سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جدید رابطےکے ذریعے ایک عالمی روحانی مرکز کے طورپروارانسی کےرول کو مضبوط بنانا

प्रविष्टि तिथि: 05 AUG 2026 4:09PM by PIB Delhi

 دنیا کے قدیم ترین آباد شہروں میں سے ایک اور بھارت کے روحانی دارالحکومت وارانسی میں ہر سال 15 کروڑ سے زائد سیاح اور عقیدت مند آتے ہیں۔ وہاں آنے والے افراد اور سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد جہاں شہر کی عالمی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے، وہیں اس نے شہر کے شہری نقل و حمل کے نظام پر بھی بہت زیادہ اثر ڈالا ہے۔ اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی بھیڑبھاڑ کے باعث مذہبی، تعلیمی اور ثقافتی مقامات تک پہنچنے میں زیادہ وقت لگتا ہے، جس سے وہاں آنے والے افراداور مقامی باشندے دونوں متاثر ہوتے ہیں، جبکہ رسد اور اقتصادی سرگرمیوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت (ایم او آر ٹی ایچ) نے شہری نقل و حرکت کے لیے ایک اہم منصوبہ تجویز کیاہے، جسے گزشتہ ماہ مرکزی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ مرکزی کابینہ نے اتر پردیش میں این ایچ-19 اور وارانسی رنگ روڈ (این ایچ-135 بی) کے درمیان 46.039 کلومیٹرطویل چھ لین گرین فیلڈ گنگا ایلیویٹڈ کوریڈور کی تعمیر کو منظوری دی ہے، جس میں ریمپس، لُوپس اور ایک ایکسٹرا ڈوزڈ فٹ اوور برج بھی شامل ہے۔ اس پروجیکٹ کی مجموعی لاگت 14,447.64 کروڑ روپے ہے۔تیز رفتار اور مکمل طور پر کنٹرول یافتہ رسائی والے اس کوریڈور کا مقصد این ایچ-19، وارانسی رنگ روڈ، رام نگر، بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) اور دیگر اہم مقامات کو جوڑنا ہے۔ اس سے وارانسی اور چندولی کے سڑک نظام پر ٹریفک کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہوگا اور وارانسی کے عالمی روحانی مقام کے رول کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔

کاشی سے کروڑوں افراد کو جوڑنا

یہ پروجیکٹ اس انداز سے تیار کیا گیا ہے کہ لاکھوں وہاں آنے والے لاکھوں افراد اور سیاحوں کے لیے کاشی کے سفرکو زیادہ تیز، محفوظ اور آسان بنایا جا سکے۔ اس سے کاشی وشوناتھ مندر، وارانسی کے گھاٹ، نمو گھاٹ، بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو)، رام نگر قلعہ اور کاشی ریلوے اسٹیشن جیسے اہم مذہبی اور ثقافتی مقامات تک رسائی میں بہتری آئے گی۔

بی ایچ یو/لنکا اور سامنے گھاٹ کے درمیان ایک بلند سطحی راستہ (ایلیویٹڈ اسپَر)، مصروف ترین لنکا چوراہے پر ٹریفک کے دباؤ کومزید کم کرے گا، کیونکہ گزرنے والے ٹریفک کو مقامی ٹریفک سے الگ کر دیا جائے گا۔ ان تمام اقدامات سے یاترا کا تجربہ بہتر ہوگا اور شہر کے موجودہ سڑک نظام پربھی دباؤ کم ہوگا۔

80 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کے لیے تیار کیے جانے والے مذکورہ کوریڈور سے پروجیکٹ کے زیرِ اثر علاقے میں اوسط سفر کا وقت تقریباً 60 منٹ سے کم ہو کر 20 منٹ رہ جانے کا امکان ہے، یعنی اس میں تقریباً 67 فیصد کمی آئے گی۔ اسی طرح این ایچ-19 سے کاشی ریلوے اسٹیشن تک سفر کا وقت تقریباً 50 منٹ سے کم ہو کر 25 منٹ رہ جائے گا، جس سے مقامی باشندوں، وہاں آنے والے افراد اور سیاحوں کے لیے سفر زیادہ تیز اور قابلِ بھروسہ ہو جائے گا۔

ورثے اور جدید بنیادی ڈھانچے کا امتزاج

تین ہزار سال سے زیادہ قدیم تاریخ رکھنے والے اس شہر میں جدید بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرناایک ایسا عمل ہے جس میں ثقافتی ورثے کا احترام ضروری ہے۔ اس کوریڈور میں کئی اہم انجینئرنگ خصوصیات شامل کی گئی ہیں، جن میں دریائے گنگا پر 910 میٹر طویل کیبل اسٹیڈ برج، 1.32 کلومیٹر طویل ایکسٹرا ڈوزڈ فٹ اوور برج-کم-میجر برج شامل ہیں، جن میں سفری راستے (ٹریولیٹرز) نصب ہوں گے اور یہ کاشی وشوناتھ مندر تک پیدل آمدورفت کو آسان بنائیں گے۔ اس کے علاوہ موجودہ اور مجوزہ مالویہ برج کے اوپر ایک ریل اوور برج بھی تعمیر کیا جائے گا۔

دیگر سہولیات جیسے ہنگامی پارکنگ کے لیے مخصوص جگہیں، شور کم کرنے والی رکاوٹیں، خوبصورت روشنی کا انتظام اور وارانسی کے ثقافتی ورثے سے متاثر تعمیراتی عناصر نہ صرف آمدورفت کو بہتر بنائیں گے بلکہ شہر کے منظرنامے کو بھی خوبصورت بنائیں گے۔ یہ منفرد تعمیراتی ڈھانچے وارانسی کی شناخت کو ایک اہم روحانی اور ثقافتی مرکز کے طور پر مزید مضبوطی فراہم کریں گے۔

مذہبی سفر کی معیشت کو فروغ دینا

وارانسی آنے والا ہر شخص ایک ایسی مقامی معیشت کو تقویت فراہم کرتا ہے جو ہزاروں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ پجاری، کشتی بان، سیاحتی رہنما، پھول فروش، کاریگر، دستکاری فروش، ہوٹل، ریستوران اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد وہاں آنے والے تمام افراد کی مسلسل آمد سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

بہتر رسائی اور سفر میں تاخیر کم ہونے سے سیاح زیادہ وقت شہر میں گزار سکیں گے اور اس کے ثقافتی و تجارتی مقامات کو بہتر طور پر دیکھ سکیں گے۔ بہتر رابطہ سہولیات سے سامان اور خدمات کی نقل و حرکت بھی آسان ہوگی، جس سے سیاحت، ہوٹل میں ٹھہرنے، خوردہ تجارت اور دیگر متعلقہ شعبوں میں معاشی فوائد کا سلسلہ پیدا ہوگا۔ اس لیے یہ پروجیکٹ صرف نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری نہیں ہے بلکہ مقامی روزگار اور پائیدار علاقائی اقتصادی ترقی میں بھی سرمایہ کاری ہے۔

کثیر ذرائع نقل و حمل کے رابطے کو مضبوط بنانا

پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ کوریڈور شاہراہوں، ریلوے، ہوائی اڈوں اور اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کو مربوط کرتے ہوئے ایک مؤثر کثیر ذرائع نقل و حمل کا نظام تشکیل دے گا۔ اس سے این ایچ-19، وارانسی رنگ روڈ، لال بہادر شاستری بین الاقوامی ہوائی اڈے، کاشی ریلوے اسٹیشن اور رام نگر آئی ڈبلیو اے آئی اندرونِ ملک آبی راستہ ٹرمینل تک بہتر رابطہ فراہم ہوگا، جس سے مسافروں اور مال برداری دونوں کی ہی نقل و حرکت آسان ہو گی۔

اہم اقتصادی، سماجی اور لاجسٹک مراکز کو آپس میں منسلک کرنے کے ذریعے یہ پروجیکٹ رسد کے نظام کو مؤثر بنائے گا، آخری مرحلے تک رابطے کو بہتر کرے گا، سڑک حادثات میں کمی لانے میں مدد دے گا اور مشرقی اتر پردیش میں آمدورفت کواور آسان بنائے گا۔ یہ پروجیکٹ پائیدار شہری ترقی کو بھی فروغ دے گا اور اس بات کوبھی یقینی بنائے گا کہ وارانسی قومی اور بین الاقوامی نقل و حمل کے نیٹ ورک سے مضبوطی کے ساتھ جڑا رہے۔

******

ش ح ۔ ش م ۔ م ا

Urdu No-1390 


(रिलीज़ आईडी: 2295058) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil