682
|
1,32,915
|
1,93,668
|
|
کل
|
35,58,909
|
27,15,609
|
44,73,459
|
67,07,804
|
ضمیمہ -II
ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے متعلق ملازمت کے کردار میں ایم ایس ڈی ای کی مختلف اسکیموں کے تحت تربیت یافتہ امیدواروں کی تفصیلات
|
شعبے
|
پی ایم کے وی وائی
(آغاز سے 30 جون 2026 تک)
|
جے ایس ایس
(19-2018 سے 30 جون 2026 تک)
|
این اے پی ایس
(19-2018 سے 30 جون 2026 تک)
|
سی ٹی ایس/ آئی ٹی آئی
(سیشن 2018 تا 2025)
|
|
مصنوعی ذہانت
|
39,104
|
-
|
3,222
|
893
|
|
مشین لرننگ
|
300
|
-
|
54
|
-
|
|
روبوٹکس
|
1,898
|
-
|
5,208
|
17,259
|
|
سائبر سکیورٹی
|
663
|
2,012
|
108
|
-
|
|
سیمی کنڈکٹر
|
11,523
|
-
|
-
|
31
|
|
ماحول کے لیے سازگار ملازمتیں
|
5,18,058
|
4,086
|
13,830
|
12,626
|
یہ جانکاری ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای)کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، جناب جینت چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
**********
) ش ح – م ع - ش ہ ب )
U.No. 1392
(रिलीज़ आईडी: 2295119)
|