سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
کانپور-لکھنؤ ایکسپریس وے کے معاملے میں رعایت یافتہ کمپنی، مشاورتی ادارے اور متعلقہ افسران کے خلاف این ایچ اے آئی کی کارروائی
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 4:07PM by PIB Delhi
کانپور-لکھنؤ ایکسپریس وے پر سامنے آنے والی خامیوں کے بعد قومی شاہراہوں کی بھارتی اتھارٹی (این ایچ اے آئی) نے رعایت یافتہ کمپنی، آزاد انجینئر اور متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ متاثرہ حصے کی فوری بحالی اور معیار کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اصلاحی اقدامات بھی شروع کر دیے گئے ہیں۔ فی الحال اس مقام پر ٹریفک کا رخ موڑ دیا گیا ہے اور آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
63 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے میں 26 جولائی 2026 کو کلومیٹر(آر ایچ ایس) 64 کے قریب دائیں جانب تقریباً 300 میٹر طویل حصہ دھنسنے کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے فوری بعد این ایچ اے آئی نے بحالی کا کام شروع کر دیا اور متاثرہ مقام کے جامع تکنیکی جائزے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی منصوبے پر عمل درآمد اور نگرانی میں کوتاہی کے ذمہ دار تمام متعلقہ فریقوں کے خلاف تادیبی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
رعایت یافتہ کمپنی کو ناقص کارکردگی کا نوٹس جاری
این ایچ اے آئی نے رعایت یافتہ کمپنی میسرز پی این سی انفراٹیک لمیٹڈ کو ناقص کارکردگی کا مرتکب قرار دینے کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔ اس کے بعد کمپنی این ایچ اے آئی کے آئندہ منصوبوں کے ٹھیکوں کے لیے بولی دینے کی اہل نہیں رہے گی۔ اس کے علاوہ کمپنی کو وجہ بتاؤ نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے تاکہ وہ درج ذیل امور پر اپنا جواب پیش کرے:
- کارکردگی کی ضمانتی رقم کا 2 فیصد بطور جرمانہ عائد کیا جائے۔
- سڑکوں اور فرش بندی کے شعبے کے سربراہ اور دیگر ذمہ دار عملے کے خلاف زیادہ سے زیادہ تین سال کے لیے نااہلی کی کارروائی شروع کی جائے۔
- رعایت یافتہ کمپنی کی درجہ بندی (پیومنٹ کنڈیشن انڈیکس) کم کی جائے، جس کے نتیجے میں این ایچ اے آئی کے آئندہ منصوبوں میں اس کی اہلیت متاثر ہوگی۔
رعایت یافتہ کمپنی کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ حصے کی مکمل مرمت اپنے خرچ پر کرے، جس پر اب تک تقریباً 3 کروڑ روپے لاگت کا اندازہ ہے، اور اس کا کوئی مالی بوجھ این ایچ اے آئی پر نہیں ڈالا جائے گا۔
غفلت برتنے والے افسران کے خلاف این ایچ اے آئی کی کارروائی
این ایچ اے آئی نے منصوبے کی نگرانی اور عمل درآمد میں کوتاہی برتنے والے افسران کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کر دی ہے۔ تعمیراتی کمپنی کے پروجیکٹ منیجر جناب وویک کمار گپتا، آزاد انجینئر کے ٹیم لیڈر جناب سریندر کمار اور رہائشی انجینئر جناب یتیندر کمار کو منصوبے سے ہٹا دیا گیا ہے اور انہیں دو سال کے لیے سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت، این ایچ اے آئی اور نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے کسی بھی منصوبے میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ موجودہ پروجیکٹ ڈائریکٹر جناب نکل پرکاش ورما کو ان کے اصل محکمے میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر جناب سوربھ چورسیا، جن کے دور میں منصوبے کا بڑا حصہ تعمیر ہوا اور موجودہ پروجیکٹ ڈائریکٹر جناب نکل پرکاش ورما کے خلاف اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مبینہ غفلت برتنے پر چارج شیٹ جاری کی جا رہی ہے۔
میسرز تھیم انجینئرنگ سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف نااہلی کا نوٹس
این ایچ اے آئی نے اس منصوبے کے آزاد انجینئر، میسرز تھیم انجینئرنگ سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کو آئندہ این ایچ اے آئی منصوبوں میں حصہ لینے سے نااہل قرار دینے کے لیے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لیزر پروفائلومیٹر کے ذریعے جانچ اور ماہرین کی تحقیقات
جامع اصلاحی اقدامات کے تحت این ایچ اے آئی پورے منصوبے میں سڑک کی سطح کی حالت کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے لیزر پروفائلومیٹر ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے۔
ماہرین کی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کھڑگ پور کے پروفیسر کے ایس ریڈی کی سربراہی میں سڑکوں کے ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو اس معاملے کی تفصیلی تکنیکی جانچ کرے گی۔ ماہرین کی یہ کمیٹی خرابی کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لے کر مناسب اصلاحی اقدامات کی سفارش کرے گی۔
ٹول کی وصولی معطل
متاثرہ حصے کی مکمل مرمت ہونے تک ٹول وصولی معطل رہے گی۔ اس دوران اس ایکسپریس وے پر سفر کرنے والے مسافروں سے کوئی ٹول وصول نہیں کیا جائے گا۔ ٹول کی مد میں ہونے والے مالی نقصان کی وصولی رعایت یافتہ کمپنی سے کی جائے گی۔
قومی شاہراہوں کی بھارتی اتھارٹی (این ایچ اے آئی) قومی شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور دیکھ بھال میں اعلیٰ ترین معیار، تحفظ اور جواب دہی کو یقینی بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔
*********
ش ح۔م م ع۔ص ج
Urdu No-1385
(रिलीज़ आईडी: 2294930)
आगंतुक पटल : 14