خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: خلائی وینچر کیپیٹل فنڈ

प्रविष्टि तिथि: 05 AUG 2026 2:29PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم دفتر، عملے، عوامی شکایات و پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ خلائی وینچر کیپیٹل فنڈ 31اکتوبر2025 کو سیبی (ایس ای بی آئی) کی منظوری حاصل کرنے کے بعد قابل عمل ہوگیا ہے۔ تعاون سے متعلق معاہدے  کے مطابق ’’انترکش وینچر کیپیٹل فنڈ‘‘ میں اِن-اسپیس (آئی این-اسپیس) کی جانب سے کی گئی مجموعی سرمایہ کاری 24جولائی2026 تک 188.93 کروڑ روپے رہی، جس میں موجودہ مالی سال یعنی 27-2026  کے 182.87 کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔ انترکش وینچر کیپیٹل فنڈ کی سرمایہ کاری سے متعلق کمیٹی نے سرمایہ کاری کے لیے تین اسٹارٹ اپس کا انتخاب کیا ہے۔

انترکش وینچر کیپیٹل فنڈ (اے وی سی ایف) کو ،سیبی کے ساتھ رجسٹرڈ کیٹیگری II متبادل سرمایہ کاری فنڈ (اے آئی ایف) کے طور پر قائم کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد ابھرتے ہوئے خلائی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کو ایکویٹی سرمایہ فراہم کرنا ہے، تاکہ ٹیکنالوجی کے فروغ، تجارتی استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے میں مدد مل سکے۔

سرمایہ کاری فنڈ کے سرمایہ کاری مقصد اور سرمایہ کاری حکمتِ عملی (شق 2.7.2 اور 2.7.3) کے مطابق کی جاتی ہے اور یہ سیبی (متبادل سرمایہ کاری فنڈز) ضوابط، نجی پلیسمنٹ میمورنڈم اور دیگر فنڈ دستاویزات میں درج متعلقہ دفعات کے تحت ہوتی ہے۔

شق 2.7.2 اور 2.7.3 درج ذیل ہیں:

2.7.2 فنڈ، کا بنیادی سرمایہ کاری مقصد یہ ہے کہ ترقی کے مختلف مراحل میں موجود ابھرتے ہوئے خلائی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کو درکار ایکویٹی سرمایہ فراہم کیا جائے، ان کی سرگرمیوں میں توسیع اور نئی ٹیکنالوجیز کے تجارتی استعمال میں معاونت فراہم کی جائے، تاکہ یہ اسٹارٹ اپس بھارت کے وسیع تر خلائی عزائم میں اپنا رول ادا کر سکیں (’’سرمایہ کاری کا مقصد‘‘)۔

2.7.3 حکمتِ عملی کے طور پر فنڈ کا مقصد ترقی کے مختلف مراحل میں موجود ابھرتے ہوئے خلائی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کرنا، ان کی سرگرمیوں میں توسیع کرنا، نئی ٹیکنالوجیز کے تجارتی استعمال اور انہیں بھارت کے وسیع تر خلائی عزائم میں کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے (’’سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی‘‘)۔ فنڈ کی جانب سے کی جانے والی یا کی جانے والی تمام سرمایہ کاری اے آئی ایف ضوابط میں مقرر کردہ سرمایہ کاری کی پابندیوں، اگر کوئی ہوں، کے تحت ہوں گی۔

فنڈ مینیجر کی جانب سے تعاون سے متعلق معاہدے کے تحت فراہم کردہ سرمایہ کاری کی ضروریات کی بنیاد پر اِن-اسپیس (آئی این-اسپیس) کی طرف سے موجودہ مالی سال27-2026 کے دوران 182.87 کروڑ روپے کا تعاون فراہم کیا گیا ہے۔ فی الحال ایسا کوئی مقداری تخمینہ دستیاب نہیں ہے کہ وینچر کیپیٹل فنڈ کے اجرا سے ملک کی خلائی معیشت میں کتنے فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس فنڈ کے تحت سرمایہ کاری کا مقصد اہل خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کو ٹیکنالوجی کے فروغ، تجارتی استعمال اور سرگرمیوں میں توسیع کے لیے سرمایہ فراہم کرنا ہے۔ خلائی معیشت پر اس کے مجموعی اثرات کا جائزہ ایک مدت کے دوران پورٹ فولیو میں شامل اسٹارٹ اپس اور کمپنیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر لیا جائے گا۔

******

 

ش ح ۔ ش م ۔ م ا

Urdu No-1373


(रिलीज़ आईडी: 2294881) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil