خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ سے بچوں کے جنسی تناسب اور لڑکیوں و خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں مدد   مل رہی ہے

प्रविष्टि तिथि: 05 AUG 2026 4:20PM by PIB Delhi

خواتین اور  بچوں کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے ایک سوال کے جواب میں راجیہ سبھا میں  بتایا کہ  بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ سے بچوں کے جنسی  تناسب (سی ایس آر) اور لڑکیوں و خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق مسائل کو حل  کرنے میں مدد   مل رہی ہے۔ یہ اسکیم 22 جنوری  ، 2015  ء کو خواتین اور  بچوں کی ترقی کی وزارت، وزارتِ تعلیم اور صحت و خاندانی بہبود  کی وزارت کے باہمی اشتراک سے شروع کی گئی تھی۔ اس کا مقصد  ، صنفی بنیاد پر جنس کے انتخاب کو روکنا، بچیوں کی بقاء اور تحفظ کو یقینی بنانا اور ان کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔

یہ اسکیم مختلف متعلقہ فریقوں کو معلومات فراہم کرکے، انہیں متاثر کرکے، ترغیب دے کر، شامل کرکے اور بااختیار بنا کر بچیوں کے تئیں سوچ اور رویے میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ 15ویں مالیاتی کمیشن کی مدت میں، مشن شکتی کے سمبل کے تحت ایک جزو کے طور پر بی بی بی پی کو وسعت دی گئی ہے، جس کے ذریعے کثیر شعبہ جاتی اقدامات کے تحت ملک کے تمام اضلاع کو شامل کیا گیا ہے اور ایسے کاموں پر زیادہ اخراجات کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے  ، جن کے زمینی سطح پر نمایاں اثرات مرتب ہوں۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ مختلف متعلقہ فریقوں، جن میں سرکاری ادارے، میڈیا، سول سوسائٹی اور  عام لوگ شامل ہیں،  انہیں  متحرک کرکے ایک پالیسی اقدام سے قومی تحریک میں تبدیل  کیا جا  چکا ہے۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا بنیادی مقصد ، ملک بھر میں بچیوں کے تئیں سوچ اور رویے میں سماجی و طرزِ عمل کی تبدیلی پیدا کرنا ہے۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ مرکزی  امداد یافتہ اسکیم ہے اور مرکزی حکومت  ، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 100 فی صد مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ اسکیم کے مجموعی نفاذ کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) کے صحت انتظامی معلوماتی نظام (ایچ ایم آئی ایس) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، قومی سطح پر پیدائش کے وقت جنسی تناسب (ایس آر بی) 15-2014 ء   میں 918 سے بڑھ کر  26-2025 ء   میں 929  (عارضی) ہو گیا ہے ۔ وزارتِ تعلیم کے یو ڈی آئی ایس ای اعداد و شمار کے مطابق، قومی سطح پر ثانوی سطح کے اسکولوں میں  لڑکیوں کے داخلے کےمجموعی تناسب میں  15-2014 ء  کے 75.51 فی صد سے اضافہ ہو کر  26-2025 ء   میں 83.4 فی صد ہو گیا ہے۔

بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی) اسکیم کے تحت  ، 11 اکتوبر  ، 2022  ء کو  ایک معیاری عملی رہنما   کتابچہ جاری کیا گیا، تاکہ متعلقہ وزارتوں کے درمیان باہمی اشتراک کو مضبوط بنایا جا سکے اور نچلی سطح پر مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ عملی رہنما کتابچہ تمام متعلقہ فریقوں کے لیے سرگرمیوں اور طریقۂ کار کی تفصیلات فراہم کرتا ہے، تاکہ بچیوں کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے متحد اور مربوط کوششوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ عملی رہنما کتابچے میں ضلع کی سطح پر باہمی اشتراک سے کی جانے والی سرگرمیوں کے لیے ایک موضوعاتی کیلنڈر بھی شامل ہے، جس میں بچیوں کی جامع ترقی اور سال بھر بچیوں، ان کے  کنبوں اور برادریوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے  مہینے کے لحاظ سے مخصوص موضوعات تجویز کیے گئے ہیں۔

وزارتِ تعلیم کے ساتھ اشتراک کے تحت کی جانے والی سرگرمیوں میں اسکولوں میں بچیوں کے لیے فعال بیت الخلا کی دستیابی کو یقینی بنانا، اساتذہ کو صنف سے متعلق حساس تعلیم کے حوالے سے تربیت دینا، لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان صنفی مساوات کو فروغ دینا، کیریئر رہنمائی اور زندگی کی  ہنر مندی سے متعلق تعلیم فراہم کرنا، بچیوں کے لیے خود دفاعی تربیت کا انعقاد کرنا اور تعلیمی اداروں میں سینیٹری نیپکن کی دستیابی کو یقینی بنانا شامل ہے۔ سائنس میلوں، نمائشوں، مطالعاتی دوروں اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے لڑکیوں کی سائنس اور پیشہ ورانہ تعلیم میں شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی کوششیں کی جاتی ہیں۔

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے ساتھ اشتراک کے تحت کی جانے والی سرگرمیوں میں غذائیت اور صحت، ماہواری سے متعلق حفظانِ صحت، نوعمر لڑکیوں میں خون کی کمی کی روک تھام کے بارے میں بیداری پیدا کرنا، راشٹریہ کشور سواستھیہ  کاریہ کرم (آر کے ایس کے) کو مضبوط بنانا، اسکول ہیلتھ ایمبیسیڈر پہل کو نافذ کرنا، جامع جنسی تعلیم سے متعلق آگاہی اجلاس منعقد کرنا اور حمل سے پہلے اور قبل از پیدائش تشخیصی تکنیک (پی سی پی این ڈی ٹی) ایکٹ اور طبی اسقاطِ حمل (ایم ٹی پی) ایکٹ کے بارے میں برادریوں کو حساس بنانا شامل ہے۔

 

****************************

( ش ح ۔  ا ع خ    ۔ ع ا )

U.No. 1397

 


(रिलीज़ आईडी: 2295089) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Gujarati , English , हिन्दी