اقلیتی امور کی وزارتت
azadi ka amrit mahotsav

اقلیتی امور کی وزارت ڈیجیٹل گورننس کو مضبوط بنانے اور عوامی خدمات کو شہریوں کے لیے مزید آسان اور مؤثر بنانے کے مقصد سے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی استعمال کررہی ہے

प्रविष्टि तिथि: 05 AUG 2026 2:08PM by PIB Delhi

اقلیتی امور کی وزارت اپنی اسکیموں اور پروگراموں کے نفاذ اور نگرانی میں شفافیت، کارکردگی اور مؤثریت کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے۔ وزارت، جہاں مناسب سمجھتی ہے، ڈیجیٹل حکمرانی کو مزید مضبوط بنانے اور شہریوں کو آسان، بہتر اور ان کی ضرورتوں کے مطابق خدمات فراہم کرنے کے لیے انڈیا اے آئی مشن کے وسیع دائرۂ کار کے تحت خودمختار مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنیوں کے تعاون سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہے۔اس سلسلے میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے کثیر لسانی چیٹ بوٹس، ورچوئل معاونت اورانٹیلی جنٹ ڈیجیٹل نظام جیسے جدید ذرائع شامل ہیں، جن کا استعمال حج خدمات، مثلاً حج سویدھا ایپ اور وزارت کی دیگر پہل کاریوں میں بھی کیا جا رہا ہے۔ ان ٹیکنالوجیوں کے استعمال میں حکومت ہند کی متعلقہ پالیسیوں اور نافذ العمل قانونی اور ضابطہ جاتی دفعات کی مکمل پابندی کی جاتی ہے۔

حکومت نے ملک میں ایک مضبوط، جامع اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے نظام کے قیام کے مقصد سے انڈیا اے آئی مشن کی منظوری دی ہے۔ اس مشن کے تحت سات اہم شعبے شامل ہیں، جن میں انڈیا اے آئی کمپیوٹ، بنیادی ماڈلز، انڈیا اے آئی ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ پہل، انڈیا اے آئی مستقبل کی مہارتیں، اے آئی کوش (انڈیا اے آئی ڈیٹاسیٹس پلیٹ فارم)، محفوظ اور قابل اعتماد اے آئی، اور انڈیا اے آئی اسٹارٹ اپ مالی معاونت شامل ہیں۔اس مشن کا مقصد ملک میں مقامی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں، اختراعات، ذمہ دارانہ اے آئی کے فروغ اور مختلف شعبوں میں سماجی و اقتصادی تبدیلی کو آگے بڑھانا ہے۔

5 نومبر 2025 کو جاری کردہ انڈیا اے آئی گورننس گائیڈ لائنز، مصنوعی ذہانت کی محفوظ، ذمہ دارانہ اور جامع ترقی کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتی ہیں۔ یہ فریم ورک اعتماد، عوام کو اولین ترجیح، پابندیوں کے بجائے اختراع، انصاف اور مساوات، جواب دہی، بنیادی طور پر قابل فہم ڈیزائن، اور تحفظ، مضبوطی و پائیداری جیسے اصولوں پر مبنی ہے۔

پرائیویسی، رازداری کے تحفظ، ڈیٹا کی حفاظت، معلوماتی پاسبانی، رسائی کے نظم و ضبط اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق مناسب حفاظتی اقدامات، ایسی کسی بھی ٹیکنالوجی پر مبنی سہولت کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔ جہاں بھی ذاتی معلومات کی کارروائی شامل ہو، وہاں ڈیجیٹل ذاتی معلومات کے تحفظ کے قانون، 2023 اور دیگر قابل اطلاق قانونی دفعات کے مطابق عمل کیا جاتا ہے، جس میں مناسب حفاظتی اقدامات کا نفاذ، شکایات کے ازالے کا نظام اور دیگر قانونی تقاضے شامل ہیں۔

وزارت کے ڈیجیٹل اقدامات اس کی اسکیموں اور پروگراموں کے مجموعی انتظام اور نگرانی کے حصے کے طور پر نافذ کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے اقلیتوں کے لیے مصنوعی ذہانت وژن مراکز سے متعلق مخصوص معلومات، جن میں درخواستیں، منظوری، رقوم کی تقسیم، استفادہ کنندگان اور نتائج کا جائزہ الگ سے مرتب نہیں کیا جاتا ہے۔

یہ معلومات اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی۔

********

 ش ح۔م م ع۔ص ج

Urdu No-1362


(रिलीज़ आईडी: 2294790) आगंतुक पटल : 15
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali